اردو
हिन्दी
مئی 9, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

سرسید کی تعلیمی تحریک

5 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ مضامین
A A
0
سرسید کی تعلیمی تحریک
326
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

تحریر: پروفیسر محمد سعود عالم قاسمی

ڈین فیکلٹی آف تھیالوجی،علی گڑھ مسلم یونیورسٹی

سرسیداحمد خاں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے بانی کی حیثیت سے علمی دنیا میں معروف ہیں۔ انھوں نے صرف ایک تعلیمی ادارہ ہی نہیں قائم کیا بلکہ قومی نشاۃ ثانیہ کے لیے ہمہ جہت تحریک چلائی۔ اس میں تہذیبی وتمدنی پیش رفت ، سماجی اصلاح، سیاسی شعور کی بیداری، تفہیم بین المذاہب، انسانی وحدت، عالمی ادب کی ترجمانی، معیاری لٹریچر کی تیاری، سائنس اور ٹیکنالوجی کی ترقی، آزادانہ تحقیق اور وسیع المشربی ، سبھی کچھ کا احاطہ تھا۔ خاص طور پر انھوں نے مسلمانوں کو جفاکشی، خوداعتمادی اور دور اندیشی کی راہ دکھائی جو زمانہ کی ضرورت تھی۔

سرسید نے اپنی زندگی میں ان اہداف کے لیے جدوجہد کی اور اپنے رفقاء اور کارکنوں کو اس مہم پر لگایا اور اس کے لیے ہر وہ طریقہ اختیار کیا جس کی اس وقت ضرورت تھی۔ اس تحریک کی جہات اگرچہ متعدد تھیں مگر ان میں مرکزی حیثیت تعلیمی منصوبہ بندی کو حاصل تھی۔ کیوں کہ تعلیم ہی جملہ خوبیوں کی بنیاد اور تمام ترقیوں کا زینہ ہے۔ شخصی کمالات اور تمدنی ترقی کا مدار تعلیم ہی پر ہے۔ سرسید کی زندگی میں اس تعلیمی مہم کے اثرات ظاہر ہونے لگے۔ لیکن ان کے دوسرے تعمیری منصوبے پوری طرح برگ وبار نہ لاسکے۔ ان کے جانشینوں نے ایک عرصہ تک ان مقاصد کو سامنے رکھا اور تحریک کو آگے بڑھاتے رہے۔ اس تحریک نے رفتہ رفتہ ادارہ کی شکل اختیار کرلی اور علی گڑھ تحریک علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں مرتکز ہوکر رہ گئی۔ اس تحریک کی ایک اہم شخصیت ڈاکٹر ذاکر حسین سابق وائس چانسلر اے ایم یو اور سابق صدر جمہوریۂ ہند نے تحریک کا تجزیہ کرتے ہوئے لکھا:

’’سرسیداحمد خاں مسلمانوںکی قومی زندگی کا ایک قصر تعمیر کرنا چاہتے تھے، جس میں بہت سے گوشے تھے، وہ اس پورے قصر کو تعمیر نہ کرسکے کہ انسانی زندگی محدود ہوتی ہے اور وقت کے تقاضوں سے تیار نہیں ہوتی۔ انھوں نے قصر کاوہ حصہ بنایا جس سے انھیں توقع تھی کہ بعد میں آنے والے نقشے کو سمجھیں گے اور ان کی تکمیل کریں گے ، پر بعد میں آنے والوں نے اسے سرسید کا مقبرہ بنادیا۔ مقبرہ اسے کہتے ہیں جہاں انسان کا جسم دفنا کر اس پر عمارت بنادی جائے، لیکن ہم نے اس مقبرہ میں سرسید کے افکار کو دفن کردیا اور وہ جو چاہتے تھے اسے بھلا دیا۔ وہ بہت کچھ چاہتے تھے، ہم بہت کم حاصل کرسکے۔ وہ ہمارے سارے تمدن کو ایک نیا رُخ دینا چاہتے تھے۔ ہم نے ان کے کام کو انگریزوں کی نوکریاں حاصل کرنے پر محدود کردیا۔ وہ ہمیں حقیقی اَبدی زندگی دینا چاہتے تھے، ہم نے ایک کھلونے پر بس کردیا‘‘۔(عابداللہ غازی، علی گڑھ تحریک اور جامعہ ملیہ اسلامیہ، علی گڑھ، نمبر، ۱۹۵۵ء)

ڈاکٹر ذاکر حسین مرحوم کے اس خیال سے اتفاق تو سبھی کو ہے، مگر اس کے لیے عملی اقدام، منصوبہ بندی اور اجتماعی جدوجہد کا فقدان ہے۔ انفرادی طور پر بہت سے دانش ور علی گڑھ تحریک کو زندہ کرنے کی بات کرتے ہیں۔ کبھی کبھی جلسے، سمینار اور کانفرنسیں بھی منعقدہوتی ہیں مگر قرار داد اور تجاویز سے آگے کی راہ نہیں نکلتی۔ تیزی سے بدلتے ہوئے ملکی حالات، مسلمانوں کو درپیش خارجی مسائل، جان ومال اور عزت کے تحفظ کی فکر، عمومی پس ماندگی اور ناخواندگی، مسلم معاشرہ کے اندرون سے اُبھرتے ہوئے تضادات، فاسد رسم ورواج، مہلک توہمات، باہمی تنازعات، بے روزگاری اور مایوسی جیسے مسائل کو سامنے رکھیے تو علی گڑھ تحریک کو ازسرنو زندہ کرنے کی شدید ضرورت محسوس ہوتی ہے۔ وقت کا تقاضا ہے پھر کوئی صاحبِ ہمت اُٹھے۔ مسائل کا حقیقت پسندانہ تجزیہ کرے اور ان کا حکیمانہ حل پیش کرے۔معاشرہ کے زخموں پر نشتر بھی لگائے اور مرہم بھی رکھے۔

علی گڑھ کو یہ امتیازاب بھی حاصل ہے کہ یہاں اصحابِ فکر ونظر اور ارباب علم وفن کی ایک کہکشاں موجود ہے۔وہ اگر حرکت میں آئے تو اس کی روشنی سے ملک وملت کے تاریک گوشے روشن ہوسکتے ہیں اور پس ماندہ سماج کے ذرے منور ہوسکتے ہیں۔ سبک دوش دانش ور بالعموم محفوظ زندگی گزارتے ہیں۔ مسائل اور اُلجھنوں سے دور رہنے میں عافیت محسوس کرتے ہیں ۔ یہ طبعی امر ہے، تاہم ان میں کچھ ایسے بھی ہیں جو تازہ فکر اور تازہ دم ہیں ان کو آگے بڑھنا چاہیے۔ تعلیم وترقی کی سیڑھیوں سے گرتے ہوئے انسانوں کی دست گیری کرنے کے لیے اجتماعی جدوجہد کرنی چاہیے اور علی گڑھ تحریک کے احیا کا حصہ بنناچاہیے تاکہ ہم سر اُٹھاکر کہہ سکیں:

یک چراغیست دریں بزم کہ از پر تو آں
ہر کجا می نگرم انجمنے ساختہ اند

اس بزم میں ایک چراغ ہے جس کے پرتو سے جدھر بھی دیکھتا ہوں انجمن سی نظر آتی ہے۔

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

US Iran War Strategic Defeat News
مضامین

امریکہ – اسرائیل – ایران جنگ میں امریکہ کی اسٹریٹجک ہار پہلے سے طے

23 مارچ
Hormuz Strait Iran Speech
مضامین

ایران میں قیادت کی تبدیلی اور مجتبیٰ خامنہ ای: ایک تجزیاتی مطالعہ

12 مارچ
Modi Israel Gaza Questions Debate
مضامین

پی ایم مودی کے دورہ اسرائیل میں غزہ کے مصائب کا ذکر تک نہ ہونے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ کیا چاہتا ہے بھارت ؟

28 فروری
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
Humayun Kabir Owaisi Video Row

ہمایوں کبیر کے خفیہ ویڈیو نے اویسی پر بی جے پی کی بی ٹیم کے الزام کو تقویت دی، اتحاد ٹوٹا ، سیاسی بصیرت پر بھی سوال

اپریل 10, 2026
طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

ستمبر 19, 2021
یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

اپریل 10, 2026
DD News Anchor Controversy News

پبلک ٹیکس سے چلنے والے ‘ڈی ڈی نیوز’ کے اینکر نے کہا” ساورکر کے چپل کی دھول بھی نہیں راہل گادھی

اپریل 13, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

اپریل 21, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

اپریل 19, 2026

حالیہ خبریں

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN