احمد آباد :
احمد آباد کی سی بی آئی کی خصوصی عدالت نے 2004 عشرت جہاں فرضی انکاؤنٹر کیس میں پولیس افسران جی ایل سنگل ، ترون باروٹ اور انجو چودھری کو بری کردیا۔عدالت نے کہا کہ خفیہ رپورٹ کی تردید نہیں کیا جا سکتی، یہی وجہ ہے کہ تینوں پولیس افسران کو بری کیا جاتا ہے۔ تینوں پولیس افسران کو بری کرتے ہوئے عدالت نے کہا کہ عشرت جہاں لشکر طیبہ کی دہشت گرد تھی۔ سی بی آئی کے خصوصی جج وی آر راول نے ان تینوں کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کی اجازت مانگی تھی۔سنٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن (سی بی آئی) نے 20 مارچ کو عدالت کو بتایا تھاکہ ریاستی حکومت نے تینوں ملزموں کے خلاف استغاثہ کی منظوری سے انکار کردیا ہے۔
سی بی آئی کی جانب سے پولیس افسران کی عرضی کی مخالفت نہ کئے جانے کی وجہ سے معاملہ پہلے ہی ختم ہو چکا تھا۔ اس سے قبل 4 افسران کو بری کرنے کے خلاف بھی سی بی آئی نے اپیل نہیں کی تھی۔ اسی بنیاد پر تینوں پولیس افسران نے خود کو الزامات سے بری کئے جانے کا مطالبہ کیا تھا۔
خیال رہے کہ عشرت جہاں اور اس کے تین معاونین جاوید شیخ، امجد علی اور ذیشان جوہر کو کرائم برانچ نے جون 2004 میں ایک انکاؤنٹر کے دوران ہلاک کر دیا تھا۔ اس انکاؤنٹر کے بعد گجرات کے سابق ڈائریکٹر جنرل آف پولیس پی پی پانڈے، سابق آئی پی ایس اور کرائم برانچ کے سربراہ ڈی جی ونجارا اور ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس این کے امین کو بھی ملزم بنایا گیا تھا۔ تینوں افسران کو عدالت پہلے ہی بری کر چکی ہے۔
حالانکہ ایک ہائی کورٹ کے ذریعہ تشکیل کی گئی خصوصی جانچ ٹیم نے نتیجہ اخذ کیا تھا کہ انکاؤنٹر فرضی تھا ، جس کے بعد سی بی آئی نے مختلف پولیس افسران کے خلاف معاملہ درج کیا تھا۔








