نئی دہلی: (ایجنسی)
امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے اس دعوے کی تردید کی ہے جس میں اس کے فرنٹ پیج پر وزیر اعظم نریندر مودی کو ’دھرتی کی آخری امید‘ اور’دنیا کا سب سے طاقتور لیڈر‘ قربتایا جا رہا ہے ۔
دراصل گزشتہ کچھ دنوں سے سوشل میڈیا پر نیویارک ٹائمز کا فرنٹ پیج بتا کر ایک کلپ شیئر کی جارہی ہے جس میں پی ایم مودی کی بڑی سی تصویر شائع ہوئی ہے ۔ اس تصویر کے ساتھ لکھا ہے – ’دنیا کی آخری اورسب سے اچھی امید، دنیا کے سب سے مقبول اور سب سے طاقتور لیڈر ۔‘
کچھ گروپس اور لوگوں نے فیس بک ، ٹوئٹر اور وہاٹس ایپ جیسے پلیٹ فارمز پر اسے امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز کا صفحہ قرار دے کر وائرل کیا۔ حالانکہ جلد ہی اس تصویر کی حقیقت سامنے آ گئی۔
فیکٹ چیکرس نے بتایا تھا کہ یہ ایک فرضی کلپنگ ہے اور نیویارک ٹائمزنے ایسی کوئی خبر نہیں شائع کی ہے ۔ فرنٹ پیج پر پی ایم مودی سے جڑی کوئی خبر نہیں تھی ۔
اب نیو یارک ٹائمز نے آفیشیل طور پر اس کلپنگ کو فرضی قرار دیا ہے۔ نیو یارک ٹائمز کمیونی کیشن کے ٹوئٹر ہینڈل نے ٹویٹ کیا ،’یہ مکمل طور پر غلط تصویر ہے۔‘
درحقیقت 26 ستمبر کو نیو یارک ٹائمز کے صفحہ اول پر پی ایم مودی سے متعلق کوئی خبر شائع نہیں ہوئی تھی۔ ٹویٹ میں ان خبروں اور رپورٹس کا لنک بھی دیا گیا ہے جس میں نیو یارک ٹائمز نے وزیر اعظم مودی کے بارے میں واقعہ لکھا ہے ۔ حال ہی میں وزیراعظم نریندر مودی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے نیویارک گئے تھے اور اس دوران یہ تصویر وائرل ہوئی تھی۔










