نئی دہلی : (پناکی داس کی خاص رپورٹ)
تریپورہ ایک بار پھر سرخیوںمیںہے۔ اس بار پولیس کے اٹھائے قدم کی وجہ سے ۔ پولیس نے بڑی تعداد میں سوشل میڈیا یوزرس پر یو اے پی اے قانون کے تحت معاملہ درج کیاہے ۔ الزام ہے کہ ان لوگوں نے مبینہ طور پرفرضی فوٹو اور جانکاریاں آن لائن اپ لوڈ کیں جن کی وجہ سے فرقہ وارانہ کشیدگی بڑھنے کا خطرہ تھا۔
تریپورہ میں اقلیتی مسلمانوں پر حملے کا کوئی نیا واقعہ سامنے نہیں آیاہے لیکن سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر کئی اشتعال انگیز باتیں لکھی گئی جس کے خلاف پولیس نے سخت قدم اٹھائے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی ریاست بھر سے چار لوگوں کو گرفتار بھی کیا گیا ہے۔
تریپورہ پولیس کے ایگزیکٹیو پی آر او، ایڈیشنل ایس پی جیوتسمان چودھری نے بتایاکہ حالات گزشتہ نو دنوں سے پوری طرح سے قابومیں ہیں، ایک بھی واقعہ نہیں ہوا ہے۔ سوائے کچھ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر فرقہ وارانہ بھڑکانے کی کوشش کے، لیکن لوگوں نے ان کے بہکاوےمیں نہیں آ کر اپنی پختگی کا ثبوت دیا ہے ۔
’ہم نے غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ (یو اے پی اے)کے تحت 101 سوشل میڈیا اکاؤنٹ پوسٹس پر سخت کارروائی کی ہے، اس میں 68 ٹویٹر، 31 فیس بک اور دو یوٹیوب اکاؤنٹس شامل ہیں۔ ہم نے ان پلیٹ فارمز سے کہا ہے کہ وہ اکاؤنٹ ہولڈرز کی جانکاری دیں اور قابل اعتراض اور فرضی پوسٹ کو ہٹانے کے لیے قدم اٹھائیں۔‘
چودھری نے بتایا کہ اگرتلہ پولیس نے آئی پی سی کی دفعہ 153 اے، 153 بی، 469، 503، 120بی، 471، 504، 120 بی کے تحت اور غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ کی دفعات 13 کے تحت معاملہ درج کیاہے ۔ انہوں نے بتایا کہ پولیس نے انصار اندوری اورمکیش نام کے دو لوگوں کو نوٹس بھیجا ہے ۔
پولیس کا دعویٰ ہے کہ ان کے سوشل میڈیاہینڈل پر کسی دوسرے واقعہ کی تصویریں یا ویڈیو کےساتھ گمرہ کن باتیں لکھی گئی ہیں ، جس سے علاقے میں فرقہ وارانہ کشیدگی پھیل سکتی ہے۔
غور طلب بات یہ ہےکہ دونوں شخص ’’ لائیرس آف ڈیموکریسی ‘ کے ممبر ہیں اورسپریم کورٹ کے وکلاء کی چار لوگوں کی فیکٹ فائنڈنگ ٹیم کا حصہ بھی تھے جو حال ہی میں ریاست کے دورے پر آئے تھے ۔
تین دنوں کے اپنے دورے کےدوران انہوںنے متاثرین سے بات کی تھی اورفرقہ وارانہ تشدد سے متاثر جگہوں پر بھی گئےتھے۔ انہوں نے اپنی رپورٹ اگرتلہ پریس کلب میں میڈیا کے سامنے رکھی تھی اوردہلی پریس کلب میں بھی پیش کیاتھا۔
انہوں نے تشدد کے حوالہ سے کہا تھا کہ تریپورہ میں ’ مسلم پریوار اور ان کے مذہبی مقامات کو نقصان پہنچایا گیا اور پانیساگر میں وی ایچ پی اوربی جے پی کے سینئر لیڈروں کی قیادت میں 5000 لوگوں نے پیغمبر محمد ؐ کے خلاف نعرے لگائے۔ سب کچھ پولیس کے سامنے ہو رہاتھا۔‘
ایڈووکیٹ انصار اندوری کی ٹیم نے کہاکہ پانیساگر میں وی ایچ پی کی ریلی رووا بازار گئی جہاں کئی اقلیتوں کی دکان جلائی گئیں اور لوٹ پاٹ کی گئی اور ایک جے سی بی مشین کے ساتھ ایک بھیڑ نے مسجد کو نقصان پہنچایا۔ انہوں نے سوال اٹھائے ’’ بھیڑ کے ساتھ جے سی بی مشین کیوں لائی گئی تھی، کیا مقصدتھا؟‘‘
انہوںنے کہاکہ پولیس اپنی طاقت کا غلط استعمال کررہی ہے جو سہی میں قصور وار ہیں ان پر کارروائی نہ کر کے ان کے خلاف قدم اٹھارہی ہے جو زمینی حقیقت سامنے لا رہے ہیں۔
سپریم کورٹ کے وکلاء کی جانچ ٹیم اور انسانی حقوق تنظیم کی مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا گیا کہ مسلمانوںکے خلاف تشدد کے بعد جس طریقے سے حالات بگاڑے ہیں، یہ دکھاتا ہےکہ اگر سرکار چاہتی تو بھیانک تشددکو ہونے سے روکاجا سکتا تھا۔
جانچ ٹیم میں ایڈووکیٹ احتشام ہاشمی (سپریم کورٹ میں وکیل) لائیرس فار ڈیموکریسی کے ایڈووکیٹ امت سریواستو، نیشنل کانفیڈریشن آف ہیومن رائٹس آرگنائزیشن کےایڈووکیٹ انصار اندوری اور پی یو سی ایل کے ایڈووکیٹ مکیش کمار شامل تھے ۔
پولیس نے نوٹس بھیج کر تمام وکلاء کو 10نومبر تک پوچھ گچھ کے لیے جنوبی اگرتلہ پولیس اسٹیشن میں پیش ہونے کے لیے کہا ہے ۔
(بشکریہ: بی بی سی )










