اردو
हिन्दी
مئی 10, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

ہجوم کا انصاف

4 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ فکر ونظر, مضامین
A A
0
ہجوم کا انصاف
84
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

تحریر: اوریا مقبول جان

جلسے، جلوس، ریلیاں، احتجاج اور ان کے نتیجے میں پھوٹ پڑنے والے ہنگامے اور ان ہنگاموں میں اِملاک کو نذرِ آتش کرنا، مخالفین کو قتل کرنا، مار مار کر اَدھ مواء کر دینا اور یہ سب کچھ کرنے کے بعد فتح و نصرت کے شادیانے بجانا، یہ سب چودہ سو سال کی اسلامی تاریخ کا کبھی حصہ نہیں رہا۔ یہ رویہ اور یہ طرزِ عمل اس جدید دُنیا کو جمہوری نظام کا تحفہ ہے۔ قدیم بادشاہتوں میں بھی عوامی ردّعمل کی یہ صورت کبھی نہیں ہوتی تھی اور نہ ہی لوگوں کے جمِ غفیر نے کبھی اس طرح عدالتیں لگا کر فیصلے سنائے تھے۔ یہ سب کچھ جمہوری مزاج کا حصہ ہے، جس کے خطرناک نتائج سے ڈھائی ہزار پہلے یونان کے فلسفی سقراط نے آگاہ کیا تھا۔ اس کی وہ تقریر، جمہوریت اور ہجوم کی سیاست پر، ایک بسیط تبصرہ ہے، جو اس نے اس عدالت کے روبرو کی تھی جس میں اس کا مقدمہ چل رہا تھا۔ انسانی تاریخ میں ہجوم کی یہ پہلی عدالت تھی جو برسرِعام لگائی گئی۔

ایتھنز شہر کا ہر فرد ہجوم کی صورت اس عدالت کا حصہ تھا۔ ایک بہت بڑے سٹیڈیم میں جمع ہونے والے اس ہجوم کے سامنے سقراط تنہا کھڑا تھا۔ سقراط کی اس ہجوم کے سامنے تقریر کو اس کے شاگرد افلاطون (Plato) نے اپنی کتاب ’’سقراط کا معذرت نامہ‘‘ (Apology of Socrates) میں اور ایتھنز کی افواج کے کمانڈر زینو فون (Xenophon) نے اپنی کتاب ’’عدالت کے سامنے سقراط کا معذرت نامہ‘‘ (Apology of Socrates to the Jury) میں آنے والی صدیوں کیلئے محفوظ کر دیا ہے۔ سقراط نے کہا، ’’میرا فیصلہ ایک ہجوم کر رہا ہے اور ہجوم کبھی درست فیصلہ نہیں کر سکتا‘‘۔ اس نے کہا، ’’اے ایتھنز والو! میں تمہای عزت کرتا ہوں۔ مجھے تمہارا احترام ہے، لیکن میں تم سب کے مقابلے میں خدا کی اطاعت کروں گا‘‘۔ جس دَور میں ایتھنز میں جمہوریت اپنے عروج پر تھی اور شہری ریاستوں کا آئیڈیل جمہوری نظام نافذالعمل تھا، سقراط اس وقت بھی اس جمہوری نظام کے خلاف سراپا احتجاج تھا۔ افلاطون کی کتاب ’’الجمہوریہ ‘‘ (The Republic) جو سقراط کی مختلف افراد سے گفتگو پر مبنی ہے، اس کے چھٹے حصے میں وہ ایک شخص ایڈیمنٹس (Adeimantus) سے مخاطب ہو کر کہتا ہے کہ ’’معاشروں کی مثال ایک سمندری جہاز کی طرح ہوتی ہے تم اس جہاز کو یقیناً کسی ایسے شخص کے حوالے کرو گے جو جہاز رانی کے فن کو جانتا ہو۔ ایک جاہل، اَن پڑھ اور گنوار شخص کو ووٹ کا حق دینا بالکل ایسے ہی ہے جیسے ایک یونانی جہاز (Trireme) جو طوفان کی حالت میں سموس (Samos) جزیرے کی سمت جا رہا ہو، اور اس کی قیادت ایک نااہل شخص کے سپرد کر دی جائے‘‘۔

پانچ سو افراد جو ایتھنز کے شہری تھے، ان کی سقراط کے خلاف لگائی گئی عوامی عدالت نے جب اسے سزائے موت سنائی تو وہ مسکرایا اور اس نے کہا، ’’وقت آ رہا ہے کہ میں تو مر جائوں گا مگر تم زندہ رہو گے، لیکن ان دونوں میں سے کون سی بات بہتر ہے، صرف خدا جانتا ہے۔ آوازِ ربّانی نے مجھے نہیں ٹوکا، یقین جانو، میری موت کے بعد تمہیں سخت سزا ملنے والی ہے‘‘۔ عدالت جسے سقراط نے ہجوم قرار دیا تھا، اس کے فیصلے کے مطابق اسے جیل میں بند کر دیا گیا۔ دوست اسے بھاگنے کا مشورہ دیتے رہے لیکن وہ مقررہ وقت کے مطابق تیس دن بعد زہر کا پیالہ ہونٹوں کو لگا لیتا ہے۔جمہوریت اور اس سے جنم لینے والے ہجوم کے تصورِ انصاف سے سقراط نے ڈھائی ہزار سال پہلے خبردار کیا تھا۔ یونان کی شہری ریاستوں کی جمہوریت کو تو اسپارٹا کے جرنیلوں نے ختم کر دیا، لیکن جدید فلسفی اس کی جمہوری راکھ سے ’’عوام کی حاکمیت‘‘ کی چنگاری اُٹھا لائے اور اس سے موجودہ جمہوری نظام تخلیق کیا گیا، جس نے دُنیا بھر کے معاشرتی خرمن کو آگ دکھا دی۔

سقراط ایتھنز والوں سے بار بار پکار کر کہتا رہا کہ عوام کے جمِ غفیر کے مقابلے میں اس ایک شخص کی رائے بھی زیادہ محترم اور معزز ہے جو جانتا ہو، علم رکھتا ہو یا جسے خدا نے حقائق سے آگاہ کیا ہو، آج کا جمہوری نظام سقراط کی اس وارننگ کے بالکل برعکس انہی عوامی بنیادوں پر استوار ہے، مگر پورے انسانی معاشرے میں کوئی ایک بھی سقراط موجود نہیں جو اس ’’عوامی جہالت‘‘ کے سامنے کھڑا ہو جائے۔ ’’عوامی جہالت‘‘ جب رائے میں تجسیم ہوتی ہے تو پھر جاہل حکمران جنم لیتے ہیں اور ان جاہل حکمرانوں کے مقابلے میں بھی جاہل مخالفین ہی پیدا ہوتے ہیں، جنہیں ’’اپوزیشن‘‘ کہا جاتا ہے۔ ایک کے ہاتھ میں ریاست کی قوت ہوتی ہے اور دوسرے کے ہاتھ میں ہجوم کی قوت۔ ’’ریاست کی طاقت‘‘ اور ’’ہجوم کی قوت‘‘ کی کشمکش سے ساری جمہوری سیاست عبارت ہے۔ ریاست کمزور ہو تو ہجوم جیتتا ہے، اور ریاست طاقتور ہو تو ہجوم کی شکست ہوتی ہے۔

(یہ مضمون نگار کے ذاتی خیالات ہیں)

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

US Iran War Strategic Defeat News
مضامین

امریکہ – اسرائیل – ایران جنگ میں امریکہ کی اسٹریٹجک ہار پہلے سے طے

23 مارچ
Hormuz Strait Iran Speech
مضامین

ایران میں قیادت کی تبدیلی اور مجتبیٰ خامنہ ای: ایک تجزیاتی مطالعہ

12 مارچ
Modi Israel Gaza Questions Debate
مضامین

پی ایم مودی کے دورہ اسرائیل میں غزہ کے مصائب کا ذکر تک نہ ہونے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ کیا چاہتا ہے بھارت ؟

28 فروری
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
Humayun Kabir Owaisi Video Row

ہمایوں کبیر کے خفیہ ویڈیو نے اویسی پر بی جے پی کی بی ٹیم کے الزام کو تقویت دی، اتحاد ٹوٹا ، سیاسی بصیرت پر بھی سوال

اپریل 10, 2026
طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

ستمبر 19, 2021
DD News Anchor Controversy News

پبلک ٹیکس سے چلنے والے ‘ڈی ڈی نیوز’ کے اینکر نے کہا” ساورکر کے چپل کی دھول بھی نہیں راہل گادھی

اپریل 13, 2026
اعصابی کمزوری کی علامات، اسباب اور علاج

اعصابی کمزوری کی علامات، اسباب اور علاج

مارچ 23, 2021
امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

اپریل 21, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

اپریل 19, 2026

حالیہ خبریں

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN