اردو
हिन्दी
مئی 5, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

بھارت میں 70سال بعد بھی ہندو مسلم آبادی تناسب میں کوئی فرق نہیں آیا: سروے

5 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ گراونڈ رپورٹ
A A
0
بھارت میں 70سال بعد بھی ہندو مسلم آبادی تناسب میں کوئی فرق نہیں آیا: سروے
97
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

تحریک : سوتک بسواس

غیر سرکاری تحقیقی ادارے پیو ریسرچ سینٹر کی تازہ تحقیق کے مطابق بھارت میں ہر مذہب کے ماننے والوں کی آبادی کی شرحِ پیدائش میں کمی واقع ہوئی ہے۔ اس کے نتیجے میں سنہ 1951 کی مردم شماری سے لے کر اب تک بھارت میں مختلف مذاہب کے ماننے والوں کی آبادی کے تناسب میں کوئی خاص فرق نہیں آیا ہے۔

ایک ارب بیس کروڑ کی آبادی کے دو بڑے گروہ، ہندو اور مسلمان، بھارت کی آبادی کا 94 فیصد بنتے ہیں۔ جبکہ مسیحی، سکھ، بدھ مت کے ماننے والےاور جین مذہب کے پیروکار کل ملا کر بھارت کی آبادی کا چھ فیصد بنتے ہیں۔

پیو ریسرچ نے بھارت کے ہر دہائی پر ہونے والے اعداد و شمار اور نیشنل فیملی ہیلتھ سروے کی معلومات کی بنیاد پر اس بات کا جائزہ لیا کہ ملک میں مختلف مذاہب کے پیروکاروں کی آبادی کے تناسب میں کیا تبدیلی آئی ہے، اور اس تبدیلی کے کیا اسباب ہیں۔

سنہ1947 کے بٹوارے،جب محکوم بھارت کو ایک ہندو اکثریتی ملک بھارت اور مسلم اکثریتی ملک پاکستان میں تقسیم کیا گیا تھا، سے لے کر اب تک بھارت کی آبادی میں تین گنا اضافہ ہو چکا ہے۔

سنہ 1951 کی مردم شماری کے وقت بھارت کی آبادی 36 کروڑ تھی جو سنہ 2011 کی مردم شماری کے مطابق، ایک ارب، بیس کروڑ سے زیادہ ہو چکی ہے۔ (آزاد بھارت میں پہلی مردم شماری سنہ 1951 میں ہوئی تھی ا ور آخری مردم شماری سنہ 2011 میں ہوئی تھی۔ پیو ریسرچ سینٹر کی تحقیق کے مطابق اس عرصے میں ہر مذہب کے پیروکاروں کی آبادی میں اضافہ ہوا ہے۔

ہندوؤں کی آبادی 30 کروڑ 40 لاکھ سے بڑھ کر 96 کروڑ 60 لاکھ ہو گئی ہے۔ اسی عرصے میں مسلمانوں کی آبادی ساڑھے تین کروڑ سے 17 کروڑ 20 لاکھ ہو چکی ہے۔ اور مسیحیوں کی آبادی 80 لاکھ سے بڑھ کر دو کروڑ اسی لاکھ تک پہنچ چکی ہے۔

مختلف مذاہب کا آبادی میں تناسب

سنہ 2011 کی مردم شماری میں بھارت کی ایک ارب بیس کروڑ آبادی میں 79.8 فیصد ہندو ہیں۔ دنیا کے 94 فیصد ہندو انڈیا میں رہتے ہیں۔
مسلمانوں کی تعداد انڈیا کی آبادی کا 14.2 فیصد ہے۔ انڈیا دنیا کی سب سے بڑی مسلم آبادیوں میں سے ایک ملک ہے۔ صرف انڈونیشیا میں مسلمان آبادی کی تعداد انڈیا کے مسلمانوں کی تعداد سے زیادہ ہے۔
مسیحی، سکھ، بدھ مت کے ماننے والے اور جین مت کے پیروکار کل ملا کر بھارت کی آبادی کا چھ فیصد حصہ بنتے ہیں۔
سنہ 2011 کی مردم شماری میں صرف تیس ہزار افراد نے اپنے آپ کو لادین بتایا۔
تقریبا 80 لاکھ افراد نے کہا کہ ان کا چھ بڑے مذہبی گروہوں میں سے کسی سے تعلق نہیں ہے۔
بھارت میں 83 چھوٹے مذہبی گروہ تھے اور ہر ایک کے کم از کم 100 پیروکار تھے۔
بھارت کی آبادی میں ہر ماہ تقریباً دس لاکھ افراد کا اضافہ ہوتا ہے، جس کا مطلب ہے کہ اس کی آبادی سنہ 2030 تک آج کے سب سے زیادہ آبادی والے ملک چین سے بڑھ جائے گی۔
(سورس: مردم شماری سنہ 2011، پیو ریسرچ سینٹر)

