اردو
हिन्दी
مئی 5, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

بھارت میں جہاد کی ایک نئی قسم ’مارکس جہاد‘

5 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ گراونڈ رپورٹ
A A
0
بھارت میں جہاد کی ایک نئی قسم ’مارکس جہاد‘
178
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

نئی دہلی: ( ڈبی ڈبلیو جاوید اختر)

بھارت کی موقر دہلی یونیورسٹی میں ان دنوں انڈر گریجویٹ کورسز میں داخلے جاری ہیں۔ دہلی یونیورسٹی کے تحت 77 کالج ہیں، جن میں مجموعی طور پر تقریباً 70 ہزار طلبہ کو داخلہ ملتا ہے۔ دہلی یونیورسٹی میں داخلہ لینا تقریباً ہر طالب علم کا خواب ہوتا ہے۔ اس سال بھی چار لاکھ 38 ہزار سے زیادہ طلبہ اپنی قسمت آزما رہے ہیں۔ ایسے میں دہلی یونیورسٹی کے کروڑی مل کالج میں فزکس کے پروفیسر راکیش پانڈے کے ایک بیان نے ہنگامہ برپا کر دیا ہے، جو سیاسی رنگ بھی اختیار کرتا جا رہا ہے۔

پروفیسر راکیش پانڈے نے گزشتہ ہفتے اپنی فیس بک پر لکھا،”ایک کالج میں ایک کورس میں صرف 20 سیٹیں ہیں، لیکن 26 طلبہ کو داخلہ دینا پڑا کیونکہ ان سب نے کیرالا بورڈ سے 100 فیصد مارکس حاصل کیے تھے۔گزشتہ چند برسوں سے کیرالا بورڈ مارکس جہاد کر رہا ہے۔‘‘

Love planned to help spread your religion is 'Love Jihad' and Marks distributed to help spread your ideology is "Marks Jihad". Make no mistakes, students with perfect 100% marks from Kerala Board is occupying admission seats of premier colleges of DU. @OpIndia_com

— rakesh kumar pandey (@rakesh__pandey) October 7, 2021

پروفیسر راکیش پانڈے ہندو قوم پرست تنظیم آر ایس ایس کے رکن ہیں۔ وہ آر ایس ایس سے تعلق رکھنے والے اساتذہ کی تنظیم نیشنل ڈیموکریٹک ٹیچرس فرنٹ کے صدر بھی رہ چکے ہیں۔ پروفیسرپانڈے نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ کیرالا کے لوگوں نے جس طرح جواہر لال نہرو یونیورسٹی (جے این یو) پر ’’قبضہ‘‘ کر لیا ہے وہ دہلی یونیورسٹی پر قبضہ کرنے کے لیے اسی طرح کی کوشش کر رہے ہیں۔انہوں نے الزام لگایا، ’’یہ کیرالا سے دہلی یونیورسٹی میں در اندازی کی کوشش ہے۔ ہم اس رجحان کو پچھلے کئی برسوں سے دیکھ رہے ہیں۔ کیرالا بورڈ اپنے طلبہ کو بہت زیادہ مارکس دیتا ہے۔ دہلی یونیورسٹی میں داخلے کے لیے کیرالا سے آنے والے تقریباً ہر طالب علم کے پاس 100 فیصد مارکس ہوتے ہیں۔ ایسے میں ہم ان کو داخلہ دینے سے انکار نہیں کر سکتے۔ ان کا داخلہ تقریباً یقینی ہوتا ہے۔‘‘

پروفیسر پانڈے نے مزید کہا،’’کیرالا سے آنے والے بیشتر طلبہ انگلش یا ہندی میں بات نہیں کر پاتے ہیں جو کہ دہلی یونیورسٹی میں مستعمل بنیادی زبان ہے۔ ٹیچر ملیالم بول نہیں سکتے۔ آخر وہ یہاں کیوں آتے ہیں؟ میرے خیال میں یہ ایک سازش ہے۔ وہ یہاں اپنے جہاد اور بائیں بازو کا پروپیگنڈہ پھیلانا چاہتے ہیں۔ کیرالا جہادی اور بائیں بازو کی سرگرمیوں کا مرکز رہا ہے۔ اس صورت حال کو روکنے کی ضرورت ہے۔ اسے روکنے کے لیے ہمیں داخلے کی شرائط اور طریقہ کار کو بدلنا ہو گا۔‘‘

پروفیسر پانڈے کے اس بیان کے خلاف احتجاج کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔ بائیں بازو کی طلبہ تنظیم اسٹوڈنٹس فیڈریشن آف انڈیا (ایس ایف آئی) اور کانگریس پارٹی کی اسٹوڈنٹس ونگ نیشنل اسٹوڈنٹس یونین آف انڈیا (این ایس یو آئی) نے جمعہ 8 اکتوبر کو دہلی یونیورسٹی میں احتجاجی مظاہرہ کیا۔ ایس ایف آئی کے صدر وی پی سانو نے کہا،’’یہ کیرالا کے طلبہ کو نیچا دکھانے اور بدنام کرنے کی کوشش ہے کہ وہ دوسروں کی قیمت پر داخلہ لے رہے ہیں۔‘‘

A student from Kerela rightly pointed out today that these "teachers" only want to see Sharma, Gupta, Mishra, Pandey etc etc from elite schools of Delhi to enter these so-called prestigious colleges. Anyone who breaks their hegemony is a "Jihadi". https://t.co/R8oRo26QvO

— Kawalpreet Kaur (@kawalpreetdu) October 7, 2021

دوسری طرف آر ایس ایس کی اسٹوڈنٹس ونگ اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد (اے بی وی پی) نے پروفیسر پانڈے کے الزامات کی تائید کرتے ہوئے مختلف ریاستی ایجوکیشن بورڈ اور بالخصوص کیرالہ بورڈ کی طرف سے بارہویں کے امتحان میں طلبہ کو بہت زیادہ مارکس دینے پر سوالات اٹھائے ہیں۔ انہوں نے بھی اس سلسلے میں مظاہرہ کیا۔ اے بی وی پی کا کہنا ہے،’’ریاستی بورڈ اتنے زیادہ مارکس دے رہے ہیں، جس کی وجہ سے دیگر طلبہ کو نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔‘‘

اس تنازعے نے سیاسی رنگ اختیار کرنا شروع کر دیا ہے۔متعدد سیاسی رہنماؤں نے اسے ریاستوں اور طلبہ کے درمیان پھوٹ ڈالنے کی کوشش قرار دیا۔

سابق مرکزی وزیر اور کانگریس کے رکن پارلیمان ششی تھرورنے ٹوئٹ کر کے کہا،”دہلی یونیورسٹی کے ایک ٹیچر اب ‘مارکس جہاد‘ کی واہیات اصطلاح استعمال کرکے توجہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ میں نے مارکس کی بنیاد پر دہلی یونیورسٹی میں داخلے کے خلاف ہمیشہ بات کی ہے۔ لیکن جہاد کا مطلب جدوجہد ہے اور کیرالا کے طلبہ نے تمام مشکلات کے خلاف جدوجہد کر کے 100فیصد مارکس حاصل کیے تو انہیں بدنام تو نہ کریں۔ اگر ان کی صلاحیت کا اندازہ لگانا ہے تو انٹرویو لے لیجیے۔ کیرالا کے خلاف تعصب ختم ہونا چاہیے۔‘‘

بائیں بازو کی جماعت سی پی آئی (ایم) کے رکن پارلیمان جون بریٹاس نے وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کو ایک خط لکھ کر پروفیسر پانڈے کے خلاف قانونی اور شعبہ جاتی کارروائی کرنے اور انہیں سخت سزا دینے کی اپیل کی ہے۔ کیرالا کے وزیر تعلیم وی سیون کٹّی کا کہنا تھا کہ اگر کیرالا کے طلبہ کو ان کی صلاحیتوں کے باوجود من گھڑت اسباب کی بنا پر داخلہ نہیں دیا جاتا ہے، تو یہ جمہوری حقوق کی صریح خلاف ورزی ہو گی۔

A professor who has to be a role model venturing out to spread poison! It’s a fashion now to defame Kerala. Hope the Minister takes note and take strong action.@dpradhanbjp pic.twitter.com/p3mORML5vx

— John Brittas (@JohnBrittas) October 7, 2021

دہلی یونیورسٹی کے رجسٹرار وکاس گپتا نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ کیرالا یا کسی بھی ریاستی بورڈ کے طلبہ کے ساتھ داخلے کے سلسلے میں کسی طرح کی تفریق نہیں برتی جا رہی ہے۔

دہلی یونیورسٹی کی طرف سے شائع کردہ اعدادشمار کے مطابق کیرالا ایگزامنیشن بورڈ سے کامیاب ہونے والے 4824 طلبہ نے داخلے کے لیے درخواستیں جمع کرائی ہیں اور ان میں سے بیشتر نے بارہویں کلاس کے امتحان میں پورے مارکس حاصل کیے ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ہندو قوم پرست تنظیم آر ایس ایس اور حکمراں بھارتیہ جنتا پارٹی نے ایک منظم سازش کے تحت جہاد کو متنازع بنانے کی کوشش کی ہے۔

گزشتہ برس جب جامعہ ملیہ اسلامیہ کے سول سروسز کوچنگ سینٹر کے 30 طلبہ نے انڈین ایڈمنسٹریٹیو سروس (آئی اے ایس) کے امتحانات میں کامیابی حاصل کی تو شدت پسند ہندوؤں نے اسے’آئی اے ایس جہاد‘قرار دیا۔ حالانکہ یونیورسٹی انتظامیہ نے اعدادشمار جاری کرکے بتایا کہ ان میں سے 14ہندو طلبہ تھے۔ آئی اے ایس افسران کی تنظیم نے بھی ان الزامات کی سخت مذمت کی تھی۔

‘ لوَجہاد کے نام پر شدت پسند ہندو تنظیموں کی طرف سے پرتشدد واقعات کا سلسلہ ایک عرصے سے جاری ہے۔ حال ہی میں کیرالا میں ایک پادری نے ‘منشیات جہاد‘ کا شوشہ چھوڑا تھا۔ آر ایس ایس کے کارکن پروفیسر پانڈے تاہم اپنی بات پر مصر ہیں۔وہ کہتے ہیں،’’لو جہاد سے ہماری مراد کیا ہے؟ اس کا مطلب ہے مذہب کو پھیلانے کے لیے محبت کا غلط استعمال کرنا۔‘’مارکس جہاد‘یہ ہے کہ آپ بائیں بازو کے نظریات پھیلانے کے لیے اپنے نمبروں کا استعمال کریں۔ میرے نزدیک بائیں بازو کے افراد اور جہادی برابر ہیں۔ میں دونوں میں فرق نہیں کرتا۔ جہاد کا مفہوم بہت وسیع ہے۔ یہ صرف مذہب تک محدود نہیں ہے۔‘‘

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

ہم متبادل ورلڈ آرڈر کے حق میں، ٹیرف متاثرین کے لیے سرکار ہر ضروری قدم اٹھائے: امیر جماعت
گراونڈ رپورٹ

ہم متبادل ورلڈ آرڈر کے حق میں، ٹیرف متاثرین کے لیے سرکار ہر ضروری قدم اٹھائے: امیر جماعت

06 ستمبر
سنبھل فساد کی تحقیقاتی رپورٹ میں ایسا کیا ہے کہ یوگی حکومت پر اٹھے سوال دبا دیئے گیے؟
گراونڈ رپورٹ

سنبھل فساد کی تحقیقاتی رپورٹ میں ایسا کیا ہے کہ یوگی حکومت پر اٹھے سوال دبا دیئے گیے؟

01 ستمبر
آسام:بنگالی بولنے والے مسلمانوں کے خلاف نفرت وتشدد میں بےحد اضافہ:India Hate Lab نے نیا ڈیٹا جاری کیا
گراونڈ رپورٹ

آسام:بنگالی بولنے والے مسلمانوں کے خلاف نفرت وتشدد میں بےحد اضافہ:India Hate Lab نے نیا ڈیٹا جاری کیا

03 اگست
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
Humayun Kabir Owaisi Video Row

ہمایوں کبیر کے خفیہ ویڈیو نے اویسی پر بی جے پی کی بی ٹیم کے الزام کو تقویت دی، اتحاد ٹوٹا ، سیاسی بصیرت پر بھی سوال

اپریل 10, 2026
یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

اپریل 10, 2026
DD News Anchor Controversy News

پبلک ٹیکس سے چلنے والے ‘ڈی ڈی نیوز’ کے اینکر نے کہا” ساورکر کے چپل کی دھول بھی نہیں راہل گادھی

اپریل 13, 2026
طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

ستمبر 19, 2021
امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

اپریل 21, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

اپریل 19, 2026

حالیہ خبریں

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN