لکھنؤ: (ایجنسی)
اتر پردیش میں نوکریوں کی مانگ کرتے ہوئے نوجوان آئے دن احتجاج کرتے ہیں۔ اکثر پولیس نوجوانوں پر لاٹھی چارج کرتی ہے۔ وہیں سرکار مسلسل دعویٰ کرتی رہی ہے کہ بی جے پی حکومت آنے کے بعد بے روزگاری میں کمی آئی ہے۔ سرکاری دستاویزات میں درج اعداد وشمار کی بات کریں تو یوگی آدتیہ ناتھ کا دعویٰ بھی بالکل صحیح ہے۔ سینٹر فار مانیٹرنگ انڈین اکنامی ( سی ایم آئی ای) کے اعداد وشمار کے مطابق سال 2016 میں بے روزگاری کی شرح 16.82فیصد تھی جو کہ سال 2021 کے مئی- اگست میں گھٹ کر 5.41فیصد ہو گئی۔
اس کے مطابق، پچھلے پانچ سالوں میں یوپی میں بے روزگاری کی شرح میں 17 فیصد کی کمی آئی ہے۔ تاہم، یہ اعداد و شمار ایک مکمل تصویر پیش نہیں کرتے ہیں۔ سی ایم یوگی جس اعداد و شمار کی بات کرتے ہوئے روزگار دینے کی بات کر رہے ہیں، اسی ڈیٹا کو اگر دوسرے طریقے سے دیکھیں تو اس میں بھی کمی نظر آتی ہے ۔ یوگی حکومت پانچ سال پہلے اور آج کے اعداد و شمار کا موازنہ کر رہی ہے۔ لیکن مارچ 2017 میں یوپی کی بے روزگاری کی شرح کم ہو کر 3.75ہوگئی تھی۔ یہ بات بھی سی ایم آئی ای کے اعدادو شمار میں ہی درج ہے۔ سال 2017 میں یوپی میں بی جےپی کی سرکار بنی تھی۔ اس حساب سے دیکھیں تو اقتدار سنبھالنے کے بعد روزگار کی صورت حال بہتر نہیں ہوئی بلکہ خراب ہو ئی ہے۔ وہیں یوگی راج میں کام کرنے والوں کی تعداد بھلے ہی 184 لاکھ ہوگئی ہے لیکن کام صرف ایک لاکھ کو ملا ہے ۔

کیسے ہوا اعداد وشمار کا کھیل!
درحقیقت یہ اعداد و شمار نکالنے کے لیے لیٹر فورس پارنٹریسیپشن ریٹ ( ایل ایف پی آر) کی ضرورت ہو تی ہے۔ ایسے لوگ جو 15 سال یا اس سے زیادہ کےہیں ان کو دو کیٹیگری میں تقسیم کیا جاتا ہے ۔ پہلے زمرے میں ایسے لوگ ہوتے ہیں جن کے پاس روزگار ہےاور دوسرے زمرےمیں وہ ہوتے ہیں جن کے پاس روزگار نہیں ہے اوروہ کام کرنا چاہتےہیں ۔ ان دونوں کو ایل ایف پی آر میں رکھا جاتاہے۔ اس کے بعد جن کے پاس روزگار نہیںہے ان کا روزگار والوں کے ساتھ تناسب نکالا جاتا ہے ۔ اسی کو بے روزگاری شرح ( یو ای آر ) نام دیا جاتا ہے۔
اگر ہم مئی 2016 اور اپریل 2017 کے درمیان دیکھیں تو روزگار کی طلب میں زبردست کمی آئی تھی۔ دراصل زیادہ تر ان لوگوں کو بے روزگار کے طور پر شمار کیا گیا تھا جنہوں نے نوکری کی مانگ کرنی بند کر دی تھی۔ اس کے بعد ایل ایف پی آر کم ہو گیا۔ اسی وجہ سے بےروزگاری شرح بھی کم ہو گئی۔ براہ راست یوں کہہ سکتے ہیں کہ یہ بے روزگاری شرح اس لئے نہیں گھٹی کیونکہ زیادہ تر لوگوں کو نوکریاں دی گئی بلکہ اس لئے گھٹ گئی کیونکہ لوگوںنےنوکری کی مانگ کم کر دی۔
سال 2016 میں جب نوٹ بندی ہوئی تھی تب بے روزگاری میں تیزی سے اضافہ ہوا تھا۔ دسمبر 2016 اور اپریل 2017 کے درمیان ایل ایف پی آر 46 فیصد سے گر کر 38 فیصدی ہو گیا تھا۔ اسی وجہ سے بے روزگاری شرح16 فیصد سے گھٹ کر 4 فیصدپر آگئی تھی۔ اسی طرح کووڈ بحران کے دوران بھی لوگ اپنے اپنے گاؤں پہنچ گئے اور روزگار کی مانگ کم کردی۔










