ممبئی : (ایجنسی)
مہاراشٹر کے وزیر اور این سی پی لیڈر نواب ملک نے ممبئی این سی بی کے زونل ڈائریکٹر سمیر وانکھیڑے کا مبینہ’ ‘نکاح نامہ‘ جاری کیا تھا۔ ملک نے دعویٰ کیا تھا کہ سمیر داؤد وانکھیڑے اور شبانہ قریشی کے درمیان 7 دسمبر 2006 کو شادی ہوئی تھی، لیکن اب شبانہ قریشی کے والد ڈاکٹر زاہد قریشی کا کہنا ہے کہ سمیر وانکھیڑے مسلمان ہیں، تب ہی ان سے بیٹی کی شادی کرائی تھی۔
آج تک کی رپورٹ کےمطابق سمیر وانکھیڑے کی پہلی بیوی شبانہ قریشی کے والد ڈاکٹر زاہد قریشی نے کہا کہ ‘سمیر وانکھیڑے کے والد داؤد وانکھیڑے کے ساتھ میری بات چیت بیٹی کی شادی سے 3-4 سال سے پہلے ہوتی تھی۔ ان کی والدہ زاہدہ بھی ہمارے گھر آئی تھیں اور انہوںنے ہی شادی کی پیشکش کی تھی۔ تب تک ہمیں معلوم تھا کہ ان کا پورا خاندان مسلم ہے۔ اور زاہدہ وانکھیڑے کے جو رشتہ دار تھے وہ بھی یہی کہتے تھے کہ وہ تمام مسلم ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ شادی سے تین سال پہلے سے بات چیت چل رہی تھی اور ہم نے دیکھا کہ گھر کا ماحول مسلمان والا ہے۔ زاہدہ وانکھیڑے تجویز لے کر آئی تھیں تو ہم مان گئے تھے۔ ہم نے دونوں کی منگنی کروائی اور منگنی کے 10 مہینے بعد دونوں کی شادی ہوئی۔ زاہدہ کو جاننےوالے اورمیرے جاننےوالے، سب کو معلوم تھا کہ وہ مسلم ہے۔ اگر وہ مسلم نہیں ہوتے تو ہم شادی ہی نہیں کرتے۔ انہوں نے بتایا کہ منگنی مسلم رسم ورواج سے ہی ہوئی تھی۔
اس سوال کے جواب میں ڈاکٹر قریشی نے کہاکہ ‘ان کی والدہ ایک کٹر مسلمان تھیں اور مذہب کی ماننے والی تھیں۔ لوگوں کی مدد کرتی تھیں۔ وہ مساجد، مدارس کی مدد کرتی تھیں۔ یہ سب ان کی وفات کے بعد ہی ہو رہا ہے، ورنہ ان کے دور میں ان کے گھر میں بہت اچھا ماحول تھا۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ سمیر وانکھیڑے کے والد کا نام داؤد ہے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ ان کے والد کہتے ہیں کہ ان کا نام دھیان دیو ہے، داؤد نہیں۔ تو ڈاکٹر قریشی نے کہا کہ ہم انہیں صرف داؤد کے نام سے جانتے ہیں۔ ہم نے نکاح نامہ میں بھی ان کا نام داؤد لکھا ہے۔ ہم جانتے تھے کہ وہ مسلمان ہیں۔ ڈاکٹر قریشی نے یہ بھی بتایا کہ وانکھیڑے خاندان نے بھی مسلم رسم و رواج کی پیروی کرتا تھا۔ خود سمیر وانکھیڑے نے بھی مسلم روایت کی پیروی کرتے تھے۔ روزہ بھی رکھتے تھے۔ نماز بھی پڑھتے تھے۔
ڈاکٹر قریشی نے بتایا کہ ہمیں صرف اتنا معلوم تھا کہ وہ مسلمان ہیں۔ مجھے نہیں معلوم کہ اس کے پاس بعد میں بنائے گئے کچھ سرٹیفکیٹس ہیں یا نہیں۔ اس نے یہ بھی بتایا کہ طلاق بھی مسلم رسم و رواج کے مطابق ہوئی اور بعد میں عدالت میں۔ ان کا کہنا تھا کہ جب سے علیحدگی ہوئی ہے دونوں خاندانوں کے درمیان کوئی رابطہ نہیں ہے۔








