اردو
हिन्दी
مئی 10, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

دوران حراست اموات ۔۔ سماجی و قانونی مسئلہ

4 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ فکر ونظر, مضامین
A A
0
دوران حراست اموات ۔۔ سماجی و قانونی مسئلہ
39
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

تحریر:ایڈووکیٹ ابوبکر سباق سبحانی

اترپردیش کے ضلع کاس گنج میں 22 سالہ نوجوان الطاف کی دوران حراست ہونے والی موت اور موت کے بعد پولیس کی پریس کانفرنس نیز الطاف کے والد کا بیان اور پھر کاس گنج پولیس کو دیا جانے والا متضاد بیان نے ہمارے پورے نظام اور حقائق پر سے پردہ اٹھانے کا کام کیا ہے۔ الطاف کو ایک لڑکی کے غائب ہونے کے الزام میں پوچھ تاچھ کے لئے تھانے بلایا گیا تھا، پولیس کے تھرڈ ڈگری ٹارچر کی وجہ الطاف کی موت واقع ہوجاتی ہے، پولیس اس قتل کو خودکشی کہتی ہے، پہلے دن تو الطاف کے والد اس حادثہ کو پولیس کے ذریعے قتل کہتے ہیں لیکن اگلے ہی دن پولیس کو تحریری بیان میں الطاف کے والد کہتے ہیں کہ مجھے پولیس سے کوئی شکایت نہیں ہےاور میرے بیٹے نے ڈپریشن کی وجہ سے خودکشی کرلی ہے۔ پولیس کی کہانی میں باتھ روم کی جس ٹونٹی سے لٹک کر خودکشی کرنا دکھایا گیا ہے اس پلاسٹک ٹونٹی کی اونچائی تقریبا 3-2 فٹ ہے جب کہ الطاف کی لمبائی تقریبا 5 فٹ تھی۔ میڈیا میں ہنگامہ آرائی کے بعد تھانہ کوتوال سمیت پانچ دیگر پولیس اہلکاروں کو سسپنڈ کردیا گیاہے۔ ابھی کچھ عرصے پہلے ہی اترپردیش کے اناو ضلع کے بانگرمئو میں کورونا لاک ڈاون کے دوران سبزی کا ٹھیلا لگانے کے الزام میں پولیس نے 18 سالہ جوان فیصل کو تھانے لے گئی تھی لیکن اس کے بعد گھر والوں کو فیصل کی لاش ملی، جس کے بعد دو پولیس اہلکار سسپنڈ کردیے گئے تھے۔ 

الطاف کی موت ایک حادثہ ہے، لیکن یہ حادثہ ہمیں یہ موقع بھی دیتا ہے ہم زیر حراست ہونے والی اموات اور ان اموات کی وجوہات و دیگر حقائق پر بھی روشنی ڈالیں تاکہ ہم مسئلہ کی صورت حال اور نزاکت کا اندازہ لگا کر اس کے متوقعہ حل کے سلسلے میں بھی غور کرسکیں۔ زیر حراست اموات کے اعدادوشمار تشویشناک ہیں، نیشنل کمیشن برائے حقوق انسانی (این ایچ آر سی) کے مطابق 2018-19 کے دوران پولیس حراست کے دوران 12 اموات جب کہ اسی دوران عدالتی حراست کے دوران 452 افراد کی موت واقع ہوئی ہے، اسی طرح 2019-20 کے دوران پولیس حراست میں 3 اور عدالتی حراست کے دوران 400 افراد کی موت ہوئی، 2020-21 کے دوران پولیس حراست میں 8 اور عدالتی حراست میں 443 افراد کی اموات ہوئیں، اتر پردیش میں ان تین سال کے دوران کل 1318 لوگوں کی پولیس و عدالتی حراست میں موت واقع ہوئی، اترپردیش کے یہ اعداد و شمار پورے ملک میں ہونے والی اموات کا کل 23 فیصد ہیں، جب کہ پورے ملک میں کل 5569 افراد کی موت دوران حراست ہوئیں۔

پارلیمنٹ میں ایک سوال کے جواب میں مرکزی وزارت داخلہ نے بتایا کہ گزشتہ تین سالوں (2018 سے 2021)  کے دورانیہ میں پولیس حراست میں کل 348 افراد کی موت ہوئی ہے جب کہ 1189 معاملات پولیس ٹارچر کی رپورٹ ہوئے۔ ہمارے ملک میں ٹارچر کے خلاف کام کرنے والی ایک اہم مہم “نیشنل کیمپین اگینسٹ ٹارچر (این سی اے ٹی) کی ٹارچر پر سالانہ رپورٹ کے مطابق 2020 میں ایک سال کے دوران کل 111 دوران حراست اموات ہوئیں، جب کہ نیشنل

کرائم ریکارڈس بیورو (این سی آر بی) کی رپورٹ کے مطابق کل 76 اموات 2020 میں دوران حراست ہوئیں

ٹارچر کے خلاف اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 10 دسمبر 1948 میں ایک اہم ترین معاہدہ “ٹارچر نیز دیگر اذیت ناک، غیر انسانی و ذلت آمیز برتاو کے خلاف عالمی معاہدہ” (UNCAT) پاس کیا، جس کا واحد مقصد ٹارچر کو قانونی طریقے سےغیرقانونی و قابل سزا بنانے تھی۔ اس معاہدے میں ٹارچر کی تعریف و تفصیل بیان کی گئی، نیز دوران جنگ بھی ٹارچر کو ممنوع قرار دیا گیا تھا۔ ہمارے ملک نے ٹارچر کے خلاف اقوام متحدہ کے معاہدے پر اکتوبر 1997 میں دستخط تو کئے، تاہم اپنے ملک میں اس کے نفاذ کا اقرار ابھی تک نہیں کیاگیا، بلکہ معاہدے کی دفعہ 20 اور 22 کے خلاف اپناموقف واضح کرکے اس کے نفاذ سے معذرت بھی کرلی۔

دستور ہند کا آرٹیکل 21 تمام شہریوں کو زندگی کا حق دیتا ہے جس کا مطلب ہے کہ حکومت کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ دستور و قانون کا نظام قائم کرے جہاں کسی بھی شہری کی زندگی کو کوئی خطرہ لاحق نہیں ہو نیز ہر شہری انسانی اقدار و احترام کا ساتھ زندگی گزارنے کا حق رکھتا ہو، یہ حق بنیادی حق یا حقوق انسانی کا سب سے اہم حق تسلیم کیا جاتا ہے، البتہ قوانین کی روشنی میں عدلیہ اگر کسی شہری کو قید یا موت کی سزا سناتی ہے تو وہاں بھی حکومت و عدلیہ کو یہ یقینی بنانا لازمی ہے کہ اس ملزم کو اپنا دفاع کرنے کا پورا پورا موقع ملا اور جو مقدمہ یا فیصلہ ہوا وہ برحق ہے مزید یہ کہ اس فیصلے کے خلاف ملزم اپیل کرنے کا بھی مکمل دستوری حق رکھتا ہے۔

سیپریم کورٹ آف انڈیا نے سنیل بترا بنام دہلی انتظامیہ کے کیس میں اور پھر راما مورتی بنام اسٹیٹ آف کرناٹک کے کیس میں اپنے تاریخی فیصلے تحریر کرتے ہوئے صاف الفاظ میں یہ واضح کیا ہے کہ قیدی بھی انسان ہیں اور حراست کے دوران ان کے بنیادی حقوق ختم نہیں کئے جاسکتے ہیں۔ ان بنیادی حقوق کے تحفظ کو خاص اہمیت دیتے ہوئے دستور ہند کے باب سوم میں بنیادی حقوق کو ابتدائی اہمیت دیتے ہوئے سپریم کورٹ آف انڈیا کو دستوری و بنیادی حقوق کی حفاظت کی ذمہ داری دیتے ہوئے نگران کی ذمہ داری دی ہے، نیز سپریم کورٹ و ہائی کورٹ کو آرٹیکل 32 اور 226 میں خصوصی اختیارات سے بھی نوازا گیا ہے۔  ان صریح حقوق و تلخ حقائق کے باوجود ہمارے ملک کے دستور یا تعزیراتی قوانین میں کہیں بھی ٹارچر یا دوران حراست موت کی تعریف یا سزا و ممانعت کا کوئی تذکرہ موجود نہیں ہے، بلکہ عمومی دفعات یعنی دوران حراست موت کے قتل ثابت ہونے کے ممکنہ تمام شواہد کے بعد ہی انڈین پینل کوڈ (مجموعہ تعزیرات ہند) کی دفعہ 302 کے تحت بمشکل مقدمہ درج کیا جاتا ہے۔

دستور ہند کی آرٹیکل 20 کی ذیلی شق 3 کے تحت کسی بھی شخص کو اس پر لگے الزام کے لئے گواہ نہیں بنایا جاسکتا ہے۔ یہ دفعہ شہریوں کے دیے گئے دستوری حقوق اور ٹارچر سے تحفظ دینے کی غرض سے شامل کی گئی تھی، کیونکہ پولیس ٹارچر عموما حراست میں لینے کے فورا بعد گناہ قبول کروانے نیز اقبالیہ بیان حاصل کرنے کی غرض سے ہوتے ہیں۔ انڈین ایویڈنس ایکٹ کی دفعہ 25 کے تحت بھی کسی بھی ملزم سے پولیس حراست کے دوران لیا گیا اقبالیہ بیان قابل قبول ثبوت تسلیم نہیں کیا جائے گا، تاہم پولیس حراست کے دوران ہونے والے ٹارچر میں نیشنل کرائم ریکارڈس  بیورو کے مطابق 2016 سے 2017 میں دوران حراست اموات کی شرح میں 9 فیصدی اضافہ ہوا ہے۔

حکومت ہند نے 2008 میں “انسداد ٹارچر بل” پارلیمنٹ میں پیش کیا، اس بل کے مطابق اگر کوئی بھی سرکاری ملازم مع پولیس پرسنل اگر کسی بھی شخص کو چوٹ پہنچائے جو کہ اس کی زندگی کے لئے خطرہ پیدا کرسکتی ہو یا کسی عضو یا جسمانی صحت کو نقصان ، یا کسی بھی قسم کی جسمانی یا ذہنی تکلیف کا سبب بنے تو وہ سرکاری ملازم مع پولیس کے سزاوار ہوں گے، نیز کسی قسم کی معلومات یا اقبالیہ بیان کے لئے ٹارچر کا استعمال کیا تو یہ سزا پانے کا جرم ہوگا۔ یہ بل لوک سبھا میں تو پاس ہوگیا تاہم راجیہ سبھا میں بحث کے دوران کچھ اعتراضات ہوئے جس کے بعد اس بل کو 2010 میں دوبارہ پیش کیا گیا تاہم آج تک وہ بل پارلیمنٹ سے پاس ہوکر قانون کا درجہ حاصل نہیں کر سکا اور نہ ہی شہریوں کو دوران حراست ہونے والے ٹارچر سے کوئی تحفظ فراہم ہوا۔

ٹارچر کی وجہ سے حراست کے دوران موت کی صورت میں ہمارے کرمنل جسٹس سسٹم میں اصلاح کی ضرورت و پولیس نظام کو قانونی پشت پناہی کس درجہ تک حاصل ہے اس کو سمجھنے کے لئے آسام پولیس کا ایک کیس ہماری آنکھیں کھول سکتا ہے۔ آسام کے ضلع کوکراجھار کی ایک ضلعی عدالت نے 1999 کے پولیس حراست کے دوران ٹارچر سے ایک 19 سالہ لڑکے کی موت کے ایک حادثہ میں اکتوبر 2018 کو تقریبا بیس سال کے بعد آئی جی پولیس انوراگ ٹنکھا کے خلاف گرفتاری کا وارنٹ جاری کیا تھا، وارنٹ جاری ہونے کے بعد حکومت نے متعلقہ پولیس آفیسر کے خلاف فوجداری مقدمہ چلانے کا اجازت نامہ (سینکشن آرڈر) دینے سے انکار کردیا جو کہ کرمنل پروسیجر کوڈ کی دفعہ 197 کے تحت ضروری قرار دیا گیا ہے۔ یہاں یہ سوال بہت اہمیت کا حامل ہے کہ پولیس نظام کی اصلاح و جوابدہی طے کرنے کے لئے آزادی سے لے کراب تک کسی بھی حکومت کے ذریعے کوئی بھی عملی اقدامات نہیں کئے گئے جب کہ کرمنل پروسیجر کوڈ کی دفعہ 197 کے تحت انگریز حکومت کا دیا گیا تحفظ آج تک پولیس کے افراد و آفیسران کو حاصل ہے۔ضروری ہے کہ اس مسئلہ پر سنجیدگی لائحہ عمل تیار کیا، حکومت و عدلیہ سے سوال کیا جائے، نیز دستور ہند و دیگر قوانین میں فراہم بنیادی حقوق و تحفظات ہر عام شہری کو حاصل ہوں۔

(یہ مضمون نگار کے ذاتی خیالات ہیں)

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

US Iran War Strategic Defeat News
مضامین

امریکہ – اسرائیل – ایران جنگ میں امریکہ کی اسٹریٹجک ہار پہلے سے طے

23 مارچ
Hormuz Strait Iran Speech
مضامین

ایران میں قیادت کی تبدیلی اور مجتبیٰ خامنہ ای: ایک تجزیاتی مطالعہ

12 مارچ
Modi Israel Gaza Questions Debate
مضامین

پی ایم مودی کے دورہ اسرائیل میں غزہ کے مصائب کا ذکر تک نہ ہونے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ کیا چاہتا ہے بھارت ؟

28 فروری
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
Humayun Kabir Owaisi Video Row

ہمایوں کبیر کے خفیہ ویڈیو نے اویسی پر بی جے پی کی بی ٹیم کے الزام کو تقویت دی، اتحاد ٹوٹا ، سیاسی بصیرت پر بھی سوال

اپریل 10, 2026
طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

ستمبر 19, 2021
DD News Anchor Controversy News

پبلک ٹیکس سے چلنے والے ‘ڈی ڈی نیوز’ کے اینکر نے کہا” ساورکر کے چپل کی دھول بھی نہیں راہل گادھی

اپریل 13, 2026
اعصابی کمزوری کی علامات، اسباب اور علاج

اعصابی کمزوری کی علامات، اسباب اور علاج

مارچ 23, 2021
امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

اپریل 21, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

اپریل 19, 2026

حالیہ خبریں

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN