تحریر: سیما چشتی
دنیا بھر میں جمہوریت کی حالت پر نظر رکھنے والی تنظیمیںوی- ڈی ای ایم (V-DEM ) اور فریڈم ہاؤس (Freedom House)نے بھارت میں جمہوری زوال کی طرف توجہ مبذول کرائی ہے۔ فریڈم ہاؤس نے جہاں بھارت کو جزوی طور پر آزاد خیال مانا ہے، وہیں وی – ڈی ای ایم نےاسے ’ انتخابی جمہوریت‘ قرار دیاہے۔ لیکن کہانی اتنی ہی نہیں ہے، سویڈن کے اننٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ فار ڈیموکریسی اینڈ الیکٹورل اسسٹنس ( انٹرنیشنل آئی ڈی ای اے) نے ایک مخصوص مسئلہ کی طرف توجہ مبڈول کرائی ہے ، جس کےسنگین نتائج ہوسکتے ہیں ۔
یہ تنظیم کئی ممالک کی حکومتوں کی تھنک ٹینک ہے، ہندوستان اس کے فاؤنڈر ممبر میں ہے ۔ اس تنظیم کے مطابق دنیا کی 70 فیصد آبادی یا تو غیر جمہوری ممالک میں رہتی ہے یا پھر ایسے ممالک میں جہاں جمہوریت کمزور ہو رہی ہے۔ اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت، برازیل اور امریکہ میں جمہوریت سب سے زیادہ کمزور ہو رہی ہے۔ پچھلے 5 سالوں میں جمہوریت کو کمزور کرنے کے معاملے میں ہندوستان اس خطے میں کمبوڈیا کے بعد دوسرے نمبر پر ہے۔
اس رپورٹ میں نہ صرف الگ الگ ممالک کا موازنہ کیا گیا ہے بلکہ ان ممالک کے اپنے ماضی کے تجربات کا بھی موازنہ کیا گیا ہے۔ اس میں ہندوستان کے بارے میں ایسی باتوں کا ذکر ہے، جو ہندوستان کی جمہوریت میں دلچسپی رکھنے والے لوگوں کو بیدار کرنے والی ہیں۔
بھارت تمام معیارات پر گر پڑا
ایسا لگتا ہے کہ ہندوستان انسٹی ٹیوٹ کے ’گلوبل اسٹیٹ آف ڈیموکریسی انڈیکس‘ میں تقریباً ہر پیرامیٹر پر گرتا نظر آ رہا ہے۔ اس رپورٹ میں 116 انڈیکس کا استعمال کیا گیا ہے۔ ان انڈیکس کو 5 میٹرکس میں تقسیم کیا گیا ہے۔ یہ نمائندہ حکومتیں ، بنیادی حقوق، حکومت پر نظر رکھنا، غیر جانبدارانہ انتظامیہ اور شرکت۔ اس کے تحت دنیا کے ممالک کو 1975 سے جائزہ لیا جانے لگا۔ اس انڈیکس میںبھارت کو کل ملا کر ’ میڈیم پرمارمنگ ڈیموکریسی ‘ کے طور پر بتایاگیاہے، لیکن اس میں 2015 سے 2020 کےدرمیان تیزی سے گراوٹ دیکھی گئی ہے ۔
نمائندہ حکومتوں کے معیار پر ہندوستان کا اسکور 1975 میں.59 تھا۔ 2015 تک اس میںتیزی دیکھی گئی ، جب یہ بڑھ کر 72.تک پہنچ گیا تھا، لیکن تب سے ہی اس میں گراوٹ دیکھی جا رہی ہے ۔ 2020 میں یہ .61 تھا ۔ یہ ایمرجنسی کے وقت کے اعدادو شمار کے برابر ہے ۔
بنیادی حقوق کی بات کریں تو اس پیرامیٹر پر بھارت کااسکور 2010 میں .58 تھا۔ 2020 تک یہ گر کر .54 پہنچ گیا۔ شہری آزادیوں کےمعیار میں گراوٹ دیکھی گئی۔ 2010 میں .65 سے گر کر یہ 2020 میں .53 تک پہنچ گیا۔
مذہبی آزادی کے معیار میں اب تک کی سب سے بڑی گراوٹ بھی دیکھی گئی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت، انڈونیشیا، سری لنکا سمیت کئی ممالک کی سیاست میں مذہب داخل ہو چکا ہے، ایسی چیزیں تکثیریت کو نظر انداز کرتی ہیں، معاشرے میں پولرائزیشن کو بڑھاتی ہیں اور کئی معاملات میں تنازعات کو جنم دیتا ہے۔ جس سے جمہوریت کمزور ہوتی ہے۔
اس میں کہا گیا کہمسلسل انتخابات کا ذکر کرکے اکثر جمہوریت کو کمزور ہونے کے سوال پر پردہ ڈال دیا جاتا ہے۔ صاف شفاف انتخابات کے معاملے میں بھی گزشتہ 5 سالوں میں کمی آئی ہے، 2015 میں اس پیرامیٹر پر اسکور .85 تھا جو 2020 میں کم ہو کر .65 پر آ گیا ہے۔
بھارت میں اداروں کی نگرانی کا نظام ناکام ہو رہا ہے
اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جمہوریت سماج کی طاقت ہوتی ہے، ایک دوسرے کی نگرانی کرنے والےاداریں ،بالخصوص ایگزیکٹیو کی نگرانی ۔ لیکن بھارت میں پچھلے 5 سالوں میں اداروں کا اہم کردار کم ہوا ہے۔ 2010 اور 2020 کے درمیان اس کا اسکور .71 سے 58گر کر .58 پہنچ گیاہے۔ خاص کر گزشتہ 5 سالوں میں یہ .62 سے گر کر .58 پہنچ گیاہے ۔ حکومت کی نگرانی سے متعلق دیگر ذیلی معیارات میں بھی کمی دیکھی گئی ہے۔ پارلیمنٹ کا اثر و رسوخ 9.6 فیصد، میڈیا کا تقدس 7.9 فیصد، جب کہ عدالتی آزادی میں 2.5 فیصد کمی واقع ہوئی۔
جمہوریت کی کمزوری میں کورونا کا کردار
اس رپورٹ میں دنیا کی جمہوریتوں پر کورونا وبا کے اثرات کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ وبائی مرض نے ایشیا اور بحرالکاہل میں پہلے سے موجود جمہوری طاقتوں اور حکمرانی کے نظام میں کمزوریوں کو بڑھاوا دیا ہے۔ اس خطے میں انڈونیشیا، فلپائن اور سری لنکا کی حالت بھی خراب ہے۔
رپورٹ میں لاک ڈاؤن اور کرفیو وغیرہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اس سیکٹر میں صحت سے متعلق احتیاطی اقدامات کے ذریعے شہری آزادیوں پر حملہ کیا گیا۔ بڑی تعداد میں لوگوں کو گرفتار کیا گیا، پولیس فورس کا زیادہ استعمال کیا گیا، اور بحران سے نمٹنے کے طریقے کی مذمت کرنے پر فوجداری مقدمات درج کیے گئے۔ بھارت میں لاک ڈاؤن اور کرفیو کی وجہ سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور اس کے نتیجے میں ہونے والی اموات کا بھی رپورٹ میں ذکر کیا گیا ہے۔
بین الاقوامی اداروں کی جانب سے بھارت کے معاملات میں جانبداری کا الزام لگایا جاتا رہا ہے، لہٰذا اب بھارت میں جمہوریت کی کیا حالت ہے، یہ سمجھنے کے لیے کرسٹوف جیفرلیٹ کی کتاب ’مودیز انڈیا‘ کا مطالعہ کرنا چاہیے، یہ 2021 کی بہترین کتابوں میں بتائی جا رہی ہے۔ اس کے علاوہ آکار پٹیل کی price of the Modi Yearsبھی بھارت کس راستے پر جا رہا ہے ، اس کی جانکاری دیتا ہے ۔ دیباشیش چودھری اور جان کین کی حالیہ کتاب ’ٹو کِل اے ڈیموکریسی: انڈیاز پاسیج ٹو ڈسپوٹزم‘ میں بھی ہندوستانی جمہوریت کو درپیش خطرات کا ذکر ہے۔ تاہم اس کتاب کے پبلشر نے اسے بھارت میں شائع نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
(یہ مضمون نگار کے ذاتی خیالات ہیں)










