تحریر: چیتن بھگت
ہندوستانی تاریخ کا سب سے بڑا سچ یہ ہے کہ جب ہندوستان تقسیم ہوتا ہے تو وہ ہار جاتا ہے۔ زبان، مذہب، ثقافت اور حکمرانی کی بنیاد پر مختلف صوبوں میں اختلافات کی وجہ سے ایسٹ انڈیا کمپنی ہندوستان پر حکومت کر سکی۔ سیکڑوں سال بعد بے شمار قربانیوں کی بدولت ہم نے آزادی پائی۔ برطانیہ کےمقابلے تمام ہندوستانی متحد ہوئے اور ہم نے آزادی پائی ۔ اس طرح بھارت کے متحد ہونےکامطلب جیت کاجشن بنا ۔
آزادی سے عین قبل بھارت کے تقسیم کو بہتر خیالات بتایا، نتیجہ ہوا کہ ہم نے ملک کو تقسیم کردیا۔ اصل پاکستانی بھی دو حصوںمیں تقسیم ہو گیا مشرقی پاکستان اورمغربی پاکستان۔ مشرقی پاکستان بنگلہ دیش کہاجانے لگا۔ مسلم مفادات کے تحفظ کا سوال تب بھی فروغ پایا مگر دوسرا تقسیم بھی ہوا۔
ملک میں لوگوں کو نظریاتی خطوط تقسیم ہونا قابل تشویش ہے ۔ اگر یہ خلیج وسیع ہوتی ہے تو ایک بار پھر بھارت کو نقصان اٹھانا پڑے گا۔ تفرقہ انگیز سیاست کوسمجھنے اور اس کے خطرات کو پہچاننے کی ضرورت ہے ۔ سیکولرازم کا غلط استعمال ہوا ہےاوراس وجہ سے سیکولرازم کا رونا رونے والوں کی مخالفت فطری معلوم ہوتی ہے ، لیکن واضح رہے کہ بھارت سیکولرازم کے اصول پر حملہ نہ کیاجائے کیونکہ یہی ملک کی ضرورت ہے ۔
(بشکریہ: ٹائمس آف انڈیا)










