لکھنؤ :(ایجنسی)
یوپی کے الیکشن میں صرف ترقی کی بات نہیں ہوتی۔ذات – مذہب تک بھی اس الیکشن کو محدود نہیں رکھا جا رہا ہے ۔ اس بار تاریخ کے دم پر بھی انتخابی داؤ چل رہے ہیں۔ اسی وجہ سے اب جناح کے بعد یوپی کی سیاسی جنگ میں راجہ چندر گپت موریہ کی انٹری ہوگئی ہے۔ سی ایم نے یہ مسئلہ اٹھایا ہے اور اویسی نے پلٹ وار کر دیا ہے ۔
وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے اتوار کو برہمن پریوار لکھنؤ کے 16ویں یوم تاسیس میں حصہ لیاتھا۔ اس پروگرام میں اپنے خطاب میں وزیر اعلیٰ نے طالبان سے لے کر چندرگپت تک، تاریخ کے بہت سے پرانے صفحات کو پلٹا۔ چندرگپت موریہ پر بات کرتے ہوئے سی ایم یوگی نے مورخین پر طنز کیا۔ ان کے مطابق لوگ چندرگپت کو عظیم نہیں مانتے۔
تاریخ کو کیسے مسخ کیا جاتا ہے۔ ہماری تاریخ چندرگپت موریہ کو عظیم نہیں مانتی، انہوں نے تو اس شخص کو عظیم بتا دیا ہے جو چندر گپت سے جنگ ہار گئے تھے۔سکندر ،انہیں سکندر اعظم کہا جاتا ہے ۔ ملک کے ساتھ یہ بڑا دھوکہ ہوا ہے ۔ لیکن ہمارے مورخ خاموش بیٹھے ہیں ، وہ سچ نہیں بتا رہے ہیں ۔
اب سی ایم یوگی کے اسی بیان پر اے آئی ایم آئی ایم کے سربراہ نے پلٹ وار کیا ہے۔ انہوں نے چندر گپت کتنے عظیم ہیں، اس پر بحث نہیں کی ہے ، بلکہ اسے چھوڑ یوگی کے علم کو چیلنج کیا ہے ۔ اویسی کے مطابق سی ایم یوگی کو اس معاملہ میں کوئی علم نہیں ہے ، وہ صرف سہولیت کے حساب سے بیان دے رہے ہیں۔ وہ تعلیم کو کوئی اہمیت نہیں دیتے ہیں، اس دوران انہوں نے سی ایم کو مسلسل ’بابا‘ کہہ کر مخاطب کیا۔
ہندوتوا محض ایک فرضی تاریخ کی فیکٹری ہے۔ چندرگپت اور سکندر توکبھی نہیں لڑے تھے۔ ان کے درمیان کوئی جنگ نہیں ہوئی تھی۔ کسی کا یہ کہنا ہی یہ بتاتا ہے کہ ملک کو ایک اچھے تعلیمی نظام کی اشد ضرورت ہے۔ اچھے اسکولوں کے نہ ہونے کی وجہ سے بابا لوگ اپنے من سے کچھ بھی حقائق بنا کر انہیں دیتے ہیں۔ بابا تعلیم کو کوئی اہمیت نہیں دیتے ہیں اور اس کا اظہار ان کے بیانات سے ہوتا ہے۔
ویسے چندرگپت کے علاوہ سی ایم یوگی نے بھی برہمن سماج کے بارے میں کافی باتیں کیں۔ پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ برہمن کا مطلب سنسکار سے ہے،دھرم سے ہے ، جس نے ناسازگار حالات میں مذہب نہیں چھوڑا، وہ برہمن ہے۔ معاشرہ ان اقدار کی وجہ سے عزت کا احساس رکھتا ہے۔ طالبان کو نشانہ بناتے ہوئے یوگی نے کہا ہے کہ جس افغانستان کا تعلق ہمارے ملک سے رامائن اور مہابھارت کے دور سے ہے، جب طالبان نے اس ملک پر قبضہ کیا تھا، کیا مہذب معاشرہ ان طالبان کی کارروائیوں کی حمایت کر سکتا ہے۔ کرنا بھی نہیں چاہیے۔
اپنے خطاب میں سی ایم نے اکھلیش یادو پر بھی طنز کیا۔ ان کے بقول اگر سردار پٹیل سے ملک کی شاہی ریاستوں کو ایک ساتھ لانے میں کوئی غلطی کی ہوتی تو آج ہمارے ملک کی تصویر کیا ہوتی۔ آج ایسے قومی ہیرو کا جناح سے موازنہ کرکے پوری نسل کو نیچا دکھانے کا کام کیا جا رہا ہے۔