بڑے مذہبی گروہوں میں اب بھی مسلمانوں میں سب سے زیادہ شرح پیدائش (2015 میں 2.6 بچے فی عورت) ہے۔ اس کے بعد ہندوؤں کی شرح پیدائش شرح (2.1) بنتی ہے۔ جین برادری میں سب سے کم شرح پیدائش یعنی 1.2 فی عورت ہے۔

تحقیق کے مطابق عمومی طور پر شرح پیدائش کا تناسب بڑی حد تک وہی ہے جو سنہ 1992 میں تھا، جب مسلمانوں میں سب سے زیادہ شرح پیدائش تھی (4.4) اس کے بعد ہندو (3.3) تھے۔

محققین کہتے ہیں کہ ’بھارت کے مذہبی گروہوں کے درمیان بچے پیدا کرنے میں فرق عام طور پر پہلے کی نسبت بہت کم ہے۔‘

آبادی میں اضافے کی سست روی بھارت کے اقلیتی گروہوں میں زیادہ نمایاں نظر آتی ہے جن میں ابتدائی دہائیوں میں شرح پیدائش ہندوؤں کی نسبت کہیں زیادہ تھی۔

پیو سینٹر میں امورِ مذاہب کی محقق، اسٹیفنی کرامر کہتی ہیں کہ مسلمانوں کی ایک نسل میں 25 سال سے کم عمر کے دو بچوں کی پیدائش میں کمی قابل ذکر ہے۔

سنہ 1990 کی دہائی کے اوائل میں بھارت کی خواتین کے بچوں کی پیدائش کی تعداد اوسطاً 3.4 فی عورت سے سنہ 2015 میں 2.2 فی عورت رہ گئی تھی۔ اسی طرح اسی عرصے میں مسلمانوں میں شرح پیدائش 4.4 فی عورت سے 2.6 فی عورت سے بھی زیادہ کم ہو گئی۔

ان ساٹھ برسوں میں بھارت کی آبادی میں مسلمانوں کا حصہ چار فیصد بڑھا، جبکہ ہندوؤں کا حصہ تقریباً اتنے ہی تناسب سے کم ہوا۔ جبکہ باقی دیگر مذاہب میں اضافے کا رجحان مستحکم رہا۔

اسٹیفنی کرامر نے بی بی سی کو بتایا کہ ‘ڈیموگرافک تبدیلی کی معمولی مقدار کو اس حقیقت سے سمجھایا جا سکتا ہے کہ مسلم خواتین نے کم از کم حال ہی میں دیگر انڈین خواتین کے مقابلے میں اوسطاً زیادہ بچے پیدا کیے ہیں۔

تحقیق کے مطابق، خاندانی سائز بہت سے عوامل سے متاثر ہوتے ہیں، جس کی وجہ سے ‘یہ بتانا ناممکن ہے کہ آیا صرف مذہبی وابستگی شرح پیدائش پر اثر انداز ہوتی ہے۔’بہت سے ممالک کے برعکس، بھارت میں آبادیاتی تبدیلی پر ہجرت یا مذہبی تبدیلی کے اثرات ‘نہ ہونے کے برابر‘ہیں۔

اب تک بھارت میں مذہبی آبادی کی معمولی سی تبدیلی کا ‘سب سے بڑا سبب ’شرح پیدائش‘ رہی ہے۔

آبادی میں اضافہ اس حقیقت کی وجہ سے بھی ہوا کہ ایسے اوسطاً جوان گروہ جن میں نوجوان عورتوں کی تعداد قدرے اوسطاً بوڑھے گروہوں کی نسبت زیادہ تھی وہ ‘بچے پیدا کرنے کے اپنے ابتدائی برسوں میں جلد داخل ہوتی ہیں اور اس کے نتیجے میں بوڑھی آبادی کے مقابلے میں ان کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوتا ہے۔

اس تحقیق کے مطابق، سنہ 2020 تک ہندوؤں کی اوسط عمر 29 ہے، جبکہ مسلمانوں کی 24 اور عیسائیوں کی 31 ہے۔

بھارت میں آبادی میں اضافے کے دیگر اسباب میں خواتین میں تعلیم کی سطح (اعلیٰ تعلیم یافتہ خواتین اکثر دیر سے شادی کرتی ہیں اور کم تعلیم یافتہ خواتین کے مقابلے میں ان کا پہلا بچہ بعد میں ہوتا ہے) اور دولت (غریب خواتین زیادہ بچے پیدا کرتی ہیں تاکہ وہ گھریلو کام میں حصہ ڈال سکیں اور آمدنی میں اضافہ کرسکیں)۔

یہ نتائج مکمل طور پر حیران کن نہیں ہیں کیونکہ حالیہ دہائیوں میں بھارت کی مجموعی شرح پیدائش تیزی سے کم ہو رہی ہے۔ اوسطاً ایک عام انڈین عورت کی شرح پیدائیش2.2 ہے۔

یہ امریکہ (جہاں 1.6 بچے فی عورت شرح پیدائش ہے) جیسے ممالک کی شرحوں سے زیادہ ہے، لیکن خود بھارت کی سنہ 1992 میں (3.4) یا سنہ 1950 (5.9) کی شرح پیدائش سے کم ہے۔

اس تحقیق کی ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ صرف چند ہندوستانی ایسے ہیں جو کہتے ہیں کہ ان کا کسی مذہب سے تعلق نہیں ہے۔ جبکہ عالمی سطح پر مذہب کے خانے کو خالی چھوڑنے والوں کی تعداد – مسیحیوں اور مسلمانوں کے بعد – تیسرے نمبر آتی ہے۔

اسٹیفنی کرامر کا کہنا ہے کہ ‘اس لیے یہ دلچسپی کی بات ہے کہ اتنے بڑے ملک میں مذہب سے لاتعلق افراد بہت ہی کم تعداد میں ہیں۔

اس کے علاوہ کئی مذہبی گروہ بھارت میں ‘غیر معمولی حد تک مرکوز ہیں، دنیا بھر کی ہندوؤں کی کل آبادی کا 94 فیصد حصہ بھارت میں رہتا ہے، اسی طرح جینوں کی اکثریت اور 90 فیصد سے زیادہ سکھ بھی بھارت میں رہتے ہیں۔ دنیا میں زیادہ تر سکھ صرف ایک بھارت ریاست پنجاب میں رہتے ہیں۔

اگربھارت کا موازنہ چین سے کریں، جس کی آبادی بھارت سے زیادہ ہے، دنیا کے بدھ مت کے پیروکاروں کی نصف آبادی چین میں رہتی ہے اور سب سے زیادہ لا دین افراد کی آبادی بھی چین میں رہتی ہے۔

لیکن چین میں ‘کسی بھی بڑے مذہبی گروہ کی 90 فیصد آبادی جیسی صورت نہیں ہے۔ اسٹیفنی کرامر کہتی ہیں کہ ‘واقعی کوئی ایسا ملک نہیں جو انڈیا جیسا مذہبی منظر نامہ پیش کرتا ہو۔

بشکریہ : سوتک بسواس ، بی بی سی )

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

ہم متبادل ورلڈ آرڈر کے حق میں، ٹیرف متاثرین کے لیے سرکار ہر ضروری قدم اٹھائے: امیر جماعت
گراونڈ رپورٹ

ہم متبادل ورلڈ آرڈر کے حق میں، ٹیرف متاثرین کے لیے سرکار ہر ضروری قدم اٹھائے: امیر جماعت

06 ستمبر
سنبھل فساد کی تحقیقاتی رپورٹ میں ایسا کیا ہے کہ یوگی حکومت پر اٹھے سوال دبا دیئے گیے؟
گراونڈ رپورٹ

سنبھل فساد کی تحقیقاتی رپورٹ میں ایسا کیا ہے کہ یوگی حکومت پر اٹھے سوال دبا دیئے گیے؟

01 ستمبر
آسام:بنگالی بولنے والے مسلمانوں کے خلاف نفرت وتشدد میں بےحد اضافہ:India Hate Lab نے نیا ڈیٹا جاری کیا
گراونڈ رپورٹ

آسام:بنگالی بولنے والے مسلمانوں کے خلاف نفرت وتشدد میں بےحد اضافہ:India Hate Lab نے نیا ڈیٹا جاری کیا

03 اگست
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
Humayun Kabir Owaisi Video Row

ہمایوں کبیر کے خفیہ ویڈیو نے اویسی پر بی جے پی کی بی ٹیم کے الزام کو تقویت دی، اتحاد ٹوٹا ، سیاسی بصیرت پر بھی سوال

اپریل 10, 2026
یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

اپریل 10, 2026
DD News Anchor Controversy News

پبلک ٹیکس سے چلنے والے ‘ڈی ڈی نیوز’ کے اینکر نے کہا” ساورکر کے چپل کی دھول بھی نہیں راہل گادھی

اپریل 13, 2026
طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

ستمبر 19, 2021
امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

اپریل 21, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

اپریل 19, 2026

حالیہ خبریں

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN