گڑگاؤں: (پریس ریلیز)
گزشتہ چند ہفتوں سے شہر گڑگاؤں میں نماز جمعہ کے مقام کی ادائیگی کو نشانہ بنا کر نفرت پھیلا کر شہر کا ماحول کو خراب کرنے کی مسلسل کوششیں ہو رہی ہیں، اب اس معاملے میں گڑگاؤں ناگرک ایکتا منچ کھل کر سامنے آ گیا ہے، جس کی حمایت جمعیۃ علماء ہند میوات گڑگاؤں کے جنرل سکریٹری و شہر گڑگاؤں کے ممتاز عالم دین مفتی محمد سلیم بنارسی پہلے دن سے ایسے سماج دشمن عناصر کے خلاف میدان عمل میں کوشاں ہیں ۔
واضح رہے کہ گذشتہ دنوں میں گڑگاؤں میں متعدد مقامات پر مسلمانوں اور نماز جمعہ کی ادائیگی کو نشانہ بنا کر دوران نماز خلل ڈالنے کی مسلسل کوششیں کی گئی تھی ۔ ان کوششوں کو قومی اور بین الاقوامی میڈیا میں بڑے پیمانے پر رپورٹ کیا گیا اور گڑگاؤں شہر میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال سے ملکی و بین الاقوامی سطح پر خبردار کیا گیا۔ اس دوران سوشل میڈیا کو جھوٹ اور جعلی خبریں پھیلانے اور تناؤ اور دشمنی کی فضا پیدا کرنے کے لیے بخوبی سماج دشمن عناصر کی جانب سے خوب استعمال کیا جا رہا ۔ان باتوں کا اظہر خیال جمعیۃ علماء ہند میوات کے جنرل سکریٹری محمد صابر قاسمی نے آج پریس کو جاری بیان میں کیا۔
قابل ذکر امر یہ ہے کہ اور یہ بات یاد رکھنے کی ضرورت ہے کہ ایسے موقع پر ہریانہ پولیس اور ضلع انتظامیہ نے 2018 میں عوام کی سہولت کو مدنظر رکھتے ہوئے نماز جمعہ کے لیے 125 مقامات میں سے کم کرتے ہوئے 37 مقامات کو نماز جمعہ کی ادائیگی کے لئے نشاندہی کر گوڑگاؤں میں مختص کیا گیا تھا۔ مولانا محمد صابر قاسمی نے کہا یہ منصوبہ بند رکاوٹیں نہ صرف غیر قانونی ہیں بلکہ اس سے گڑگاؤں کی ساکھ کو ایک کاسموپولیٹن شہر کے طور پر تباہ کرنے کا خطرہ بھی منڈرا رہا ہے جو ہندوستان کے اندر اور باہر کے لوگوں کو یہاں آنے کے لیے خوشگوار اور خوش آمدید ماحول فراہم کرتا ہے ۔
موصوف کا کہنا ہے کہ ایسے میں اگر گڑگاؤں میں فرقہ وارانہ حالات پیدا ہوئے تو حالات دھماکہ خیز بن سکتے ہیں جو شہریوں کی تحفظ کو چیلنج کرنے کے ساتھ ساتھ یہاں سے چلنے والے وسیع تر ملکی و بین الاقوامی کاروباروں کی وسیع لائن کو بھی متاثر کرے گا۔
واضح رہے کہ موجودہ وقت میں گڑگاؤں کی شناخت ملکی و غیر ملکی سطح پر معاشی طور پر متحرک اور ثقافتی طور پر متنوع کمیونٹی ہے۔ پورے ہندوستان اور دنیا بھر کے لوگوں نے گڑگاؤں میں اپنی بہتر زندگیاں بسر کرنے ،اور اپنی قسمت آزمائی کے طور پر اس کو اپنا مسکن بنا کر اپنا کیریئر بنایا ہے۔ ایسے میں ہم اپنے شہر کی تقدیر اور تصویر چند نفرت پھیلانے والوں کے ہاتھ میں نہیں دے سکتے جنہوں نے اپنے ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لیے تشدد کا راستہ اختیار کیا ہوا ہے۔
اس موقع پر گڑگاؤں ایکتا منچ کے صدر الطاف احمد نے کہا کہ ہم میڈیا اور خاص طور پر گڑگاؤں کے رہائشیوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ امن، دیانت اور ہم آہنگی کی ہماری کال کا استقبال کر پُر زور حمایت کریں۔ انہوں نے کہا کہ گڑگاؤں ناگرک ایکتا منچ (جی این ای ایم) ایک سول سوسائٹی پلیٹ فارم ہے جس نے گزشتہ کئی سالوں سے گڑگاؤں میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور شہریوں کے حقوق کے مسائل پر کام کیا ہے۔ پچھلے ڈیڑھ سال میں جی این ای ایم کویڈ ریلیف کی کوششوں میں سب سے آگے رہا ہے اور اس کے کام کو بڑے پیمانے پر رپورٹ اور سراہا گیا ہے۔
اس موقع پر گوڑگاؤں ناگرک ایکتا منچ کے سربراہ الطاف احمد نے میڈیا کو جاری بیان میں کہا کہ 2 نومبر بروز منگل سہ پہر 3 بجے گڑگاؤں ناگرک ایکتا منچ کے زیر اہتمام ایک پریس کانفرنس کا انعقاد کیا گیا ہے جس کے لیے. میڈیا اہلکاروں کو مدعو کیا گیا ہے، الطاف احمد نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ یہ کام اس لیے کیا جا رہا ہے تاکہ میڈیا کو حقائق سے روشناس کرایا جا سکے اور اس بات کو اجاگر کیا جا سکے کہ گڑگاؤں کمیونٹی بدامنی پیدا کرنے اور تشدد کو بھڑکانے کی کسی بھی کوشش کے خلاف متحد ہے۔ اس پریس کانفرنس کو زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے لوگ خطاب کریں گے جو اس تنوع کی نمائندگی کرتے ہیں جو گڑگاؤں کو ایک منفرد شہر بناتا ہے۔








