فیروز آباد : (ایجنسی)
اتر پردیش کے ضلع فیروز آباد میں ڈینگو اور وائرل بخار کی وجہ سے معصوم بچوں کی موت کا سلسلہ تھم نہیں رہا ہے۔ گزشتہ ایک ماہ میں 100 سے زائد جانیں جاچکی ہیں، جن میں زیادہ تر بچے ہیں۔ صحت کا نظام اتنا کمزور ہے کہ علاج نہ ہونے کی وجہ سے والدین اپنے بچوں کو گود میں لئے در – در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں۔
دی کوئنٹ کی رپورٹ کے مطابق اس سے پہلے کورونا وبا کی دو لہروں کا دردجھیل چکا اترپردیش اب ڈینگو اور وائرل بخار کی زد میں ہے ،حالانکہ ریاست کے مکھیا سی ایم یوگی آدتیہ ناتھ نے اس سال کے مئی میں ہی اعلان کر دیا تھا کہ ان کی سرکار کووڈ کی تیسری لہر سے نمٹنے کے لیےتیار ہے۔
تیاریوں کی وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ ممکنہ تیسری لہر بچوں کو متاثر کرسکتی ہے اور اسی لحاظ سے ضلع اور سرکاری اسپتالوں کے پیڈیاٹرک وارڈز میں بستروں کی صلاحیت میں بھی اضافہ کیا جا رہا ہے۔
اس دعوے کے چار مہینےبعد جب زمینی حقیقت جاننے کی کوشش میںفیروز آباد میڈیکل کالج پہنچا گیا توصورتحال جوں کی توں تھی۔ ضلع میں ڈینگو وبا کی شکل اختیار کر چکا ہے اور طبی نظام بھی دم توڑ چکا ہے ۔ اپنے معصوم ،بیمار بچوں کو گودمیں لئے ہوئے والدین کبھی او پی ڈی تو کبھی رجسٹریشن تو کبھی ٹیسٹنگ کاؤنٹر کے باہر علاج کی فریاد لے کر پہنچ رہے ہیں لیکن مناسب علاج نہ مل پانے کی وجہ سے مایوس ہیں۔
دی کوئنٹ نے بتایا کہ سریندر کمار کی 9 ماہ کی بیٹی نکیتا 2 دن سے آنکھیں نہیں کھول پائی ہے، نہ کچھ کھایا اور نہ پیا۔ ابتدائی رپورٹس میں انکشاف ہوا کہ نکیتا کے پلیٹ لیٹس کاؤنٹ 38000 تک گر گیا ہے لیکن اسپتال میں ایڈم نہیں کیا گیا ۔
اہل خانہ کا دعویٰ ہے کہ ان کے بچوں کی حالت بگڑنے پر اسپتال اپنے ہاتھ کھڑے کر دے رہا ہے ۔ بدحواس تیمادار نازک حالت میں اپنے بچوں کو آناً فاناً میں آگرہ اوردہلی کےبڑے اسپتالوں میں لے کر بھاگتے ہیں ۔
فیروز آباد میڈیکل کالج میں بد حالی کا عالم یہ ہے کہ ایک خاتون علاج میں لاپروائی کا الزام لگاتے ہوئے معائنہ پر آئے آگرہ کمشنر کی گاڑی کے سامنے لیٹ گئی ۔ موقع پر موجود افسران کے ذریعہ فوراً کارروائی کی یقین دہائی کرائی گئی لیکن نتیجہ کچھ نہیں نکلا۔ اس واقعہ کے کچھ دیر بعد خاتون کے 11 سال کی بہن کی موت ہوگئی۔
علاج میں بھلے ہی لاکھ لاپروائی ہو رہی ہو لیکن موت کی تعداد میں ہو رہے کھیل میں سرکار ایک بار پھر گھری ہوئی نظر آرہی ہے ۔ یوگیندر نازک حالت میں اپنی 6 سال کی بیٹی وشنوی کو گود میں لے کر اسپتال پہنچے ۔ کچھ دیر بعد ان کی بیٹی کی موت ہوگئی۔
لیکن وشنوی کی موت حکومتی اعداد و شمار سے غائب تھی۔ اس دن جاری ہونے والے سرکاری بلیٹن میں اسپتال انتظامیہ نے دعویٰ کیا کہ ان کے یہاں ایک بھی موت نہیں ہوئی۔ ضلع افسر کا کہنا ہے کہ انتظامیہ کی جانب سے اموات کا آڈٹ کیا جا رہا ہے اور اب تک 60 اموات کی تصدیق ہو چکی ہے۔










