گوہاٹی : (ایجنسی)
پچھلے دو سالوں میں فیس بک کی متعدد داخلی رپورٹس سےسامنے آیا ہے کہ 2019 کے لوک سبھا انتخابی مہم کے دوران ’ اقلیتی مخالف‘ اور ’مسلم مخالف‘ بیان بازی سےمنسلک پوسٹ پر ریڈ فلیگ میں اضافہ دیکھا گیا ہے ۔ بتادیں کہ فیس بک پر کسی نفرت پھیلانے والی پوسٹ کو ریڈفلیگ دیا جاتا ہے ۔ اس طرح نشان زد کئے جانے کا مطلب ہوتا ہے کہ اسے خطرے کا امکان ہے ۔ یوں کہیں کہ ریڈ فلیگ کے ذریعہ لوگوں کو ا س سے بچنے کا اشارہ دیا جاتا ہے ۔
جولائی 2020 کی ایک رپورٹ میں خاص طور پر ذکر کیا گیا ہے کہ گزشتہ 18 مہینوں میں اس طرح کی پوسٹوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ یہ رجحان مغربی بنگال سمیت کئی آنے والے اسمبلی انتخابات میں نظر آیا۔ یہ رپورٹیں یونائیٹڈ اسٹیٹس سیکورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن (ایس ای سی) کو رپورٹ کی گئی دستاویزات کا حصہ ہیں۔ امریکی کانگریس کے ذریعہ موصول نظر ثانی شدہ ورژن کا جائزہ عالمی خبر رساں اداروں بشمول دی انڈین ایکسپریس نے کیا ہے۔
بتادیں کہ آسام میںاسمبلی انتخاب سے پہلے 2021 میں ایک داخلی رپورٹ میں دعویٰ کیا کہ موجودہ آسام کے سی ایم ہیمنت بسوا سرما کو بھی فیس بک پر اشتعال انگیزو افواہوں کو پھیلانے کے لیے نشان زد ( ریڈ فلیگ ) کیا گیا تھا۔ اس میں کہا گیا تھا کہ مسلم آسام کے لوگوں پر کیمیاوی حملے کی تیاری کررہے ہیں۔ جس سے ان میں لیور، کڈنی اور دل سے متعلق بیماری پیدا ہو۔
دی انڈین ایکسپریس کے ذریعہ اس بارے میں ہیمنت بسوا سرما سے پوچھے جانے پر کہ نفرت سے بھری پوسٹ میں اپنے ’مداحوں اورحامیوں‘ کے ملوث ہونے کے بارے میں جانتے ہیں؟ اس پر سرما نے کہاکہ مجھے اس بارے میں کوئی جانکاری نہیں تھی۔ وہیں ان سے جب سوال کیا گیا کہ کیا فیس بک نے ان کے پیچ پر پوسٹ کئےگئے مواد کو نشان زد کرنے کے تعلق سے رابطہ کیا تھا تو سرما نے کہا کہ مجھ سے کسی طرح کا کوئی رابطہ نہیں کیا گیا تھا۔
بتادیں کہ ’’بھارت میں فرقہ وارانہ جدوجہد‘‘ عنوان سے ایک دیگر داخلی فیس بک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ انگریزی ،بنگالی اور ہندی میں اشتعال انگیز مواد کئی بار پوسٹ کئے گئے۔ خاص طور سے دسمبر 2019 اورمارچ 2020 میں شہریت ترمیمی قانون کے خلاف ہونے والے مظاہرے سے میل کھاتی ہے ۔










