اردو
हिन्दी
مئی 10, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

’آخری رسومات، غریب تو مرنے کا بھی نہیں سوچ سکتا‘

5 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ فکر ونظر, مضامین
A A
0
’آخری رسومات، غریب تو مرنے کا بھی نہیں سوچ سکتا‘
105
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

تحریر: طاہرہ سید

قدرت کا قانون ہے کہ جو شخص اس دنیا میں آیا ہے اسے اس دنیا سے واپس بھی جانا ہوگا۔ ہم میں سے تقریباﹰ ہر شخص اپنی زندگی میں اپنے کئی متعلقین کو آخری سفر پر روانہ کرنے کا تجربہ رکھتا ہے۔ ہر ثقافت میں اپنے پیاروں کو آخری سفر پر روانہ کرنے کے موقع پر مختلف رسومات ادا کی جاتی ہیں ۔ پاکستانی معاشرے میں ہمیں اس کے کئی رنگ دیکھنے کو ملتے ہیں۔ چند دن پہلے ہمارے حلقہ احباب میں سے تقریباً پینتیس چالیس سال کی عمر کا شخص دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کر گیا۔ ان کی بیگم اس اچانک موت کو قبول ہی نہیں کر پا رہی تھیں اور شاک کی کیفیت میں تھیں۔ لیکن خاندان کی خواتین کو اس موقع پر زیادہ فکر اس بات کی تھی کہ ان کی ناک سے لونگ اتروا لی جائے اور ان کے ہاتھ سے چوڑیاں بھی اتارنی ضروری ہیں، تاکہ انہیں باقاعدہ طور پر بیوہ کا اسٹیٹس دیا جا سکے۔ سب سے زیادہ تکلیف دہ بات یہ تھی کہ خواتین ان کی لونگ اتارنے کے لیے زورآزمائی کر رہی تھیں اور مرحوم کی بیگم اس بات پر غش کھانے لگتیں کہ ان کے شوہر اب اس دنیا میں نہیں رہے۔

اگر ان کے زیورات فوری طور پر نہ اتارے جاتا تو کیا میت کو کوئی تکلیف پہنچنے کا خدشہ تھا؟ انسان ذہنی طور پر کسی حادثے کو قبول کرتا ہے پھر اس کے بعد اس کو برداشت کرنے کا مرحلہ آتا ہے اور مزید چند دن لگتے ہیں کہ وہ اس صدمے سے سنبھل کر نارمل زندگی کی طرف لوٹ سکے۔ لیکن ہمارے یہاں خاندان والے اور دیگر دوست احباب فوری طور پر فوتگی والے گھر کا انتظام اپنے ہاتھ میں لے کر ایکشن پلان شروع کر دیتے ہیں۔

ایسا لگتا ہے جیسے فوتگی والے گھر میں لوگ صرف یہی چیک کرنے آتے ہیں کہ انتظامات کیسے ہیں اور گھر والوں کے تاثرات کیسے ہیں۔ گھر کے تمام مرد حضرات میت کو دوسرے شہر سے لانے کے انتظامات اور اس کے بعد یہاں تدفین کے انتظامات میں اس قدر بھاگ دوڑ کا شکار تھے کہ انہیں اپنا غم منانے کی مہلت تک نہیں مل رہی تھی۔ ساتھ ہی گھر میں موجود مہمانوں کے لیے کھانے کے انتظامات بھی دیکھنا ضروری تھے۔ لیکن اس مشکل گھڑی میں بھی کچھ لوگ اس فکر میں مبتلا نظر آئے کہ چہرے پر غم کے آثار زیادہ نہیں لگ رہے۔ ساتھ میں اس بات کی بھی پوری طرح سے فکر کی جاتی ہے کہ دوسرے شہروں یا دوسرے ملکوں میں رہنے والی اولادیں بروقت پہنچیں یا نہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ لوگ شاید میت پر بھی صرف گوسپ کرنے ہی جاتے ہیں۔ بظاہر یہ باتیں بہت معمولی محسوس ہوتی ہیں لیکن ورثاء سے پوچھیں کہ ان کے دل پر ایسے تبصرے سن کرکیا گزرتی ہے۔

موت ایک ایسی حقیقت ہے کہ جس سے کسی کو انکار نہیں اور ہم میں سے ہر شخص کو اس تجربے سے گزرنا ہے۔ اور ہم میں سے تقریباﹰ ہر شخص اپنی زندگی میں اپنے سے پہلے مرنے والوں کو رخصت کرتا رہتا ہے۔ لیکن افسوس اس بات کا ہوتا ہے کہ جب کسی اور کے گھر میں میت ہوتی ہے تو وہاں آنے والے اس بات کو فراموش کر دیتے ہیں کہ وہ خود بھی اس تکلیف سے گزر چکے ہیں۔ یا شاید وہ ایسے تبصرے اور ایسی باتیں کرکے اپنا بدلہ لے رہے ہوتے ہیں کہ جب ہمارے گھر میں یہ صورتحال تھی تو لوگوں نے بھی ایسے ہی تبصرے کیے تھے۔

فوتگی والے گھر سے واپسی پر جس طرح کے تبصرے سننے کو ملتے ہیں وہ ہماری ذہنی سطح کا پتا دیتے ہیں۔ کس نے کیا پہنا تھا یا کس کس کے چہرے پر میک اپ کے آثار بھی نظر آ رہے تھے۔ حتٰی کہ ورثاء کے بارے میں ایسے تبصرے بھی کیے جاتے ہیں کہ ”فلاں بیٹی یا بہو تو کافی خوش لگ رہی تھی ایسا لگ رہا ہے جیسے بڑے میاں یا بڑی بی سے جان چھوٹنے پر مطمئن ہوگئی ہے‘‘۔ ہم کسی کے دل کا حال کیسے جان سکتے ہیں جو اس طرح کے تبطرے کریں۔ اصل میں مسئلہ یہ ہے کہ ہمیں ہر موقع پر صرف گوسپ کے لئے کوئی بات چاہیے ہوتی ہے۔ ادھر ادھر کی ہانکنے کے لیے کوئی موضوع چاہیے ہوتا ہے۔

میت کو دفنا کر گھر پہنچتے ہی دیگوں میں چمچوں کے کھڑکھڑا نے کی آوازیں اور بریانی کی خوشبو کسی تقریب کا ماحول بنا دیتی ہے۔ گھر والے تھکن سے اور غم سے نڈھال آنے والے مہمانوں کی خاطر تواضع میں مصروف ہو جاتے ہیں۔ کسی کو یہ فکر کہ سسرال والے کھانا کھائے بغیر نہ چلے جائیں، تو کسی کو یہ پریشانی کہ داماد کی آؤ بھگت میں کوئی کمی نہ رہ جائے۔ کوئی پانی کی فرمائش کر رہا ہوتا ہے تو کوئی ڈش میں بوٹیاں لانے کی آوازیں لگا رہا ہوتا ہے۔ اور اگر بالفرض گھر والے گوشت کے بجائے چنے کی بریانی مہمانوں کو پیش کر دیں تو پھر ان کے تبصرے دیکھنے والے ہوتے ہیں۔ مرحوم کی چھوڑی ہوئی جائیداد کا تمام حساب کتاب وہیں بیٹھ کر لگا لیا جاتا ہے۔ کسی کے سر سے باپ کا سایہ اٹھ جائے تو اسے سب سے پہلی فکریہ لگ جاتی ہے کہ گوشت والے چاول بننے ضروری ہیں۔ ورنہ تو خاندان والے جینا محال کر دیں گے کہ ساری عمر باپ نے کھلایا، اس کا آخری کھانا بھی ڈھنگ سے نہ دے سکے۔

