اردو
हिन्दी
مئی 9, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

کیا بھارت میں مسلمانوں کے لیے زمین تنگ ہوتی جا رہی ہے؟

5 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ فکر ونظر, مضامین
A A
0
کیا بھارت میں مسلمانوں کے لیے زمین تنگ ہوتی جا رہی ہے؟
211
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

نئی دہلی (صلاح الدین زین)

بھارت کے متعدد علاقوں میں سخت گیر ہندو ہجوم کی جانب سے مسلمانوں پر بلا اشتعال حملے، ان کے خلاف مظاہرے اور کارروائیاں اب ایک معمول بن چکا ہے۔ آئے دن، کبھی ٹوپی پہننے کی وجہ سے تو کبھی ہندوؤں کے محلے میں سبزی فروخت کرنے یا پھر ہندو قوم پرستی کے نام پر ان کے ساتھ مار پیٹ ہوتی رہتی ہے۔ اس طرح کے ویڈیوز بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہوتی رہتی ہیں جس سے خوف کے ماحول میں مزید اضافہ ہوتا ہے۔
ستم ظریفی یہ ہے کہ حکومت یا پھر حکام کی جانب سے ایسے واقعات کی مذمت تک نہیں کی جاتی اور نہ ہی اس پر افسوس کا اظہار کیا جاتا ہے۔ آزاد خیال مبصرین کا کہنا ہے کہ بھارت میں اکثریتی طبقے کی جانب سے جبری طور پر مسلمانوں سے اپنی رائے منوانے کی ایک نئی رسم چل پڑی ہے جس سے، خاص طور پر مسلمانوں کے لیے، بھارت کی زمین تنگ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

گزشتہ اتوار ریاست گجرات کے دارالحکومت احمد آباد میں دو نو عمر مسلم لڑکوں کو راستے میں روک کر اس قدر مارا پیٹا گیا کہ وہ اب بھی اسپتال میں زیر علاج ہیں۔ ان کی غلطی یہ تھی کہ دونوں نے ٹوپی پہن رکھی تھی اور راستے میں ان کے اسکوٹر سے ایک ہندو فیملی کے اسکوٹر کو دھکا لگ گیا تھا۔ آس پاس کے ہندوؤں نے اتنا مارا کہ وہ اب بھی اسپتال میں ہیں۔ تمام شکایتوں کے باوجود ابھی تک کسی کو گرفتار نہیں کیا گيا ہے۔

ایک روز قبل ہی کی بات ہے دہلی سے متصل غازی آباد کے ایک مندر کے احاطے میں دس برس کا مسلم لڑکا غلطی سے پہنچ گيا تھا، جسے پجاریوں نے اس الزام کے ساتھ پولیس کے حوالے کیا کہ وہ مندر میں جاسوسی کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔

حالانکہ پولیس نے مندر کی انتظامیہ کے ان الزامات کو بے بنیاد بتایا ہے اور اس بات کی وضاحت کی ہے کہ کم سن بچہ اپنے اہل خانہ سے ملنے ایک اسپتال جا رہا تھا اور غلطی سے مندر کے احاطے میں چلا گیا تھا۔ تاہم مندر کی انتظامیہ اپنے الزام پر مصر ہے اور اس کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

چند روز قبل ہی ایک روایتی گربا رقص میں مسلم طلبہ کی شمولیت کے خلاف ہندو شدت پسند تنظیم بجرنگ دل نے ہنگامہ کیا جس کی وجہ سے پولیس نے چار مسلم طلبہ کو گرفتار کر لیا۔ حالانکہ جس کالج میں یہ پروگرام تھا یہ اسی کالج کے طالب علم تھے، تاہم ہندوؤں کے ایسے سخت گروپ مسلمانوں کی شمولیت کی مخالفت کرتے رہتے ہیں۔

پولیس نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ جس کالج میں پروگرام تھا مسلم طلبہ وہیں پڑھتے ہیں اور انہیں اس میں آنے کی دعوت بھی ملی تھی، لیکن ہندو گروپ کی مخالفت اور شکایت کے سبب ان کے خلاف کارروائی کرنی پڑی۔

ان تازہ واقعات کے علاوہ بھارتی مسلمانوں کی داڑھی نوچنے، ان سے جے شری رام کے زبردستی نعرے لگوانے، گوشت کھانے یا فروخت کرنے یا پھر نماز پڑھنے کی جگہ کے حوالے سے مذہبی منافرت اور فسادات ایک عام بات ہے۔

بھارت میں اس وقت ہندوؤں کا مذہبی فیسٹیول ‘نو راتری’ چل رہا ہے اور ہندوؤں کا ایک طبقہ اس دوران گوشت کھانے سے پرہیز کرتا ہے۔ تاہم بہت سے ہندو گروپ اب اس دوران کئی علاقوں میں گوشت کی فروخت پر پابندی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ دہلی کے مضافاتی علاقے گڑ گاؤں اور دواریکا جیسے علاقوں میں بھی ہندوؤں نے گوشت کی فروخت پر پابندی کے لیے مظاہرہ کیا اور وہاں دکانیں بند ہیں۔

یو پی کے ضلع سہارن پور، جہاں دیوبند جیسا بڑا اسلامی ادارہ قائم ہے اور مسلمانوں کا اکثریتی علاقہ ہے، وہاں بھی گوشت کی فروخت پر پابندی کا مطالبہ زور پکڑتا جا رہا ہے۔ گزشتہ رز سخت گیر ہندوؤں نے وہاں احتجاج بھی کیا تھا۔

ماہ اگست کے دوران بھی، پورے بھارت میں مسلمانوں کو مارنے پیٹنے کے متعدد واقعات ہوتے رہے، انہیں قتل کیا گیا، ہراساں کیا گیا، سرعام ذلیل کیا گیا، "جئے شری رام” اور "وندے ماترم” کے نعرے لگانے پر مجبور کیا گیا۔

کسی پر ’مہندی جہاد‘ ، ’چوڑی جہاد‘ ، ’منشیات جہاد‘ اور کسی ’معاشی جہاد‘ جیسے الزامات کے تحت اجمیر سے کانپور اور’’ندور سے دہلی تک مختلف ہندوتوا گروپ اپنی اکثریتی برادری کا رعب جھاڑتے ہوئے مسلمانوں کو بھارتی معاشرے میں ان کا صحیح مقام دکھانے کی کوشش کرتے رہے۔‘‘

یہ سب واقعات مین اسٹریم ہندوستانی میڈیا میں قلم بند ہوتے رہے ہیں اور بہت سے ٹی وی چینلوں پر نشر بھی کیے گئے ہیں۔ مسلمانوں کے خلاف ہندوتوا تشدد کی ایک اور شکل یہ ہے کہ مسلمانوں کا معاشی سطح پر بائیکاٹ کیا جائے۔ اس حوالے سے بھی سوشل میڈیا پر مقبول ہیش ٹیگ، ٹرینڈز اور ویڈیوز دستیاب ہیں جن کا مقصد مسلمانوں کے کاروبار کو بائیکاٹ کرنا۔

بھارت کے معروف سماجی کارکن جان دیال کہتے ہیں کہ یہ تمام واقعات بھارت کی گنگا جمنی تہذیب کو تار تار کرنے کی ایک کوشش ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہندوؤں کا، ’’ایک خاص سیاسی گروپ اپنے سیاسی مفاد کے لیے اس طرح کی حرکتوں کو فروغ دے رہا ہے۔ ایک خاص برادری کے مذہب کا استحصال کر کے، ایک کو اپنا دوست اور دوسرے کو دشمن بتا کر، سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش ہے۔ یہ بی جے پی ہے اور کوئی نہیں۔‘‘

جان دیال کے مطابق ہندوتوا کے لیےگنگا جنمی تہذیب کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ ’’بے روز گاری، مہنگائی، تعلیم اور دیگر ترقیاتی مسائل سے عوام کی توجہ ہٹانے کے لیے یہ سب کیا جا رہا ہے۔ مسلمانوں اور عیسائیوں کو ملک کا دشمن بتایا جا رہا تاکہ عوام اسی مذہبی منافرت میں الجھی رہے۔‘‘

ایک سوال کے جواب میں جان دیال کا کہنا تھا کہ اقلیتی برادری میں خوف تو ہے، تاہم یہ بہت دن نہیں چل سکتا۔ ’’ہٹلر نے بھی اسی طرح کا بہت کچھ کیا تھا تاہم اب وہ نہیں رہا۔ یہ بھی نہیں چلے گا۔ مستقبل میں وہی رہے گا جو عوام کی فلاح و بہبود چاہے گا۔‘‘

ڈی ڈبلیو ہندی سروس کے تجربہ کار صحافی چارو کارتیکے کہتے ہیں کہ انہیں بھی موجودہ صورت پر کافی تشویش لاحق ہے کہ آخر اس ملک میں یہ سب کچھ اتنی ڈھٹائی کیسے ممکن ہے۔ ان کے مطابق،’’ہندو اکثریتی طبقے کی جانب سے مسلمانوں پر جبرا اپنی مرضی تھوپنے کی کوشش ہے۔‘‘ان کا کہنا ہے کہ یہ ایک طرح سے مسلمانوں کے لیے زمین تنگ کرنے کے مترادف ہے، تاکہ، ’’مسلمانوں کو پبلک اسپیس سے معدوم کیا جا سکے۔‘‘

(بشکریہ :ڈی ڈبلیو )

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

US Iran War Strategic Defeat News
مضامین

امریکہ – اسرائیل – ایران جنگ میں امریکہ کی اسٹریٹجک ہار پہلے سے طے

23 مارچ
Hormuz Strait Iran Speech
مضامین

ایران میں قیادت کی تبدیلی اور مجتبیٰ خامنہ ای: ایک تجزیاتی مطالعہ

12 مارچ
Modi Israel Gaza Questions Debate
مضامین

پی ایم مودی کے دورہ اسرائیل میں غزہ کے مصائب کا ذکر تک نہ ہونے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ کیا چاہتا ہے بھارت ؟

28 فروری
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
Humayun Kabir Owaisi Video Row

ہمایوں کبیر کے خفیہ ویڈیو نے اویسی پر بی جے پی کی بی ٹیم کے الزام کو تقویت دی، اتحاد ٹوٹا ، سیاسی بصیرت پر بھی سوال

اپریل 10, 2026
طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

ستمبر 19, 2021
یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

اپریل 10, 2026
DD News Anchor Controversy News

پبلک ٹیکس سے چلنے والے ‘ڈی ڈی نیوز’ کے اینکر نے کہا” ساورکر کے چپل کی دھول بھی نہیں راہل گادھی

اپریل 13, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

اپریل 21, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

اپریل 19, 2026

حالیہ خبریں

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN