اردو
हिन्दी
مئی 9, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

پرینکا گاندھی کا اب تک کا سب سے بڑا سیاسی داؤ کتنا کارگر ہوگا؟

5 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ فکر ونظر, مضامین
A A
0
پرینکا گاندھی کا اب تک کا سب سے بڑا سیاسی داؤ کتنا کارگر ہوگا؟
20
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

تحریر: ایم کے وینو

آئندہ اتر پردیش(یوپی)اسمبلی انتخاب میں کانگریس پارٹی کے40فیصدسیٹوں پر خاتون امیدواروں کو اتارنے کےپرینکا گاندھی کے فیصلے نے ہلچل مچادیا ہے۔ اس میں ایک زوردار علامتی اشارہ ہے، لیکن یہ کسی بھی معنی میں منفرد نہیں ہے۔یاد کیجیےنتیش کمار نےشعوری حکمت عملی کے تحت بہار میں خواتین رائے دہندگان کو فلاحی اسکیموں کی ایک طول طویل فہرست سےلبھایا تھا۔صوبے میں شراب بندی کا ان کا فیصلہ بنیادی طور پرخواتین ووٹروں کو نشانہ بنایا گیا تھا۔یہاں تک کہ انہوں نے خاتون امیدواروں کو 35 فیصدی ٹکٹ بھی دیے۔ جنتا دل یونائٹیڈ کے 43خاتون امیدواروں میں صرف 6 جیت پائیں۔

اس کے ٹھیک الٹ خاتون امیدواروں کو حال کےمغربی بنگال انتخابات میں کہیں زیادہ کامیابی ملی۔ ٹی ایم سی کے ایم پی ڈیریک او براین کہتے ہیں کہ پارٹی نے تقریباً40 فیصدی ٹکٹ خواتین کو دیے اور ان کی کامیابی کی شرح بھی یکساں طور پر اچھی تھی پارٹی کے فاتح امیدواروں میں 40 فیصدی خواتین تھیں۔بہار میں جےڈی یو کے فاتح امیدواروں میں خاتون امیدواروں کا فیصدصرف 13 تھا، جبکہ انہیں کل 35 فیصدی ٹکٹ ملے تھے۔

یہاں یہ اعادہ ہو سکتا ہے کہ خاتون امیدوار ان صوبوں میں بہتر کرتے ہیں جہاں ان کا امپاورمنٹ اور ان کی خواندگی کی شرح زیادہ ہے۔اس تناظر میں ہندی بیلٹ کا مطالعہ کرنا انتہائی جانکاری دینے والا ہو سکتا ہے،جہاں کے سماجی اور سیاسی زندگی میں پدرانہ نظام اوراکثریت پرستی کا کاک ٹیل انتہائی اہم رول نبھاتا ہے۔یہاں یہ بھی دھیان دلایا جانا چاہیے کہ ہندی بیلٹ کے بڑے حصے میں میں کل لیبر فورس میں خواتین کی شراکت داری کافی مایوس کن اکائی کےاعدادوشمار میں ہے۔تصور کیجیے بہار اور یوپی جیسےصوبوں میں روزگار میں شامل ہو سکنے والی100خواتین میں صرف 5 سے 8 ہی نوکری کے بارے میں سوچتی ہیں۔ جنوبی اور مشرقی صوبوں میں یہ تناسب کافی زیادہ ہے۔اس کا سیدھا اثر ان کی آزادی، امپاورمنٹ اور نتیجہ کے طور پر ان کے ووٹنگ پیٹرن پر پڑتا ہے۔انتخابی تجزیہ کار اور لوک نیتی، سی ایس ڈی ایس کے شریک ڈائریکٹر سنجے کمار کے مطابق، خواتین نے حال کے سالوں میں ہی آزادانہ طریقےسےووٹ ڈالنا شروع کیا ہے۔ایک دہائی پہلےتقریباً15فیصدی خواتین ہی اپنے گھروالوں کے مردوں سے متاثر ہوئے بغیرآزادانہ طریقے سےووٹنگ کرتی تھیں۔

سنجے کمار بتاتے ہیں کہ اب 50فیصدی سے کچھ زیادہ خواتین آزادانہ طریقے سے ووٹ ڈالتی ہیں۔ اور ایک دوسری سچائی ہے کہ جنوب مشرقی صوبوں اور ہندی بیلٹ کےصوبوں کے بیچ اس اعدادوشمار میں بھی کافی فرق ہوگا۔ خواتین کے ووٹنگ رجحان بے حدپیچیدہ ہیں اور انہیں سمجھنا آسان نہیں ہے۔ جو بات یقینی طور پر کہی جا سکتی ہے، وہ یہ ہے کہ خواتین پہلے کےمقابلے کہیں زیادہ بڑی تعداد میں ووٹنگ کر رہی ہیں۔ یہاں تک کہ تعداد کے لحاظ سے ووٹنگ میں وہ مردوں کو پیچھے چھوڑ دے رہی ہیں۔

تو سوال ہے کہ اگلے سال کی شروعات میں ہونے والے یوپی اسمبلی انتخاب میں پرینکا کیا کمال دکھا پائیں گی؟

پہلی بات،خواتین کے لیے40 فیصدی سیٹوں کااعلان کرکے پرینکا گاندھی نے ایک طرح سے یہ صاف کر دیا ہے کہ کانگریس پارٹی سیٹوں کی ایک بڑی تعداد پر انتخاب لڑےگی۔ یعنی دوسری اپوزیشن پارٹیوں کے ساتھ پارٹی کوئی سمجھوتہ یا اتحاد نہیں کرےگی۔خواتین کو با اختیار بنانےکے داؤ کو اتنے پروپیگنڈہ کے ساتھ کھیلنے کا تبھی کوئی تک بنتا ہے، جب آپ انتخابی جدوجہد میں اپنی موجودگی کو قابل ذکر ڈھنگ سے بڑھائیں۔ساتھ ہی یہ اس بات کا بھی اعلان ہے کہ اب پرینکا آگے بڑھ کرسربراہی کرنے کو لےکر پرعزم ہیں، جبکہ 2017 میں ان کارول پردے کے پیچھے تال میل بٹھانے تک محدود تھا، جب کانگریس نے سماجوادی پارٹی کے ساتھ گٹھ بندھن میں انتخاب لڑا تھا۔ایسا لگتا ہے کہ اس بار کانگریس نے اکیلے چناؤ لڑنے کا من بنا لیا ہے۔امید ہے اکھلیش یادو بھی اسی راہ پر چلیں گے، جن کا 2017 میں کانگریس یا بی ایس پی کے ساتھ گٹھ بندھن کا تجربہ چھا نہیں رہا ہے۔

اصلی سوال یہ ہے کہ کیا کانگریس نے خواتین ووٹروں کو اپنے پالے میں لانے کی کوئی ٹھوس حکمت عملی تیار کی ہے؟یا پھر یہ بس ایک بڑا خیال ہے، جس پر تفصیل سے غورکیا جانا ابھی باقی ہے؟ آنے والے مہینوں میں اس مہم سے کتنا سیاسی فائدہ ہوگا، یہ کہہ پانا ابھی مشکل ہے۔ایک بات جو کانگریس کے حق میں ہے، وہ یہ ہے کہ صوبے میں بی جے پی ایک زبردست سرکار مخالف جذبے سے جوجھ رہی ہے۔ اس کے علاوہ 35 سالوں سے زیادہ عرصے میں صوبےمیں کسی بھی مقتدرہ پارٹی کو دوسری مدت کار نہیں ملی ہے۔

پہلے ہی کئی سطحوں پرچیزیں بدل رہی ہیں۔لکھیم پورکھیری معاملے کے بعد کسانوں کے غصے کے مغربی اتر پردیش سے دوسرے حصوں میں پھیلنے،بی جے پی کے اندر غیریادو او بی سی رہنماؤں کے خم ٹھوکنے اور اشرافیہ کے ایک حصہ کی ناراضگی نے یقینی طور پر بی جے پی کی تشویش میں اضافہ کردیا ہے۔پرینکا گاندھی کے خواتین کو بااختیار بنانےکے داؤ میں ان چیزوں میں ایک الگ جہت جوڑ نے کی صلاحیت ہے۔ لیکن اس کے لیے انہیں کانگریس کی تنظیم میں، یہ جیسی بھی ہے، جوش بھرنا ہوگا۔

کانگریس نےیقینی طور پرہی اتر پردیش کے انتخابی موسم میں ایک نیا ڈسکورس کھڑا کیا ہے۔ 2017 کے اسمبلی انتخاب میں40 فیصدی ووٹ حاصل کرنے والی بی جے پی یقینی طور پرہی ایک بڑھت کے ساتھ شروعات کر رہی ہے، کیونکہ یہ 8 سے 10 فیصدی ووٹوں کو گنوانے کی صورتحال میں بھی بکھرے اپوزیشن کی مہربانی سے ٹکر میں رہےگی۔پرینکا گاندھی کی جانب سےدیا گیا‘لڑکی ہوں، لڑ سکتی ہوں’، کا نعرہ اگر جادو کرنے میں ناکام رہتا ہے، تو یہ اپوزیشن کے ووٹوں کو اور تقسیم کر سکتا ہے۔سال 2017 میں کانگریس کو محض 7 فیصدی ووٹ ملے تھے۔ اس سطح سے یہ اپنے اپنے ووٹ فیصد میں کتنا اضافہ کر سکتا ہے اور یہ بی جے پی کی اہم حریف سماجوادی پارٹی کو کتنا نقصان پہنچائےگی یہ اتر پردیش انتخابات کی سرگرمیاں بڑھنے کے بعد اہم سوال ہوگا۔ صاف ہے یہ پرینکا گاندھی کے ذریعے کھیلا گیا اب تک کا سب سے بڑا سیاسی جوا ہے۔

(بشکریہ: دی وائر)

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

US Iran War Strategic Defeat News
مضامین

امریکہ – اسرائیل – ایران جنگ میں امریکہ کی اسٹریٹجک ہار پہلے سے طے

23 مارچ
Hormuz Strait Iran Speech
مضامین

ایران میں قیادت کی تبدیلی اور مجتبیٰ خامنہ ای: ایک تجزیاتی مطالعہ

12 مارچ
Modi Israel Gaza Questions Debate
مضامین

پی ایم مودی کے دورہ اسرائیل میں غزہ کے مصائب کا ذکر تک نہ ہونے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ کیا چاہتا ہے بھارت ؟

28 فروری
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
Humayun Kabir Owaisi Video Row

ہمایوں کبیر کے خفیہ ویڈیو نے اویسی پر بی جے پی کی بی ٹیم کے الزام کو تقویت دی، اتحاد ٹوٹا ، سیاسی بصیرت پر بھی سوال

اپریل 10, 2026
طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

ستمبر 19, 2021
یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

اپریل 10, 2026
DD News Anchor Controversy News

پبلک ٹیکس سے چلنے والے ‘ڈی ڈی نیوز’ کے اینکر نے کہا” ساورکر کے چپل کی دھول بھی نہیں راہل گادھی

اپریل 13, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

اپریل 21, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

اپریل 19, 2026

حالیہ خبریں

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN