اردو
हिन्दी
مئی 8, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

افغان سانحہ: ہندوستان کیلئے بہت کچھ سیکھنے کا موقع

5 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ فکر ونظر, مضامین
A A
0
افغان سانحہ: ہندوستان کیلئے بہت کچھ سیکھنے کا موقع
46
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

عبدالسلام عاصم

بلیم گیم پہلے صرف اپنے اعمال سے ناتواں اور کمزور قوموں کا کھیل ہوا کرتا تھا۔ بُرا ہو نیابتی جنگوں کے نتیجے میں ترقی یافتہ اور پسماندہ ملکوں کی رات دن کی اُس صحبت کاجس کے زیر اثر اب طاقتور قومیں بھی بلیم گیم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے لگی ہیں۔ اِس کھیل میں جس طرح کمزوروں کی قیادت کمزور ترین قوم کیا کرتی ہے ٹھیک اسی طرح طاقتوروں میں بھی سب سے طاقتور امریکہ نے بلیم گیم کے لیگ مقابلے میں اپنی اننگ کی شروعات کر دی ہے۔

طالبان کا افغانوں کی قسمت کا پھر سے فیصلہ ساز بن جانا محض ایک واقعہ نہیں۔ مہذب دنیا جہاں اِس تبدیلی پر حیرت اور افسوس کا اظہار کر رہی ہے وہیں یساری چین اور یمینی پاکستان سمیت ایک سے زیادہ انتہائی نظریاتی سوچ رکھنے والے عناصر اِس موقع کو بھنانے میں لگ گئے ہیں۔ اِس رُخ پرامریکہ سردست بلیم گیم کھیل رہا ہے۔ اسکور بورڈ کی تازہ بیانیہ سرخی یہ ہے: افغانستان میں شکست 20 سالہ غلطیوں کا مجموعی شاخسانہ؛ ابتدائیہ میں امریکی جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل مارک اے ملی کا یہ بیان پیش کیا گیا ہے کہ انہوں نے افغانستان میں 20 سال تک امریکی موجودگی کے باوجود وہاں سے پاکستان فرار ہونے کی طالبان کی قابلیت کو ایک بڑا اسٹریٹجک مسئلہ قرار دیا ہے۔ امریکی ایوان نمائندگان کی مسلح افواج کی کمیٹی میں اپنے حالیہ بیان میں امریکی فوج کے اعلیٰ عہدیداران نے بھی طالبان کے ساتھ ٹرمپ انتظامیہ کے معاہدے کو وسط اگست میں کابل کے سقوط کا ایک اہم سبب گردانا تھا۔ جنرل مارک ملی نے ایوان بالا کے اجلاس کے دوران اپنے اظہار خیال میں یہ مطالبہ بھی کیا ہے کہ امریکہ کو چاہئے کہ وہ بطور پناہ گاہ پاکستان کے کردار کا بخوبی جائزہ لے۔ میونخ عالمی سلامتی کانفرنس کی افتتاحی تقریب سے ابھی پچھلے سال خطاب میں جرمن صدر فرینک والٹر نے عالمی امن کو تباہ کرنے کیلئے بڑی طاقتوں امریکہ، چین اور روس کو مورد الزام گردانا تھا اور کہا تھا کہ ان کی پالیسیوں کی وجہ سے دنیا میں نیوکلیائی ہتھیاروں کی نئی دوڑ کا اندیشہ پیدا ہوگیا ہے، دنیا نفرتوں کی آگ جل رہی ہے۔تینوں پر عالمی معاملات میں بے جا مداخلت کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے انہوں نے عراق، شام اور افغانستان میں ان بڑی قوتوں کے کردار پر کڑی نکتہ چینی بھی کی اور اُن سے مطالبہ کیا کہ وہ عالمی امن میں خلل ڈالنا بند کریں۔

بلیم گیم کے تازہ ایپی سوڈ میں قبل ازیں سابق امریکی صدر ڈونیلڈ ٹرمپ اور موجودہ صدر جوزف بائیڈن بھی ایک دوسرے پر افغان رخی الزام لگا چکے ہیں۔ اول الذکر کا جہاں یہ کہنا ہے کہ: حاصلِ انخلا ہے یہ انجام۔ وہیں جواب آں غزل میں بائیڈن نے کہا کہ: تم ہو معمار راہِ عجلت کے۔ بہر حال اب تو جو ہونا تھا وہ ہوگیا۔ آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا! ویسے جس عجلت کا مظاہرہ کرنے کا امریکہ پر الزام لگایا جا رہا ہے اس پر بہ انداز دیگر پاکستانی شفاخانے کے حکماء بھی معترض ہیں۔ وہ اٹھتے بیٹھتے بس یہی کہتے پھر رہے ہیں کہ ہمارے استقامت والے نسخے پر اگر امریکہ نے عمل کیا ہوتا تو انخلا میں سُرعت کی یہ شکایت پیدا نہیں ہوتی۔

قوموں کی تاریخیں یوں تو روزانہ ہی مرتب ہوتی رہتی ہیں لیکن کبھی کبھی کسی ایک باب کے مندرجات آئندہ کے ایک سے زیادہ ابواب کی ترتیب پر مثبت اور منفی دونوں طرح اثر انداز ہوتے ہیں۔ اب یہ مختلف النوع قاریوں پر منحصر ہے کہ وہ ان مندرجات سے کس طرح پیش آتے ہیں۔ حسبِ روایت رٹنے والے قاری جہاں حسبِ موقع واقعات کو دہراتے اور دنیا کماتے رہتے ہیں، وہیں ایسے واقعات سے علمی استفادہ کرنے والے حلقوں کا نام وقت کا مورخ نسلِِ آئندہ کے محسنوں کی فہرست میں شامل کر لیتا ہے۔ افغانستان میں یومیہ بنیاد پر اب جو واقعات مرتب ہوں گے بلکہ ہونا شروع ہو گئے ہیں وہ ایک سے زیادہ حلقوں کو حسبِ توفیق متاثر کریں گے۔

افغان سانحہ ہندستان کو جو سردست سیکولرزم اور قوم پرستی کی تشریحِ نو سے گزر رہا ہے، بہت کچھ سیکھنے کا راست موقع فراہم کرتا ہے۔ بظاہر تو دنیا کل کی طرح آج بھی ایک سے زیادہ تہذیبوں کی نمائندگی کا اسٹیج ہے لیکن گلوبلائزیشن نے بباطن اِس منظر نامے کو بھی انقلاب آشنا کیا ہے۔ یعنی اب کوئی تہذیب دنیا کے کسی ایک ملک یا خطے کی نمائندگی نہیں کرتی۔ اب ہر ملک/خطہ ایک سے زیادہ تہذیبوں کے سنگم کے طور پر ابھر کر سامنے آ رہا ہے۔ عالمی وحدت میں اس کثرت سے جن حلقوں نے بے کم و کاست اتفاق کر لیا ہے ان میں یورپی ممالک سر فہرست ہیں، جن سے رنگ اور نسل کی تفریق میں بدستور اُلجھے امریکہ کو سبق لینا چاہئے۔ دوسری طرف مغربی ایشیا میں آلِ ابراہیم نے بھی مرحلہ وار اِس تہذیبی سنگم سے اتفاق کرنا شروع کر دیاہے۔ معاہدہء ابراہیم کے ایک سال پورے ہو رہے ہیں۔ تبدیلی کے اِس موڑ سے ابھی اسرائیلی شدت پسندوں اور حماس کو گزرنے میں دشواریوں کا سامنا ہے۔ امید کی جانی چاہئے کہ آنے والے دنوں میں اُنہیں بھی اِس نوع کی عملی مثالیں عملاً متاثر ہونے کی توفیق بخشیں گی۔

اندیشوں پر امکانات کو ترجیح دینے والے ہمیشہ آزمائشوں سے کامیاب گزرتے آئے ہیں۔ تاریخ کے سفر کا یہ نیاباب جس دن مکمل ہوگا اس کے اثرات دور دور تک مرتب ہوں گے۔ جنوبی ایشیائی ممالک جب اِس سے استفادہ کریں گے تو برصغیر بھی انشاء اللہ اس سے غیر مانوس نہیں رہے گا۔ اس رخ پرجو سب سے بڑی تبدیلی آئے گی وہ انسانی وسائل کے بابرکت استعمال اور بہبود کے رخ پررونما ہو گی۔ انسانی وسائل کے احسن فروغ میں قدرت جب بڑی طاقتوں سے کام لے گا تو ہندستان اور چین کے درمیان اشتراک کا دائرہ چین اور پاکستان کی کسی راہداری سے کہیں زیادہ گنجائشوں کا حامل ہوگا۔ دیر بس ادراک کے اُس سورج کے نمودار ہونے کی ہے جو اندیشوں کے ایک ایسے بادل کی اوٹ میں ہے جس کی دبازت فطری طور پر ختم ہو رہی ہے۔

اس وقت دنیا بھر میں جدید تعلیم کو امن کی کوششوں سے جوڑنے کی ایک مہم چلی ہوئی ہے۔ ہر نوع کے علم کا چونکہ بنیادی تعلق معاشرے سے ہے اس لئے ماہرین کی کوشش ہے کہ اس رُخ پر حکومتوں کو متوجہ کیا جائے اور انہیں سماجی مفادات کی اہمیت سے اس طرح روشناس کیا جائے کہ اُن کی محدود نظریاتی سوچ از خود اُن کے نزدیک مسترد کرنے کی چیز میں تبدیل ہو جائے۔ اس کوشش سے متاثر سعودی عرب کی مثال سب کے سامنے ہے۔ ورلڈ بینک کے مطابق حالیہ برسوں میں پرتشدد تنازعات کی بعض معاشروں نے بھاری قیمت چکائی ہے۔ عصری متشدد تنازعات پیچیدہ ہی نہیں طول بھی پکڑنے لگے ہیں۔ ان میں اکثر غیر حکومتی گروپوں اور علاقائی اور بین اقوامی کرداروں کی شمولیت سے انسانی زندگی کے تقدس کو زبردست نقصان پہنچا ہے۔

جدید تعلیم کو امن کی کوششوں سے جوڑنے کی کوشش میں تیزی اُس وقت آئی جب اس سچ کا قریب سے ادراک کیا گیا کہ ذہنی پراگندگی پھیلانے میں نظریاتی درسگاہیں بھی ایک کردار ادا کرتی ہیں۔ اعلی تعلیم حاصل کرنے والے طلبا کے اندر نظریاتی سوچ کی موجودگی نے تعلیم، تنازعات اور امن کو جس انداز سے عالمی خبروں کا حصہ بنا دیا ہے، اس کا نوٹس لینے کے بعد اب کئی یونیورسٹیاں امن اور تنازعات کے مطالعے کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرنے لگی ہیں۔ معاشرتی عدم مساوات، نسلی تفریق اور تشدد کی ثقافت کو فروغ دینے والی درسگاہوں کے مقابلے میں یونیورسٹیوں کی جانب سے عصری مضرت رساں سماجی چیلنجوں کا موثرجواب دینے کا کردار کتنا کامیاب رہے گا یہ تو وقت بتائے گا لیکن اتنا طے ہے کہ اندیشوں پر امکانات کو ہی فتح حاصل ہو گی۔

(یہ مضمون نگار کے ذاتی خیالات ہیں)

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

US Iran War Strategic Defeat News
مضامین

امریکہ – اسرائیل – ایران جنگ میں امریکہ کی اسٹریٹجک ہار پہلے سے طے

23 مارچ
Hormuz Strait Iran Speech
مضامین

ایران میں قیادت کی تبدیلی اور مجتبیٰ خامنہ ای: ایک تجزیاتی مطالعہ

12 مارچ
Modi Israel Gaza Questions Debate
مضامین

پی ایم مودی کے دورہ اسرائیل میں غزہ کے مصائب کا ذکر تک نہ ہونے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ کیا چاہتا ہے بھارت ؟

28 فروری
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
Humayun Kabir Owaisi Video Row

ہمایوں کبیر کے خفیہ ویڈیو نے اویسی پر بی جے پی کی بی ٹیم کے الزام کو تقویت دی، اتحاد ٹوٹا ، سیاسی بصیرت پر بھی سوال

اپریل 10, 2026
طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

ستمبر 19, 2021
DD News Anchor Controversy News

پبلک ٹیکس سے چلنے والے ‘ڈی ڈی نیوز’ کے اینکر نے کہا” ساورکر کے چپل کی دھول بھی نہیں راہل گادھی

اپریل 13, 2026
یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

اپریل 10, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

اپریل 21, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

اپریل 19, 2026

حالیہ خبریں

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN