تحریر: فیضان احمد
حال ہی میں اتر پردیش کے کاس گنج میں الطاف نامی نوجوان کی پولیس حراست میں موت ہو گئی۔ پولیس نے کہا کہ یہ خودکشی تھی۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوا کہ کوئی تقریباً ڈھائی فٹ کے پائپ سے لٹک کر خودکشی کیسے کر سکتا ہے۔ اہل خانہ نے پولیس پر قتل کا الزام لگایا۔ موت پولیس حراست میں ہوئی تاہم نامعلوم پولیس اہلکاروں کے خلاف قتل کی ایف آئی آر درج کر لی گئی۔ ظاہر ہے سب کچھ عجیب ہو رہا ہے۔ یہاں ہم آپ کو یوپی پولیس سے متعلق ایسی ہی پانچ کہانیاں بتا رہے ہیں۔
ہاتھرس کیس میں 19 سالہ لڑکی کا اجتماعی زیادتی کے بعد قتل کر دیا گیا

اتر پردیش کے ہاتھرس میں 19 سالہ دلت لڑکی کی عصمت دری اور قتل کا معاملہ پورے ملک میں زیر بحث رہا۔ اس میں اتر پردیش حکومت اور پولیس پر من مانی طریقہ سے کارروائی کرنے کا الزام لگایا گیا تھا۔ کبھی ہاتھرس کے ضلع مجسٹریٹ کے متاثرہ خاندان کو دھمکیاں دینے کی ویڈیوز منظر عام پر آتی ہیں تو کبھی میڈیا کے ساتھ پولیس کے ٹکراؤ کی تصویریں منظر عام پر آتی رہیں۔ اتر پردیش پولیس پر یہ بھی الزام لگا کہ انہوں نے جبراً پریوار کے کسی بھی فرد کوشامل کیے بغیر آدھی رات کو من مانی طور پر مقتول کی آخری رسومات ادا کردیں۔
پولیس کی جانب سے بتایا گیا کہ ایسا اس لیے کیا گیا کہ اگر ایسا نہ ہوا تو اگلے دن انہیں ہاتھرس میں کسی بڑے واقعے کے اشارے مل گئے تھے۔ اگر اسے مان بھی لیا جائے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ پولیس کا ماننا تھا کہ پیشگی اطلاع کے باوجود وہ ہاتھرس میں امن و امان برقرار کے قابل نہیں تھی۔
وکاس دوبے انکاؤنٹر

گینگسٹر وکاس دوبے کے انکاؤنٹر نے اتر پردیش پولیس کو پورے ملک میں زیر بحث لایا۔ آٹھ پولیس اہلکاروں کے قتل کے ملزم گینگسٹر وکاس دوبے نے مدھیہ پردیش میں خود سپردگی کر دی۔ اتر پردیش پولس کی اسپیشل ٹاسک فورس ملزم وکاس دوبے کو مدھیہ پردیش سے یوپی لا رہی تھی۔
مشہور واقعہ کی وجہ سے میڈیا کی درجنوں گاڑیاں بھی پولیس قافلے کے پیچھے تھیں جن میں وکاس دوبے کو لایا جا رہا تھا۔ اچانک میڈیا کی گاڑیاں روک دی گئیں اور کچھ ہی دیر بعد اتر پردیش پولیس نے بتایا کہ ملزم وکاس دوبے کا انکاؤنٹر ہو گیا ہے، کیونکہ گاڑی اچانک الٹ گئی تھی اور جیسے ہی گاڑی الٹ گئی، وکاس دوبے نے بندوق چھین لی اور بھاگنے کی کوشش کی۔
جس جگہ گاڑی الٹی وہاں صرف ہائی وے اور کھیت تھے یعنی کسی کے لیے بھی بھاگ پانا آسان نہیں تھا۔ اس کے باوجود پولیس نے دعویٰ کیا کہ پہلے سڑک حادثہ ہوا تھا، جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے وکاس دوبے نے فرار ہونے کی کوشش کی، اس لیے وہ مارا گیا۔
اتر پردیش کے سابق وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو نے پورے واقعہ پر لکھا۔ ’’دراصل یہ گاڑی پلٹی نہیں ہے، راز افشا ہونے سے حکومت پلٹنے سے بچائی گئی ہے۔‘‘ پولیس کی اس کہانی پر سیاستدانوں سے لے کر عام لوگوں کو بھی یقین نہیں آیا اور لوگ سوشل میڈیا پر اس کہانی کا مذاق اڑاتے رہے۔
لونی میں ایک ہی جگہ پر سات بدمعاشوں کو گولیاں لگیں

دہلی سے متصل لونی میں اترپردیش پولس کا ایک انکاؤنٹر سامنے آیا ہے، جس کے چرچے زوروں پر ہیں۔ گائے کے ذبیحہ کی شکایت پر کارروائی کرنے پہنچی اتر پردیش پولس کا بدمعاشوں سے مڈبھیڑ ہوگئی۔ پولیس نے بتایا کہ مڈبھیڑمیں بدمعاشوں کی طرف سے کئی راؤنڈ فائرنگ کی گئی جس میں کسی پولیس اہلکار کے زخمی ہونے کی کوئی اطلاع نہیں ہے ،لیکن ایک گولی پولیس کی گاڑی پر لگی۔
جوابی کارروائی میں پولیس نے بھی کئی راؤنڈ فائر کیے لیکن معلومات کے مطابق پولیس کی گولی ساتوں ملزمان کے جسم کے ایک ہی حصے میں، ایک ہی جگہ پر لگی۔ بتایا گیا کہ ساتوں ملزمان کو گھٹنے سے نیچے کی ٹانگ میں گولی ماری گئی۔ پولیس نے ملزمان سے 7 پستول، 12 کارتوس اور 7 خول برآمد کر لیے۔ بتایا گیا کہ دونوں ملزمان اس تصادم کے درمیان فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ اتر پردیش پولیس کے اس قدم پر کچھ ہندو تنظیموں نے پولیس کو بھی اعزاز سے نوازا۔ لیکن مڈبھیڑ کے بعد تھانے کے ایس ایچ او کا تبادلہ کر دیا گیا۔
ٹھائیں – ٹھائیں کی آواز سے گینگیسٹر کا مقابلہ

12 اکتوبر 2018 کو پولیس اتر پردیش کے سنبھل میں ایک بدمعاش کا انکاؤنٹر کرنےکے لیے گئی تھی۔ مڈبھیڑ کے درمیان جب بندوق جام ہو گئی تو سب انسپکٹر منوج کمار نے اپنے منہ سے’ ‘ٹھائیں- ٹھائیں‘ کی آواز نکال کر بدمعاشوں کو ڈرانا شروع کر دیا۔ یہ کام کرتے ہوئے ان کے ساتھ تعینات ان کے کسی ساتھی نے واقعہ کی ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر ڈال دیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے ویڈیو انٹرنیٹ پر وائرل ہو گئی اور لوگ سب انسپکٹر منوج کمار سمیت اترپردیش پولیس کو ٹرول کرنے لگے۔
لیکن اس کے برعکس محکمہ پولیس نے سب انسپکٹر منوج کمار کے کام کو بہادری کا کام قرار دیتے ہوئے انہیں انعام دینے کا اعلان کیا۔ ٹھائیں – ٹھائیں کے 13 سیکنڈ کی اس ویڈیو نے اترپردیش پولیس کو طویل عرصے تک بحث میں رکھا۔ یہاں تک دہلی کے کناٹ پیلس میں کچھ لوگوں نے ’ٹھائیں – ٹھائیں ‘ چلانے کاایک پروگرام بھی رکھا تھا۔
5 #فٹ کے الطاف نے ڈھائی فٹ کے پائپ سے لٹک کر خودکشی کر لی

اب بات ہو رہی ہے اس معاملے کی جس کی وجہ سے اتر پردیش پولیس اس وقت سب سے زیادہ بحث میں ہے۔ الطاف کی موت پر کاس گنج کے ایس پی روہن بوترے نے کہا کہ الطاف نےحوالات میں لگی پائپ سے اپنے جیکٹ میں لگے ناڑے کی مدد سے لٹک کر خودکشی کرلی۔
جب پائپ کی تصویر سامنے آئی تو اس کی اونچائی صرف ڈھائی فٹ تھی جبکہ الطاف کی لمبائی پانچ فٹ بتائی جارہی ہے۔ اگر پولیس کی کہانی پر یقین کیا جائے تو پانچ فٹ کے الطاف نے ڈھائی فٹ کے پائپ سے لٹک کر اپنی جان کیسے لی ہوگی، اس سوال نے کئی لوگوں کو مخمصے میں ڈال رکھا ہے۔
اس کے ساتھ ہی پولیس کا کوئی قصور نہیں تھا، اس کے باوجود پانچ پولیس اہلکاروں کو فوری طور پر معطل کر دیا گیا اور پولیس کی جانب سے لواحقین کو 5 لاکھ روپے معاوضے کی پیشکش بھی کی گئی۔ تاہم پولیس نے معاوضے کی پیشکش کو مسترد کر دیا ہے۔ اب نامعلوم پولیس اہلکاروں کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔
(بشکریہ: دی کوئنٹ ہندی)