سوچنے کی بات ہے کہ فوتگی والے گھر میں دعوت کا اہتمام کرنا کیوں ضروری ہے؟ اس حوالے سے یہ توجیح پیش کی جاتی ہے کہ گھر میں دور دراز سے آئے مہمان موجود ہوتے ہیں، جن کے لیے کھانے کا اہتمام کرنا ضروری ہے۔ لیکن دیکھا یہ گیا ہے کہ آس پڑوس والے اور اسی شہر میں رہائش پذیر دیگر رشتہ دار بھی بغیر کھانا کھائے نہیں ٹلتے۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ آپ اس صدمے سے نڈھال خاندان کو دلاسہ دینے گئے ہیں، دلاسہ دیجیے اور اپنے گھر واپس لوٹیے۔ اگر کھانے کا وقت ہے اور بھوک ستا رہی ہے تو بازار سے کچھ لے کر کھا لیں لیکن گھر والوں کو تکلیف دینے سے گریز کریں۔ اکثر اوقات خاندان والے کھانے کا اہتمام کر تو دیتے ہیں لیکن ہر کسی کے خاندان میں ایسے رشتہ دار موجود نہیں ہوتے جو اتنے بڑے مجمعے کے لیے اتنی ساری دیگیں پکوانے کے لیے تیار ہوں۔ لہذا اس صورتحال میں بنیادی ذمہ داری پھر گھر والوں کی ہی ہو جاتی ہے کہ وہ دیگوں کا آرڈر کریں۔ چاہے اس خرچ کے لیے ان کو کسی سے پیسے ادھار لینے پڑیں۔ یہ ایک ایسی رسم ہے جسے نظر انداز کرنا کسی کے بس میں نہیں ہے۔ لیکن اگر ہم سب چاہیں تو اس رسم کا خاتمہ ممکن ہے۔ میت کے ورثاء تھکن اور صدمے سے نڈھال ہوتے ہیں اور ان کے لیے ممکن نہیں ہوتا کہ وہ اپنے کھانے کا انتظام کریں۔ نہ ہی انہیں ہوش ہوتا ہے کہ وہ کھانے کی طرف دھیان دیں۔ آس پڑوس سے ان کے لیے کچھ دن تک کھانا بنا کر بھیجنا ایک احسن عمل ہے۔ اگر صرف ایک خاندان کے کھانے کا انتظام کرنا ہو تو کسی پر اتنا بار نہیں ہوتا۔ لیکن اگر میت کے جنازے میں شامل دو سو تین سو افراد کے کھانے کا انتظام کرنا ہو تو یہ ایک بہت بھاری خرچہ آ پڑتا ہے۔ اور پھر سب اس موقع پر "لوگ کیا کہیں گے” کی فکر میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔

اخلاقیات ہی ایک آدمی کو انسان بناتی ہیں۔ آپ کے دل میں دوسروں کے دکھ درد کا احساس ہی آپ کو انسانیت کے درجے پر فائز کرتا ہے۔ افسوس یہ ہے کہ ہم ایک میت کو دیکھ کر بھی یہ بات محسوس نہیں کرتے کہ انسان کتنا کمزور ہے اور کتنے مختصر وقت کے لیے اس دنیا میں آیا ہے۔ اگر آج ایک شخص چلا گیا ہے تو کل ہماری بھی باری آنی ہے۔ میت کے گھر والوں کے لئے آسانیاں پیدا کیجئے اور انہیں اس صدمے سے نکلنے میں مدد کیجیے نہ کہ ان کو مزید مشکلات کا شکار کیا جائے۔

(بشکریہ: ڈی ڈبلیو)

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

US Iran War Strategic Defeat News
مضامین

امریکہ – اسرائیل – ایران جنگ میں امریکہ کی اسٹریٹجک ہار پہلے سے طے

23 مارچ
Hormuz Strait Iran Speech
مضامین

ایران میں قیادت کی تبدیلی اور مجتبیٰ خامنہ ای: ایک تجزیاتی مطالعہ

12 مارچ
Modi Israel Gaza Questions Debate
مضامین

پی ایم مودی کے دورہ اسرائیل میں غزہ کے مصائب کا ذکر تک نہ ہونے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ کیا چاہتا ہے بھارت ؟

28 فروری
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
Humayun Kabir Owaisi Video Row

ہمایوں کبیر کے خفیہ ویڈیو نے اویسی پر بی جے پی کی بی ٹیم کے الزام کو تقویت دی، اتحاد ٹوٹا ، سیاسی بصیرت پر بھی سوال

اپریل 10, 2026
طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

ستمبر 19, 2021
DD News Anchor Controversy News

پبلک ٹیکس سے چلنے والے ‘ڈی ڈی نیوز’ کے اینکر نے کہا” ساورکر کے چپل کی دھول بھی نہیں راہل گادھی

اپریل 13, 2026
اعصابی کمزوری کی علامات، اسباب اور علاج

اعصابی کمزوری کی علامات، اسباب اور علاج

مارچ 23, 2021
امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

اپریل 21, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

اپریل 19, 2026

حالیہ خبریں

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN