اردو
हिन्दी
مئی 10, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

مسلمان اپنے ایمان کی حفاظت کریں یا جان ،مال ،عزت و آبرو بچائیں؟

5 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ فکر ونظر, مضامین
A A
0
مسلمان اپنے ایمان کی حفاظت کریں یا جان ،مال ،عزت و آبرو بچائیں؟
88
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

تحریر: کلیم الحفیظ ،نئی دہلی

آزادبھارت کی تاریخ میں فسادات کی تاریخ اتنی ہی پرانی ہے جتنی آزادی کی،ملک کی آزادی کی شروعات ہی مذہبی و فرقہ وارانہ فسادات اور سنگین قتل عام سے ہوئی تھی۔اس دن سے آج تک تقریبا ستر ہزار چھوٹے بڑے فسادات اہل ملک نے جھیلے ہیں۔البتہ گزشتہ دو دہائیوں سے ان فسادات میں بعض تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں۔سب سے بڑی تبدیلی یہ ہوئی کہ فساد ات کرانے والے ہی ملک کے حکمران بن بیٹھے ،اس ضمن میں 2002کے گجرات فسادات کو کبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا ۔اک طرح سے اس فساد کو ریاستی دہشت گردی کا آغاز کہا جا سکتا ہے۔ورنہ اس سے پہلے فسادیوں کا تعلق عام طور پر اپوزیشن جماعتوں سے ہوا کرتا تھا ،یا کم سے کم حکومتیں ان فسادات کی سرپرستی نہیں کرتی تھیں۔لیکن گجرات فساد کے بعد منظر نامہ تبدیل ہوگیا۔باقاعدہ حکمرانوں کی جانب سے وہ زبان بولی جانے لگی جو فسادیوں کی حوصلہ افزائی کا سبب بنی،ملک کے وزیر داخلہ ہوں یا کسی ریاست وزیر اعلیٰ،ان کے بیانات آپ سنیں گے تو حیرت میں پڑجائیں گے ،آپ یہ سوچنے پر مجبور ہوں گے کہ یہ لوگ کسی جمہوری ملک کے سربراہ ہیں یا کسی فرقہ پرست تنظیم کے آلہ کار۔صرف بیانات پر اکتفا نہیں ہوا بلکہ فسادات میں نمایاں رول ادا کرنے والوں کو باقاعدہ اعزازات سے نوازا گیا۔ان کو وزارتیں پیش کی گئیں۔اگر موجودہ حکومت نے دکھاوے کے لیے ان پر مقدمات قائم بھی کردیے تو اپنی حکومت بننے پر سب سے پہلا کام یہی کیا گیا کہ ان پر سے مقدمات واپس لے لیے گئے۔

فسادات کے پیچھے جو نیت اور ذہنیت کارفرما رہی ہے وہ بھی موجودہ دور میں بدل گئی ہے۔کانگریس کے دور حکومت میں جو فسادات ہوئے ان میں زیادہ تر سیاسی فسادات تھے،الیکشن جیتنے کے لیے الیکشن سے پہلے اورہارنے کی کھسیاہٹ میں کوئی نیتا فساد کروادیتا تھا،کسی لڑکی کو لے کر دو گروہ آپس میں لڑجاتے تھے،کسی جانور کا گوشت عبادت گاہوں میں پھینک دیا جاتا تھا اور دنگا ہوجاتا تھا،مسلمان ہولی کا رنگ کسی مسلمان کے اوپر ڈال دینے سے ناراض ہوجاتے تھے ،فسادیوں کا مقصد صرف مال لوٹنا تھا،کسی مذہب کا بول بالامقصد نہیں تھا۔ان میں کھلے عام مسلمانوں کے مذہبی شعائر کو گالیاں نہیں دی جاتی تھیں۔بلکہ مسلمانوں کو معاشی طور پر نقصان زیادہ پہنچایا جاتا تھا۔بازاروں اور کارخانوں میں آگ لگائی جاتی تھی ،درگاہیں اور مسجدیں کسی حد تک محفوظ تھیں،حضور اکرم ؐ کی شان میں گستاخانہ الفاظ کا استعمال نہیں ہوتا تھا البتہ پاکستان کے نام پر طعنے ضرور دیے جاتے تھے۔گجرات فساد میں سب سے زیادہ عبادت گاہوں کو نقصان پہنچا ۔اس کے بعد ہونے والے فسادات میں مذہبی شدت پسندی دیکھنے کو ملتی ہے۔اسلام کے خلاف زہر اگلا جاتا ہے ۔رسول اکرم ﷺ کی شان میں گستاخی کی جاتی ہے،داڑھیاں نوچی جاتی ہیں۔ابھی تری پورہ کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر دیکھی گئی جس میں ہندو شدت پسندوں کی ریلی میں کچھ اس طرح کے نعرے لگائے جارہے تھے،جس میں اسلام اور پیغمبر اسلام کے نازیبا اور گستاخانہ الفاظ کا استعمال کیا گیا ہے۔اس سے پہلے دہلی و ہریانہ میں ہندو سیناوغیرہ کے لیڈران کی زبان سے اس سے ملتے جلتے نعرے سننے کو ملے تھے۔تین ماہ پہلے جنتر منتر دہلی پرکھلے عام مسلمانوں کو دھمکایا جارہا تھا۔یہی نہیں موجودہ دور میں ان فسادیوں کو ہندو پنڈتوں کی رہنمائی بھی حاصل ہے۔اترپردیش کے ڈاسنا مندر کے پجاری نرسنگھ آنند کی بدتمیزیاں آج تک جاری ہیں ۔اس طرح آج مسلمانوں کے سامنے مسئلہ یہ ہے کہ وہ اپنی جان ،اپنے مال اور عزت و آبرو کو بچائیں یا اپنے دین و ایمان کی حفاظت کریں۔

جب کسی حکومت کی طرف سے ملک کے کسی خاص طبقے کو نشانہ بنایا جانے لگے تو آپ اس حکومت سے کسی خیر کی توقع نہیں کرسکتے۔ویسے تو آزادی کے بعد کانگریس کے دور حکومت میں ہونے والے فسادات کی تحقیقاتی رپورٹیں بھی صرف دیمک کی خوراک بن کر رہ گئیں،کسی بھی فساد میں مجرموں کو قرار واقعی سزا نہیں ملی،اگر ایسا کیا گیا ہوتا تو آج یہ دن دیکھنے کو نہیں ملتا۔ لیکن موجودہ حکومت تو خود ہی یہ چاہتی ہے کہ بھارت کے مسلماندوسرے درجے کے شہری بن کر رہیں،اپنی حیثیت بھول کر غلامی قبول کرلیںیا پھر ان کی گھر واپسی کرائی جائے۔ایسی حکومت سے آپ اگر یہ توقع کرتے ہیں کہ وہ فسادیوں کو سزا دے گی تو دن میں تارے دیکھنے کے مترادف ہے۔اس لیے ان فسادات کا حل خود آپ کو ہی نکالنا ہوگا۔لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ آپ فسادیوں کے خلاف قانونی لڑائی نہ لڑیں ،ابھی بھارت کے آئین پر ہمارا مکمل اعتماد ہے اس لیے قانونی جنگ جاری رہنی چاہئے ۔

میرا ایمان ہے کہ مسلمانوں سے پاک بھارت کا فرقہ پرستوں کا خواب کبھی پورا نہیں ہوگا۔امت مسلمہ اس روئے زمین پر خدا کے پیغام کی امین امت ہے ،یہ ہمیشہ رہے گی،نبی اکرم ؐ آخری رسول ہیں ،ان کے خلاف پچھلے پندرہ سو سال سے گستاخیاں کی جارہی ہیں مگر رحمۃ اللعٰلمین کے پرستاروں میں ہمیشہ اضافہ ہورہا ہے ،قرآن پاک خدا کا آخری پیغام ہے ڈیڑھ ہزار سال سے ایک لفظ مٹانا تو دور تبدیل بھی نہیں کیا جاسکا ،اس کا محافظ خود خدا ہے ۔لیکن اس ایمان کے ساتھ میرا یہ بھی ایمان ہے کہ کسی فرد یا قوم کی حالت اسی وقت بدل سکتی ہے جب وہ فرد یا قوم خود اپنی حالت بدلنے کے لیے تیار ہو،اس کی منصوبہ بندی کرے،اس پر عمل کرے ،اس قوم کا ہر فرد اپنا کردار ادا کرے،اگر زمین پرکوئی قوم خود اپنی حالت بدلنے پر تیار ہوتی ہے تو آسمان والا اس کی مدد ضرور کرتا ہے۔اگر ہزاروں سال سے مظلوم دلت مسلمانوں سے بہتر ہوسکتے ہیں،اگر ملک کے 1.72فیصد سکھ باعزت زندگی گزار سکتے ہیں تو ایک طویل عرصے تک حکمرانی کرنے والی 15 فیصد قوم اپنا وقاربحال کیوں نہیں کرسکتی؟

کچھ لوگوں کے نزدیک ان فسادات کا حل انتقام ہے ،جیسا کہ بنگلہ دیش کی وزیر اعظم کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے،کہ بھارت میں مسلمانوں کے ساتھ کچھ ہوگا تو اس کا اثر بنگلہ دیش کے ہندو بھائیوں پر بھی پڑے گا،کچھ ناعاقبت اندیش سمجھتے ہیں کہ کہیں کا بدلہ کہیں لے کر یہ مسئلہ حل کیا جاسکتا ہے ،جبکہ انتقام کا کوئی بھی جذبہ خود کشی کے مترادف ہے۔آپ ہندوستان کا بدلہ بنگلہ دیش میں یا تری پورہ کا بدلہ بنگال میں نہیں لے سکتے ،ایسی سوچ اور فکر اخلاقی پستی کی انتہا ہے۔بے گناہوں کو مار کر گناہ گاروں کو سزا نہیں دی جاسکتی اور اسلام تو اس سلسلے میں بہت سخت ہدایات دیتا ہے ۔میرے نزدیک اس کا حل یہ ہے کہ ہم خود کو ملک اور سماج کے لیے مفید بنائیں،اپنی تعلیمی پسماندگی خاص طور پر خواتین کی تعلیمی پسماندگی پر جلد از جلد قابو پائیں،اپنے کاروبارکو آپسی تعاون سے فروغ دے کر معاشی خوش حالی لائیں،برادران وطن کو اسلام کی تعلیمات سے خاص کر حضرت محمد ﷺ کی حیات طیبہ سے واقف کرائیں،اور اپنا انتقام کسی کی جان لے کر نہیں بلکہ اس کا ووٹ لے کر لیں ،ووٹ لینے کے لیے آپ کو اپنی پارٹی کی حمایت کرنا ہی ہوگی ۔جس دن آپ ووٹ دینے والوں کی صف سے نکل کرووٹ مانگنے والوں کی صف میں شامل ہوجائیں گے تو آپ حکومت میں حصے دار بن جائیں گے اور آپ کی حصے داری زمین کو فساد سے پاک کردے گی۔

(یہ مضمون نگار کے ذاتی خیالات ہیں)

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

US Iran War Strategic Defeat News
مضامین

امریکہ – اسرائیل – ایران جنگ میں امریکہ کی اسٹریٹجک ہار پہلے سے طے

23 مارچ
Hormuz Strait Iran Speech
مضامین

ایران میں قیادت کی تبدیلی اور مجتبیٰ خامنہ ای: ایک تجزیاتی مطالعہ

12 مارچ
Modi Israel Gaza Questions Debate
مضامین

پی ایم مودی کے دورہ اسرائیل میں غزہ کے مصائب کا ذکر تک نہ ہونے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ کیا چاہتا ہے بھارت ؟

28 فروری
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
Humayun Kabir Owaisi Video Row

ہمایوں کبیر کے خفیہ ویڈیو نے اویسی پر بی جے پی کی بی ٹیم کے الزام کو تقویت دی، اتحاد ٹوٹا ، سیاسی بصیرت پر بھی سوال

اپریل 10, 2026
طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

ستمبر 19, 2021
DD News Anchor Controversy News

پبلک ٹیکس سے چلنے والے ‘ڈی ڈی نیوز’ کے اینکر نے کہا” ساورکر کے چپل کی دھول بھی نہیں راہل گادھی

اپریل 13, 2026
اعصابی کمزوری کی علامات، اسباب اور علاج

اعصابی کمزوری کی علامات، اسباب اور علاج

مارچ 23, 2021
امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

اپریل 21, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

اپریل 19, 2026

حالیہ خبریں

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN