ممبئی : (ایجنسی)
کروز منشیات معاملہ میں روز نئے نئے انکشافات کے بعد یہ معاملہ الجھتا جا رہا ہے۔ کل اس معاملہ میں گواہ نمبر ایک پربھاکر کا بیان آیا تھا جس میں کئی کروڑ کے لین دین کی بات بتائی گئی تھی، جس میں این سی بی کے زونل ڈائریکٹر سمیر وانکھیڑے کا بھی ذکر تھا۔ اب مہاراشٹر کے وزیر اور این سی پی کے رہنما نواب ملک نے ٹوئٹ کر کے سمیر وانکھیڑے کے مذہب اور ذات پر ہی سوال کھڑے کر دیئے ہیں۔

نواب ملک نے ایک برتھ سرٹیفکیٹ (پیدائشی سرٹیفکیٹ) کی کاپی اپنے ٹوئٹر پر شیئر کی ہے اور لکھا ہے ’پہچان کون۔‘ آج تک نیوز پورٹل پر شائع خبر کے مطابق سمیر وانکھیڑے پر الزام لگایا جا رہا ہے کہ انہوں نے ذات کا فرضی سرٹیفکیٹ بنوا کر سرکاری نوکری حاصل کی ہے۔ یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ یہ سرٹیفکیٹ سمیر وانکھیڑے کا ہے اور اس میں والد کے نام کی جگہ ’داؤد‘ لکھا ہے جب کے مذہب کے کالم میں ’مسلم‘ لکھا ہے۔
خبر کے مطابق مرکزی وزیر رام داس اٹھاولے نے سمیر کی حمایت کی ہے اور سمیر پر لگے تمام الزامات کو بے بنیاد قرار دیا ہے اور لکھا ہے کہ دلت افسر کو نشانہ بنانا ٹھیک نہیں ہے۔ اٹھاولے نے سمیر وانکھیڑے کے کام کی بھی تعریف کی ہے۔
وہیں نواب ملک نے برتھ سرٹیفکیٹ کی فوٹو کاپی شیئر کرتے ہوئے لکھا ہے ’سمیر داؤد وانکھیڑے‘ کا یہاں سے شروع ہوا فرضی واڑا۔ ایک دوسری تصویر شیئر کرتے ہوئے انہوں نے لکھا ہے ’پہچان کون۔‘
دوسری جانب سمیر وانکھیڑے کے لئے مشکلیں بڑھتی جا رہی ہیں۔ خبروں کے مطابق این سی بی کے ایک کارکن نے دعویٰ کیا ہے کہ سمیر نے پہلے کسی ڈاکٹر عائشہ نام کی خاتون سے شادی کی تھی اور اس کی تصاویر بھی شیئر کی جا رہی ہے اور اس تصویر کو سمیر وانکھیڑے کے نکاح کے وقت کی بتائی جا رہی ہے۔ واضح رہے مراٹھی اداکارہ کرانتی ریڈکر سمیر کی بیوی ہیں۔ وہیں سمیر وانکھیڑے نے ان سبھی الزامات کو بے بنیاد اور من گھڑت بتایا ہے۔










