اردو
हिन्दी
مئی 10, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

آفسپا قانون – ضرورت یا ظلم

4 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ فکر ونظر, مضامین
A A
0
آفسپا قانون – ضرورت یا ظلم
58
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

تحریر: ایڈووکیٹ ابوبکر سباق سبحانی

دسمبر کی 4 تاریخ کو ناگالینڈ کے مون ضلع میں فوج نے ایک آپریشن کے دوران 14 افراد کو اپنی گولیوں کا نشانہ بنایا، ناگالینڈ میں آزادی کے وقت سے ہی علیحدگی پسند تحریکیں پورے زور شور سے متحرک رہی ہیں، تاہم مارے گئے 13 افراد کا تعلق کونیک قبیلے سے تھا جو کہ عموما حکومت کا حامی تسلیم کیا جاتا ہے، اس حادثے کے بعد سلامتی افواج کو مخصوص اختیارات دینے والے قانون آرمڈ فورسیز اسپیشل پاورس ایکٹ کو لے کر بحث شروع ہوگئی ہے، یہ قانون ہماری افواج کو لامحدود اختیارات فراہم کرتے ہیں حتی کہ کوئی بھی فوجی کسی بھی شہری پر صرف شک کی بنیاد پر گولی چلا سکتا ہے، اور اس قتل کے جرم میں اس فوجی کے خلاف کوئی قانونی کاروائی نہیں کی جاسکے گی، اس حادثے کے بعد ایک بار پھر آفسپا قانون کو ختم کرنے کی آواز اٹھنی شروع ہوگئی ہے، ۷ دسمبر کو ناگالینڈ کیبنیٹ نے آفسپا قانون کو ختم کرنے کی سفارش منظور کی ہیں، آفسپا قانون کے خلاف ناگالینڈ و نارتھ ایسٹ کے دیگر صوبوں میں ایک لمبے عرصے سے آوازیں اٹھتی رہی ہیں، آفسپا قانون کے خاتمے کی مانگ لے کر ہی سال 5 نومبر 2000 میں سماجی کارکن اروم شرمیلا بھوک ہرتال پر بیٹھی تھیں اور 16 سال مکمل کرنے کے بعد9 اگست 2016 میں اپنی بھوک ہڑتال ختم کی۔

8 اگست 1942 میں آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے بامبے سیشن کے دوران مہاتما گاندھی نے “بھارت چھوڑو تحریک” کی بنیاد رکھی تھی، بھارت چھوڑو تحریک نے انگریز حکومت کے لئے اس ملک میں اپنے اقتدار کو محفوظ رکھنا مشکل ہوگیا تھا، انگریز حکومت نے اس تحریک کو اپنی فوجی طاقت کے زور پر ختم کرنے کے لئے 15 اگست 1942 کو چار آرڈیننس پاس کئے، جو کہ “بنگال ڈسٹرب ایریاز (اسپیشل پاورس آف آرمڈ فورسیز) آرڈیننس” ، “آسام ڈسٹرب ایریاز (اسپیشل پاورس آف آرمڈ فورسیز) آرڈیننس”، “ایسٹ بنگال ڈسٹرب ایریاز (اسپیشل پاورس آف آرمڈ فورسیز) آرڈیننس” ، اور “یونائیٹیڈ پروونسیز ڈسٹرب ایریاز (اسپیشل پاورس آف آرمڈ فورسیز) آرڈیننس” شامل تھے، 1947 میں آزادی کے بعد ہماری حکومت نے تقسیم ہند کے بعد ملک کے مختلف علاقوں میں ہونے والی داخلی دراندازیوں کو روکنے کی غرض سے ان آرڈیننس کو دوبارہ نافذ کیا، لیکن آفسپا کو باقاعدہ قانون کی شکل 1958 میں ملی جب وزیراعظم جواہرلال نہرو نے پارلیمنٹ کے ذریعے یہ قانون پاس کیا۔

آفسپا قانون کا اطلاق نارتھ ایسٹ صوبوں کے علاوہ جموں وکشمیر اور پنجاب میں نافذ کیا گیا، سب سے پہلے پنجاب سے اس قانون کا نفاذ ہٹایا گیا جس کے بعد تریپورہ اور میگھالیہ سے بھی اس کا خاتمہ ہوا تاہم جموں وکشمیر، آسام، ناگالینڈ، میزورم، منی پور اور اڑوناچل پردیش میں ابھی تک اس قانون کو نافذ رکھا گیا ہے جہاں سلامتی افواج کو غیر معمولی اختیارات و مراعات حاصل ہیں۔ یہ قانون صوبے کے گورنر یا مرکز کے ماتحت صوبوں کے منتظم کو ہی یہ اختیار دیتا ہے کہ وہ کسی صوبے یا صوبے کے کسی بھی حصے کی ڈسٹرب علاقہ کے طور پر نشاندہی کریں۔ دستور ہند کی آرٹیکل 355 کے تحت مرکزی حکومت کی دستوری ذمہ داری ہے کہ وہ ملک کے ہر صوبے و علاقے میں داخلی امن و امان قائم رکھے اور ہر طرح کے خلل سے محفوظ رکھنے کی کوشش کرے، اسی آرٹیکل کے تحت مرکزی حکومت کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ کسی بھی علاقے کو ڈسٹرب علاقہ تسلیم کرکے وہاں مرکزی قانون آفسپا کے تحت مرکزی افواج کو غیر معمولی اختیارات کے ساتھ تعینات کردے، ان غیر معمولی اختیارات میں فوج کسی کو بھی بغیر کوئی وجہ بتائے یا وارنٹ لئے یا دکھائے بغیر گرفتار کرسکتی ہے، کسی کے گھر یا کسی بھی جگہ کوئی سرچ وارنٹ لئے بغیر داخل ہوکر سرچ کرسکتی ہے اور اس سرچ یا تلاشی کے لئے فوج کو کسی بھی مروجہ قانون کا پاس و لحاظ رکھنا ضروری نہیں ہوگا، نیز صرف شک کی بنیاد پر ہی کسی کے اوپر گولی چلائی جاسکتی ہے نیز کسی کی جان جانے پر بھی اس فوجی کے خلاف قتل کا مقدمہ درج نہیں ہوگا اور نا ہی مروجہ قوانین کے تحت پولیس گرفتار کرسکتی ہے اور نا ہی مروجہ عدالتی نظام کے تحت یا فوجداری قوانین کی روشنی میں اس کو عدالت میں پیش کرکے مقدمہ چلایا جائے گا۔

1958 کے قانون “آرمڈ فورسیز اسپیشل پاورس ایکٹ” ( آفسپا ) کے خاتمے کے لئے 1997 میں “ناگاپیوپلس موومنٹ آف ہیومن رائٹس” نے یونین آف انڈیا کو پارٹی بناتے ہوئے پٹیشن داخل کیا تھی، اس پٹیشن میں آفسپا کی دستوری حیثیت کو چیلنج کیا گیا تھا، نیشنل ہیومن رائٹس کمیشن (این ایچ آر سی) بھی اس مقدمے میں پارٹی یعنی رفیق مقدمہ تھا، بحث میں کہا گیا کہ صوبے میں لا اینڈ آرڈر کو قائم کرنا یا بحال رکھنا صوبہ کی دستوری ذمہ داری ہے، پارلیمنٹ صوبے کے لا اینڈ آرڈر کے ضمن میں کوئی قانون نہیں پاس کرسکتا ہے، دستور کے آرٹیکل 352 میں ایمرجنسی کے نفاذ سے متعلق شقات درج کی گئی ہیں، جس میں صوبے کی پولیس و انتظامیہ کے اختیارات مرکزی حکومت کے پاس چلے جاتے ہیں، جب کہ آفسپا قانون کے نفاذ کے بعد صوبے کی پولیس و انتظامیہ کے اختیارات منتقل ہی نہیں بلکہ پورے نظام کے اختیارات ہی سلب ہوجاتے ہیں، حتی کہ عدلیہ کے اختیارات بھی محدود ہوجاتے ہیں۔

سپریم کورٹ کی پانچ ججوں پر مشتمل بنچ نے متفقہ طور پر اس قانون کو قائم و دائم رکھتے ہوئے پٹیشن کو خارج کردیا، تاہم سپریم کورٹ نے یہ تشریح ضرور کردی کہ اس قانون کا اطلاق وقتی طور پر ہی کیا جائے گا نیز حالات کے استوار ہوتے ہی اس قانون کو واپس لے لیا جائے گا، اس کے ساتھ ہی ساتھ کسی بھی صوبے یا علاقے کو ڈسٹرب علاقہ تسلیم کرنے سے پہلے صوبائی حکومت کی رائے لینی ضروری ہوگی نیز وقتا فوقتا صورت حال کا جائزہ لینا ضروری ہوگا، سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں یہ حکم تو دیا کہ فوج اس قانون کے تحت حاصل اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے بھی کم سے کم طاقت کا ہی استعمال کرے گی تاہم حالیہ حادثہ نے سپریم کورٹ کے فیصلے کو تارتار کردیا۔ آفسپا کی دفعہ 6 کے تحت متاثر شخص کے ذریعے اس کے ساتھ ہوئے حادثہ میں اختیارات کے غلط یا ناجائز استعمال کی شکایت ایک شکایت نامہ دے کر کی جائے گی، انکوائری کے بعد اگر الزامات صحیح ثابت ہوئے تو متاثرہ شخص کو معقول معاوضہ دیا جائے گا جب کہ متعلقہ فوجی یا فوجی افسر کے خلاف قانونی کاروائی کے لئے سینکشن آرڈر فراہم کیا جائے گا۔

2004 میں کانگریس حکومت نے سپریم کورٹ کے ریٹائر جج جسٹس جیون ریڈی کے ماتحت ایک پانچ ارکان پر مشتمل ایک کمیٹی کی تشکیل دی جس سے ہم جسٹس جیون ریڈی کمیشن کے نام سے واقف ہیں، اس کمیٹی نے 2005 میں اپنی رپورٹ پیش کرتے ہوئے کہا آفسپا قانون ظلم و زیادتی کا ایک نشان بن گیا ہے نیز اس قانون کو ختم کرنے کی سفارش پیش کیں۔ اس کے بعد ایک دوسرا کمیشن ویرپا موئلی کی قیادت میں بنایا گیا لیکن کسی بھی حکومت نے ایمانداری کے ساتھ اس قانون کو نا تو ختم کرنے کی کوئی سنجیدہ کوششیں کیں اور نا ہی اس کے غلط استعمال کو روکنے کی غرض سے آفسپا قانون میں کوئی ترمیم و تنسیخ کی۔

اس قانون کے تحت حقوق انسانی کی خلاف ورزی کا حالیہ حادثہ اپنی نوعیت کا کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے، 2012 میں منی پور کی ایک سماجی تنظیم “اکسٹراجوڈیشیل اکزیکیوشن ویکٹم فیملیز ایسوسئیشن آف منی پور” نے سپریم کورٹ میں پٹیشن داخل کرتے ہوئے دعوی کیا کہ 1979 سے 2012 کے دوران سلامتی افواج کے ذریعے اس کالے قانون آفسپا کا غلط استعمال کرتے ہوئے کل 1528 فرضی انکاونٹر کئے گئے ہیں۔ سپریم کورٹ نے تین رکنی کمیٹی کے ذریعے 2009 کے 6 فرضی انکاونٹر کے معاملات میں انکوائری کا حکم دیا تھا اور اس کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق وہ تمام 6 معاملات میں فوج نے فرضی انکاونٹر کیا تھا۔ اگر ہماری مرکزی حکومت واقعی امن و امان کی بحالی کو لے کر سنجیدہ ہے تو کالے قوانین کے ذریعے عوام پر ظلم و ستم یا فوج کا خوف طاری کرنے کے بجائے عوام میں دستور ، عدلیہ و حکومت کے تئیں ایمان و اطمینان قائم کرنے کی کوشش کرے۔

(یہ مضمون نگار کے ذاتی خیالات ہیں)

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

US Iran War Strategic Defeat News
مضامین

امریکہ – اسرائیل – ایران جنگ میں امریکہ کی اسٹریٹجک ہار پہلے سے طے

23 مارچ
Hormuz Strait Iran Speech
مضامین

ایران میں قیادت کی تبدیلی اور مجتبیٰ خامنہ ای: ایک تجزیاتی مطالعہ

12 مارچ
Modi Israel Gaza Questions Debate
مضامین

پی ایم مودی کے دورہ اسرائیل میں غزہ کے مصائب کا ذکر تک نہ ہونے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ کیا چاہتا ہے بھارت ؟

28 فروری
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
Humayun Kabir Owaisi Video Row

ہمایوں کبیر کے خفیہ ویڈیو نے اویسی پر بی جے پی کی بی ٹیم کے الزام کو تقویت دی، اتحاد ٹوٹا ، سیاسی بصیرت پر بھی سوال

اپریل 10, 2026
طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

ستمبر 19, 2021
DD News Anchor Controversy News

پبلک ٹیکس سے چلنے والے ‘ڈی ڈی نیوز’ کے اینکر نے کہا” ساورکر کے چپل کی دھول بھی نہیں راہل گادھی

اپریل 13, 2026
اعصابی کمزوری کی علامات، اسباب اور علاج

اعصابی کمزوری کی علامات، اسباب اور علاج

مارچ 23, 2021
امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

اپریل 21, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

اپریل 19, 2026

حالیہ خبریں

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN