نئی دہلی : (ایجنسی)
پنجاب میں سیاسی تبدیلی نے مرکز کی اپوزیشن سیاست میں ہلچل مچا دی ہے۔ پنجاب کی ہلچل راجستھان اور چھتیس گڑھ میں بھی ہے ۔ کانگریس کے کچھ سینئر لیڈروں کا کہنا ہے کہ راہل گاندھی پر ذمہ داری سے بچنے اور فیصلے لینے میں ہچکچاہٹ کےالزام لگتے رہے ہیں ،اس لئے کیپٹن امریندر سنگھ کو ہٹانے کے بعد راہل گاندھی کچھ اور بڑے فیصلے لے سکتے ہیں۔ یہ بدلاؤ کانگریس میں تنظیمی سطح پر بھی ہوں گے ۔ جن سے اپوزیشن پارٹیوں کو متحد کرنے کی حکمت عملی کو مضبوطی ملے گی۔
ان سب کے پیچھے پرشانت کشور کے کردار پر غور کیا جا رہا ہے جو کہ کیپٹن کے انتخابی پالیسی ساز بھی تھے۔ پنجاب میں کی گئی یہ تبدیلی 2024 کے لوک سبھا انتخابات کی حکمت عملی کا ایک حصہ ہے۔ اب کانگریس کے مرکزی کردار کو مزید مضبوط بنانے کے لیے راہل پارلیمنٹ میں قائد حزب اختلاف کی ذمہ داری سنبھال سکتے ہیں۔ دوسری طرف این سی پی سپریمو شرد پوار کو گرینڈ الائنس تیاری کرنے کا ٹاسک دیا جا سکتا ہے۔
مودی بمقابلہ راہل سیاسی بحث کو کم نہ ہونے دینے کے لیے ایک حکمت عملی بھی وضع کی گئی ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی کی سالگرہ کو بے روزگاری دیوس کے طور پر منانا ، ممتا بنرجی کو ٹی ایم سی کے اہم اخبار میں اصلی متبادل کے طور پر پیش کرنا اپوزیشن کی سیاست کا ایک نیا ہتھکنڈا بتایا جا رہا ہے۔ اپوزیشن کی یکجہتی کے لیے کام کرنے والے ایک پالیسی ساز کے مطابق آنے والے وقتوں میں کئی رہنماؤں کو قومی متبادل کے طور پر پیش کیا جائے گا ، تاکہ بی جے پی مودی بمقابلہ راہل کارڈ نہ کھیلے۔ اس کی شروعات ممتا بنرجی سے ہوچکی ہے۔
دیگر پارٹیوں کے ساتھ تال میل کے لیے این سی پی سپریمو کو یو پی اے کا باقاعدہ عہدہ دینے کی تیاری ہے۔ چاہے اسے کنوینر بنایا جائے یا قائم مقام چیئرمین بنایا جائے ، اس پر منتھن جاری ہے ۔یو پی اے کے علاوہ پوار غیر بی جے پی پارٹیوں جیسے ٹی ایم سی ، بی جے ڈی ، وائی ایس آر کانگریس ، تلنگانہ راشٹر سمیتی کے ساتھ ہم آہنگی کی ذمہ داری سنبھالیں گے ۔
کانگریس میں بھی غیر گاندھی لیڈر کو زیادہ ذمہ داری دینا اس وسیع حکمت عملی کا حصہ ہے۔ ذرائع بتا رہے ہیں کہ کمل ناتھ اور غلام نبی آزاد کو سامنے لایا جائے گا۔ کمل ناتھ سیاسی امور کے انچارج ہوں گے اور غلام نبی آزاد دیگر جماعتوں کے ساتھ رابطہ کریں گے۔ ذرائع کے مطابق سونیا گاندھی نے کمل ناتھ کو نئے کردار سے آگاہ کیا ہے۔ کمل ناتھ کو ایگزیکٹیو عہدے کے اختیارات دیے جائیں گے تاکہ وہ فیصلے کرنے کی پوزیشن میں رہیں۔
پرشانت کشور 2024 تک مہم کی حکمت عملی کی سربراہی کریں گے۔ الجھن اس بات کو لے کر ہے کہ وہ پردے کے پیچھے سےکام کریں یا پارٹی میں شامل ہوجائیں۔ انتخابی مسائل کا فیصلہ بھی ان کی ٹیم کرے گی ، جس کی ایک جھلک مودی کی سالگرہ کو بے روزگاری دیوس کے طور پر منا کر دکھائی گئی ہے۔ انتخابی مسائل پٹرول-ڈیزل کی قیمتوں، بے روزگاری ، کسانوں کی حالت زار اور کورونا کو سنبھالنے میں ناکامیوں کے گرد بنے جا رہے ہیں تاکہ قوم پرستی ، رام مندر جیسے جذباتی مسائل پر سیاسی پولرائزیشن نہ ہو۔
ذرائع کے مطابق وزیر اعظم کے عہدے کے لیے کئی علاقائی رہنماؤں کے نام آپشن کے طور پر پیش کیے جائیں گے۔ پھر آخر میں ‘’مودی سے کون لڑے گا‘ اور ’ مودی سے ملک لڑے گا‘ اور ’نو ووٹ ٹو بی جے پی‘ کے دو نعروں پر مشن 2024-کو مرکوز کیا جائے گا۔ حکمت عملی کا اسکرپٹ آنے والے اسمبلی انتخابات کے دوران مکمل کیا جائے گا۔










