نئی دہلی:
دارالحکومت دہلی کے تمام ریستورانوں میں اب یہ بتانا لازمی ہوگا کہ پیش کیا گیا گوشت جھٹکا ہے یا حلال ۔ دارالحکومت دہلی کی شمالی میونسپل کارپوریشن نے اس بابت ایک تجویز منظور کی۔ اس فیصلے کے بعد شمالی میونسپل کارپوریشن میں آنے والے تمام ریستوراں اور گوشت کی دکانوں کو اس سے متعلق معلومات دینا لازمی ہوگا ۔
ناردرن میونسپل کارپوریشن کے اس فیصلے کے ساتھ ہی یہ فیصلہ دہلی کی تینوں میونسپل کارپوریشنوں میں لاگو ہوگیا ہے۔ در اصل اسی طرح کی تجاویز مشرقی دہلی میونسپل کارپوریشن اور جنوبی دہلی میونسپل کارپوریشن نے بھی منظور کرچکی ہے۔
بتادیںکہ شمالی دہلی میونسپل کارپوریشن میں 104 وارڈ آتے ہیں ، ان تمام وارڈوں میں بڑی تعداد میں ریستوراں اور گوشت کی دکانیں ہیں۔ ان میں 90 فیصد دکانوں میں گوشت پیش کیا جاتا ہے۔ ناردرن میونسپل کارپوریشن نے یہ تجویز منظور کی ہے لیکن اس سے متعلق گائڈ لائن ابھی جاری نہیں کی گئی ہے۔ کارپوریشن کی طرف سے کہا گیا ہے کہ انہیں جلد ہی جاری کردی جائے گی۔
اس تجویز کے بارے میں نارتھ دہلی میونسپل کارپوریشن کے میئر یوگیش ورما نے کہا کہ ہندو اور سکھ مذہب میں حلال گوشت منع ہے۔ یہ تجویز لوگوں کے جذبات کو مدنظر رکھتے ہوئے منظور کی گئی ہے۔ شمالی دہلی میونسپل کارپوریشن کے کارپوریشن کمشنر کو ہدایات دی گئی ہیں کہ وہ اس کو پورے علاقے میں نافذ کریں۔ اس کے ساتھ ہی کارپوریشن کے تحت تمام دکانوں ، ریستوراں اور ڈھابوں کو ہدایات دیں کہ وہ اسے لازمی طور پر بتائیں ۔








