اردو
हिन्दी
مئی 10, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

ملک کا ہرگوشہ مسلمانوں کے لیے تنگ ہو گیا

4 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ فکر ونظر, مضامین
A A
0
ملک کا ہرگوشہ مسلمانوں کے لیے تنگ ہو گیا
57
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

تحریر: کلیم الحفیظ-دہلی

کاس گنج ریاست اتر پردیش میں پولس کسٹڈی میں 22سالہ الطاف کی موت ہوگئی ۔پولس کا بیان ہے کہ اس نے واش روم کی ٹونٹی سے لٹک کر خود کشی کرلی،خود کشی کے لیے اس نے جیکٹ کی ڈوری کا استعمال کیا۔جیکٹ کی ڈوری اور تین فٹ اونچی ٹونٹی کی اوقات دیکھیے اور پولس کا بیان ملاحظہ کیجیے اور اپنا سر پیٹ لیجیے۔کاش پولس کہہ دیتی کہ الطاف کی موت دل کا دورہ پڑنے سے ہوئی ہے تو شاید صبر بھی آجاتا اور لوگ یقین بھی کرلیتے ،مگر قتل کبھی چھپتا نہیں ،قاتل کوئی نہ کوئی نشان چھوڑدیتا ہے یا اس کے بیان میں وہ الفاظ ہوتے ہیںجو اسے قاتل ثابت کرنے کے لیے کافی ہوتے ہیں۔

بھارت میں پولس کسٹڈی میں اموات کا سلسلہ بہت پرانا ہے ،جب مسلمانوں کا سینہ سامنے ہو تو پولس کی گولیاں اپنا نشانہ نہیں چوکتیں،ہزاروں واقعات ہیں جہاں پولس نے سیدھے گولی مارکر ہلاکتیں کی ہیں ،کسی زمانے میں بدنام زمانہ پی اے سی تھی ،ہاشم پورہ ملیانہ فساد کے موقع پر ۲۵مسلمانوں کو سیدھے گولی مار کر ہنڈن ندی میں بہادیا گیا تھا۔پولس کی جانب سے جھوٹے بیانات ،زور زبردستی کرکے اہل خانہ سے اپنے بیانات پر دستخط کروالینا،بہت زیادہ ہنگامہ ہوا تو کچھ سپاہیوں کو معطل کردینا اور پھر خاموشی سے بحال کرلینا،عدالتوں میں گواہوں کو خریدنا یا دھمکانا ،ہمارے ملک کی شناخت ہے ۔الطاف کی موت کا حادثہ بھی کوئی آخری حادثہ نہیں ہے ۔روزانہ کوئی نہ کوئی الطاف اس طرح کے حادثوں کا شکار ہورہا ہے اور ہوتا رہے گا۔کتنے ہی دل دہلادینے والے واقعات چند مہینوں میں واقع ہوئے ،مدھیہ پردیش کے اندور میں ایک چوڑی فروش پر تشدد کیا گیا،اتر پردیش میں ہی ایک لڑکے کو مندر میں پانی پینے پر پیٹا گیا۔دہلی میں پہلے ایک پھل فروش پر اور ابھی حال ہی میں ایک بریانی بیچنے والے پر ظلم کیا گیا۔لیکن سب سے زیادہ اندوہ ناک حادثہ کانپور میں ہوا۔ جب پولس کے سامنے ایک رکشہ پولر کو ہندو شدت پسند مارتے رہے اور اس کی معصوم بچی اپنے باپ کے پائوں سے لپٹ کر بچانے کی اپیل کرتی رہی ۔اس طرح کے مناظر سے بھی اگر پولس کا،تماش بینوں کا یا ہمارا دل نہیں پگھلتا تو ہمیں خود کو زندہ سمجھنے بلکہ انسان کہنے کا کوئی حق نہیں ۔اس کا مطلب ہے کہ ہمارے جسم میں دل نہیں ہے پتھر ہے ۔

تعجب یہ ہے کہ کہیں کوئی چوڑی فروش ،کہیں سبزی فروش،کہیں بریانی فروش ،اسی طرح زدو کوب کیے جارہے ہیں اور کسی طرف سے مدد کرنے والے ہاتھ نہیں اٹھتے ،کیا یہ ملک حیوانوں سے بھر گیا ہے ،جانور بھی اپنے ہم جنسوں کی مدد کو آگے آجاتے ہیں ۔کیا یہاں امن پسندوں کی تعداد ختم ہوگئی ہے ،یوں تو یہ حادثات پورے ملک میں ہورہے ہیں لیکن اترپردیش اس طرح کے حادثات میں سر فہرست ہے ،اور کیوں نہ ہو جب قاتلوں کو سرکار کی حمایت حاصل ہو ،جب انھیں جیلوں میں ڈالنے کے بجائے ان پر پھول مالائیں ڈالی جارہی ہوں،جب خود پردیش کا وزیر اعلیٰ مظفر نگر فساد کو ریاست کی شان بان بتائے ۔ان حالات میں مظلوم کیا کریں ،جب ملک کا ہر گوشہ ان کے لیے مقتل بن گیا ہو۔؟

ہمارے حکمرانوں نے یہ بھی سوچا ہے کہ جب ظلم حد سے بڑھ جاتا ہے تو اس کا نتیجہ کیا ہوتا ہے۔جب فرعون کا سر اٹھتا ہے تو کوئی نہ کوئی عصائے موسوی لے کر کھڑا ہوجاتا ہے ۔کیا انھیں نہیں معلوم کہ مظلوم کی آہیں کیا رنگ دکھاتی ہیں؟کبھی وہ خالصتان تحریک شکل اختیار کرتی ہے ،کبھی نکسل ازم کی شکل میں نمودار ہوتی ہیں۔تعجب یہ ہے کہ نہ عوام میں کوئی بیداری ہے ،نہ خواص میں ،تری پوری میں فساد ہوتا ہے اور کھل کر خون کی ہولی کھیلی جاتی ہے ۔اس فساد کے خلاف مظلومین پرامن مارچ نکالتے ہیں تو ان پر پتھرائو کیا جاتا ہے ،گولیا ںبرسائی جاتی ہیں۔یعنی آپ ماریں بھی اور رونے بھی نہ دیں۔جسمانی تشدد کے ساتھ مسلمانوں کے احساسات کو تکلیف پہنچاکر انھیں دماغی اور ذہنی اذیت پہنچائی جارہی ہے ۔ملک کاگودی میڈیا زہر اگل رہا ہے ،فسطائی سیاست داں جھوٹ اور غلط بیانیوں سے کام لے کر ٹارچر کررہے ہیں،پولس جس کا کام انسانی جانوں کی حفاظت ہے ،بربریت پر اتر آئی ہے۔کیاملک کا ضمیر مر چکا ہے۔ہمیں یہ بات نہیں بھولنا چاہئے کہ ظلم کی عمر بہت زیادہ نہیں ہوتی ۔کسی بھی ملک کی ترقی امن و سلامتی کے پائدان پر کھڑی ہوتی ہے،جس ملک کی سرحدیں غیر محفوظ ہوں اسے اپنے گھر میں جھگڑا نہیں کرنا چاہئے،چین مستقل در اندازی کررہا ہے ،اروناچل پردیش میں سینکڑوں گھر اس نے تعمیر کرلیے ہیں پاکستان ہمارا ازلی دشمن ہے اس سے کسی خیر کی توقع فضول ہے ،اب حسینہ بھی آنکھیں دکھانے لگی ہے، نیپال بھی اعتماد کھو چکا ہے،ایسے میں ہمارے سماج میں نفرت پر مبنی یہ سیاست ،حکومتی اداروں کے یہ مظالم ،کسی ایک قوم کو ٹارگیٹ کرکے مار پیٹ اورقتل نیز ان مظالم پر خاموشی آخر ملک کو کہاں لے جائے گی۔بے روزگاری ،غریبی میں اضافہ،سرکاری کمپنیوں کی نیلامی،اور پرائیویٹائزیشن،نے ملک کی معیشت تباہ کردی ہے اورفسطائی طاقتوں نے ملک کی اخلاقی ساکھ خراب کردی ہے۔

ملک کے ان حالات میں خیر امت کی ذمہ داری ہے کہ وہ عقل و ہوش سے کام لے ۔اب تجربات کرنے کا نہیں بلکہ نتیجہ خیز اقدام کرنے کا وقت ہے۔خود کی کمزوریاں دور کرنے کا وقت ہے ،فضول رسموں میں پیسہ اور وقت برباد کرنے کا نہیں کچھ تعمیری کام کرنے کا وقت ہے ۔آپس میں دست بہ گریباں ہونے کا نہیں ہاتھ میں ہاتھ ڈال کر کمزوروں کو اوپر اٹھانے کا وقت ہے۔مایوس ہوکر گھر بیٹھ جانے کا نہیں کمر کس کر میدان عمل میں کود جانے کا وقت ہے ۔ سوال ہمارا نہیں بلکہ ہماری آنے والی نسلوں کا ہے۔کیا ہم انھیں ایسا ملک چھوڑ کر جائیں گے جہاں ان کی شناخت کی ہر چیز مٹ جائے گی؟ یہ اہم سوال ہے جس کے جواب کی ضرورت ہے ۔

اپنی گلیوں ،محلوں اور بستیوں کی حفاظت کی منصوبہ بندی کیجیے ،اپنے درمیان اگر شر پسند عناصر ہوں تو ان کی اصلاح کیجیے،اپنے وقت کی منصوبہ بندی کیجیے ،ظاہر ہے ہمارے ساتھ جو کچھ ہورہا ہے اس میں ہماری جہالت اور غربت دونوں ہی شامل ہیں اس لیے ان دونوں کو دور کرنے پر توجہ دیجیے۔ہر شخص کو اپنے مسائل خود حل کرنے ہیں،اس لیے خود کوشش کیجیے ،ذمہ دار اپنی ذمہ داری کا حق ادا کریں لیکن عوام بھی اپنے ذمہ داروں کا ہاتھ مضبوط کرے ،اپنے مقام اور اپنی حیثیت کو پہچانیے ،نام نہاد سیکولر پارٹیوں کے جھانسے میں مت آئیے ،وہ آپ کو اپنے اسٹیج سے دھکا دے رہی ہیں ،آپ انھیں دھتکار دیجیے ،خود کو اتنا ذلیل مت کیجیے ،اتنا مت جھکیے کہ دستار ہی گر جائے ۔اس سر کے تقدس کا کچھ تو خیال کیجیے جو اللہ کے آگے جھکتا ہے۔دنیا تو خراب ہوگئی ہے اب آخرت ہی بچا لیجیے۔ آخری بات یہ ہے کہ اللہ سے اپنے تعلق کو مضبوط کیجیے ،اپنے گناہوں سے توبہ کیجیے،اس کے احکامات پر عمل کیجیے ،آپ اللہ کے حبیب کی امت میں ہیں ،اپنے رسول کی عزت اور عظمت کا پاس کیجیے ،ان کے احکامات کا کھلے عام مذاق نہ بنائیے ورنہ اللہ ایسے ہی ظالم ہم پر مسلط کردے گا جوہمارے قتل کو خود کشی کا نام دیں گے اور ہمارے قتل کا الزام ہم پر لگادیں گے۔

کیوں ہوئے قتل ہم پر یہ الزام ہے
قتل جس نے کیا ہے وہی مدعی
قاضی وقت نے فیصلہ دے دیا
لاش کو نذر زنداں کیا جائے گا
اب عدالت میں یہ بحث چھڑنے کو ہے
یہ جو قاتل کو تھوڑی سی زحمت ہوئی
یہ جو خنجر میں ہلکا سا خم آ گیا
اس کا تاوان کس سے لیا جائے گا


(یہ مضمون نگار کے ذاتی خیالات ہیں)

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

US Iran War Strategic Defeat News
مضامین

امریکہ – اسرائیل – ایران جنگ میں امریکہ کی اسٹریٹجک ہار پہلے سے طے

23 مارچ
Hormuz Strait Iran Speech
مضامین

ایران میں قیادت کی تبدیلی اور مجتبیٰ خامنہ ای: ایک تجزیاتی مطالعہ

12 مارچ
Modi Israel Gaza Questions Debate
مضامین

پی ایم مودی کے دورہ اسرائیل میں غزہ کے مصائب کا ذکر تک نہ ہونے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ کیا چاہتا ہے بھارت ؟

28 فروری
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
Humayun Kabir Owaisi Video Row

ہمایوں کبیر کے خفیہ ویڈیو نے اویسی پر بی جے پی کی بی ٹیم کے الزام کو تقویت دی، اتحاد ٹوٹا ، سیاسی بصیرت پر بھی سوال

اپریل 10, 2026
طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

ستمبر 19, 2021
DD News Anchor Controversy News

پبلک ٹیکس سے چلنے والے ‘ڈی ڈی نیوز’ کے اینکر نے کہا” ساورکر کے چپل کی دھول بھی نہیں راہل گادھی

اپریل 13, 2026
اعصابی کمزوری کی علامات، اسباب اور علاج

اعصابی کمزوری کی علامات، اسباب اور علاج

مارچ 23, 2021
امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

اپریل 21, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

اپریل 19, 2026

حالیہ خبریں

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN