اردو
हिन्दी
مئی 10, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

آزاد بھارت میں ملی سیاست، راستہ اور منزل

4 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ مضامین
A A
0
270
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp


مولانا عبدالحمید نعمانی
کسی بھی ملک میں تمام تر مساوی حقوق کے ساتھ ایک شہری کے طورسے باعزت زندگی گزارنا،اہم ترین بات ہے۔ یہ بھارت کے سلسلے میں بھی یہی صورت وحالت ہے۔ اس میں سیاست و قیادت کا بڑا رول ہوتا ہے۔ آزادی سےپہلے، دیگر مذاہب والوں کی طرح، مسلم اکابرو قائدین نے بھی ملک وملت کے تمام ضروری مسائل پرخاصے غور سے کام لیتےہوئےمختلف جہات سے اقدامات کیے تھے ۔ اگر تقسیم وطن کا المناک اور خوں چکاں بھیانک واقعہ نہ ہوتا تو بھارت اور اس کے باشندوں سمیت مسلمانوں کی تصویر و حالت پر ملت آج سے بہت مختلف ہوتی، آزادی سے پہلےمسلم لیگ، جمعیۃ علما ہند اور امارت شرعیہ بہار،اڑیسہ کے زیر سرکردگی و سربراہی جس قسم کی سرگرمیاں اور تحریک آزادی کے لیے کوششیں ہوئیں ، اگر وہ باہمی اتحاد و اشتراک کے ساتھ جاری رہتیں تو یقینا بہتر نتابئج و اثرات برآمد و مرتب ہوتے لیکن محمد علی جناح کی دین اور علما بیزاری کی غلط و ذہنیت نے حالات کو بگاڑنے کا کام کیا اور جمعیۃ علما ہند اور امارت شرعیہ اور ا ن کے اکابر، مولانا محمد سجادؒ ، مولانا حسین احمد مدنیؒ، مولانا مفتی کفایت اللہؒ، مولانا احمد سعید دہلویؒ، مولانا حفظ الرحمن سیوہاریؒ وغیرہم کی تمام ترمتحدہ و متفقہ کوششیں جناحی ضد کے سامنے بارآور نہیں ہوسکیں اور ایسے حالات پیدا ہوئے کہ بالآخر وطن تقسیم ہوگیاجس کے نتیجے میں دونوں طرف خصوصاً بھارت میں مسلم اقلیت کے لیے جو تکلیف دہ و بھیانک حالات پیدا ہوئے، ان میں اس کے لیے الگ اپنی آزاد سیاست و قیادت والی کسی متحدہ سیاسی پارٹی کی تشکیل کرکے اس کے جھنڈے تلے سیاسی و انتخابی عمل کی راہ میں کئی طرح کی رکاوٹیں اور دیواریں کھڑی ہوگئیں اوراولیں مسئلہ، مسلم ملت و اقلیت کے جان و مال اور عزت و آبرو کا تحفظ اور وجود کوبچانے اوربازآبادکاری کا ہوگیا۔ ہندو توادی عناصر گرچہ، آزادی کے پہلے بھی اپنے مقاصد و عزائم کو لے کرسرگرم عمل تھے۔ تاہم گاندھی ، نہرو کے عروج و ظہور اور اکابر جمعیۃ و امارت کی بیدار مغزی اور ان تھک جدوجہد کے طفیل ان کو مطلوبہ کامیابی نہیں ملی۔ لیکن آزادی اورتقسیم کے ساتھ ہی تیزی سے بدلتی صورت حال میں کانگریس اوراس کے بیشتر لیڈروں کے رویے میں تیزی سے تبدیلی شروع ہوگئی اور وہ بری طرح فرقہ پرست ہندوتوادی عناصر کی سرگرمیوں کے دباؤ میں آتے چلے گئے، گاندھی جی کی طرح ان میں بہت کم لیڈروں میں فرقہ پرستی اور فرقہ پرستوں سے مقابلے ومزاحمت کی طاقت اور جرآت و ہمت رہ گئی تھی ، اس کے باوجود مسلم اکابر اوران کی رہنمائی میں مسلم ملت نے خاصی بیداری اورہمت سے حالات کا سامنا و مقابلہ کیا اور اب بھی کررہی ہے۔ بہت سے لوگوں نے اپنے سیاسی اور دیگرمقاصد و عزائم کے پیش نظر مسلم اقلیت و ملت کی کمزوری ،مایوسی، اوربے ہمتی کی بہت بڑھا چڑھا کر تشہیر کی۔ جس کے نتیجے میں اس کی مایوسی، مصیبت اور غم و غصے میں اضافہ ہوا۔ اس کے باوجود یہ کہنا مبنی بر حقیقت نہیں ہوگا کہ مسلم ملت نے خود کو گم اورحاشیے پر رہنے کی حالت کو قبول کرلیا ہے۔ آزادی کے ساتھ ہی، ملک کے بدلتے منظرنامے میں مولانا آزادؒ، مولانا مدنیؒ مولانا حفظ الرحمنؒ، ڈاکٹر سید محمود نے درپیش صورت حال کا حسب استطاعت، پوری جرـات و ہمت کے ساتھ مقابلہ کیا، اس کا ثبوت، جمہوری کنوینشن ، مسلم کنوینشن اور مسلم مجلس مشاورت وغیرہ کے تمام ترمخالفتوں کے باوجود پروگرام اور قیام ہے، اور بعد کے دنوں میں کئی معروف پارٹیوں اور تنظیموں کے قیام اور ا ن کی سرگرمیوں کو بھی صورت حال کے مقابلے و مزاحمت کے زمرے میں رکھا جاسکتا ہے، ضرورت ا س بات کی تھی کہ موجود تنظیموں اور پارٹیوں میں مشترکہ و متحدہ مقاصد واغراض کے تحت ساتھ ہوکر کام کیا جاتا۔ اس کے برعکس، اتحادو ضرورت کے اظہار اور مسائل کے نام پر گزرتے دنوں کے ساتھ نئی نئی پارٹیوں اور تنظیموں کی ولادت ہوتی چلی گئی اور اب بھی اس کی ضرورت کا آئے دن اظہار ہوتا رہتا ہے، 2014 کے بعد سے اس کے متعلق کچھ زیادہ ہی باتیں ہونے لگی ہیں، آزادی سے پہلے ، امارت شرعیہ اور جمعیۃ علما ہند کی سربراہی اور مولانا محمدسجادؒ کی قیادت میں ملی سیاست کا بہار میں ایک کامیاب تجربہ کیا گیا تھا، اگر مولانا محمد سجادؒ ملک کی آزادی تک باحیات ہوتے اور تقسیم وطن کا سانحہ پیش نہ آتا توبھارت کے کئی حصے میں بہار کے سیاسی تجربے کے مسلسل اعادے کے روشن امکانات تھے، جمعیۃعلما ہند کے فارمولے میں پوری پوری رہ نمائی موجود ہے۔ مولانامحمد سجادؒ اور سنگھ بانی ڈاکٹرہیڈگیوار کا آزادی سے پہلے ہی 1940 میں انتقال ہوگیا تھا، اورگاندھی جی بھی آزادی کےچند مہینے کے بعد ہی گوڈسے کی گولی کا شکار ہوگئے۔ اس کے پیش نظر ملک کے مستقبل اور نظام حکومت کی کامیاب شکل کے متعلق کوئی حتمی بات کہنا بہت مشکل ہے تاہم جمعیۃعلماہند اورامارت شرعیہ کے اکابراور مولانا سجادؒ ،مولانا مدنی اورمولاناآزادؒ وغیرہم کا طرز حکومت اورسیاسی نہج کے متعلق موقف بہت صاف ہے۔ مولانا محمد سجادؒ جمعیۃ علما ہند کے بنیادی ارکان و رہ نماؤں میں سے تھے اور مولانا مدنیؒ بھی، دونوں کے درمیان بنیادی مقاصدوامور کے سلسلے میں کوئی اختلاف نہیں تھا، باہمی تعاون و اشتراک سے سارے کام انجام پاتے تھے، لیگ کی طرح تقسیم و جداگانہ سیاسی رویے کے لیے ان کی جدوجہد میں کوئی جگہ نہیں تھی،مولانا محمد سجادؒ کا ملک کی آزادی کے ساتھ پیدا شدہ حالات میں موقف جمعیۃ علما ہند اورمولانا آزادؒ اور مولانا مدنیؒ سے الگ نہیں ہوتا کہ تقسیم وطن سے سابقہ و سیاسی، سماجی منظرنامہ پوری طرح بدل گیا تھا،آزادی کےبعداورآج کے حالات کے تناظر میں آزادی سے پہلے کی صورت حال اور اقوال و افعال سے استدلال واستنباط قطعی طورسےبے دانشی،عجلت پسندی اور حالات سے از حد انفعالیت او اثر پذیری پر مبنی ہے نہ کہ حقائق و واقعات پر مبنی تجزیہ و رہ نمائی، عملی صورت حال کو نظر اندازکرکے خوبصورت الفاظ میں رومانی و نظریاتی بحثوں اور باتوں سے کسی جوہری تبدیلی کی توقع سراسر خوش فہمی ہوگی نہ کہ حقیقت بیانی، گزشتہ کچھ دنوں میں کئی طرح سے ایسے نقاط نظرونکات، زبانی و تحریری شکل میں سامنےآئے ہیں، جن پر سنجیدہ ونتیجہ خیز بحث و گفتگو کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔ مسائل اور سوالات پیش کرکے حل اور جوابات سے گریز قیادت ورہ نمائی کے تقاضوں کے منافی ہے، ڈاکٹرراشد شاز نے 1991 میں، ہندوستانی مسلمانوں کے پچاس سالہ ایام گم گشتہ کو تلاش کرکے دیا نہ منزل کی طرف جانے والے راستے کی واضح نشاندہی کی تھی، اور نہ اب 2021 کی” لایموت” میں زندگی کا صحیح سراغ مل رہا ہے، مولانا آزادؒ، مولانا مدنیؒ کو کم تردکھانے کے ساتھ اعلیٰ طریق کار کو بتائے بغیر تجزیہ و تبصرہ کوئی زیادہ بامعنی نہیں رہ جاتا ہے۔ ان کے بالمقابل جن اشخاص و افراد کے حوالے سے حالات و مسائل کو پیش کیا جاتا ہے وہ عملی سیاسیات اور حل مسائل کے تناظر میں مولانا آزادؒ ، مولانا مدنیؒ کے سامنے قدوپد کے لحاظ سے فروترہیں، کربلا شہادت کا حوالہ ہے نہ کہ قیادت سازی کا مقام، انحرافات کو صراط مستقیم میں بدلنے کی کوشش میں شہادت کی منزل بھی آسکتی ہے۔ ایسی حالت میں قیادت کے ظہور کی بڑی حدتک موہوم ومشکوک ہوتی ہے۔ یہ تاریخ کی نظروں نے بارہا دیکھا ہے۔ آزادبھارت میں مسلمانوں کی سیاست و قیادت کےحوالے سے مختلف پہلووں کوپیش کرنے کا کام کئی جہات سے ہوا ہے، جہاں مولانا وحیدالدین خانؒ نےاپنی کتابوں، قیادت نامہ، تعمیر ملت، مسائل اجتہاد، تعمیر کی طرف، ہندستان، آزادی کے بعد، اتحاد ملت، کاروان ملت، ہندستانی مسلمان،تعبیر کی غلطی، دین کی سیاسی تعبیر میں قیادت وسیادت والی اور ملت کے راستہ، منزل کے سلسلے میں کئی طرح کی باتیں لکھی ہیں وہیں مولانا سلطان احمد اصلاحیؒ (آزاد ہندستان میں مسلمان اور سیاست) اور ڈاکٹر الطاف اعظمی دیگر کتابوں کے ساتھ "احیائے ملت اور دینی جماعتیں” میں بھی جمعیۃ علما ہند، جماعت اسلامی ہند اور تبلیغی جماعت کے حوالے سے کئی امور کوزیر بحث لائے ہیں، گزشتہ کئی سالوں سے خصوصا 2014 سےمولاناخلیل الرحمن سجاد نعمانی بھی اپنے بیانات اورماہنامہ الفرقان کے اداریے میں اپنی قیادت میں ایک آزاد اور اصولی سوچ والی سیاسی پارٹی کی تشکیل کی ضرورت پر مسلسل متوجہ کرتے آرہے ہیں، الفرقان کی حالیہ اشاعت، بابت دسمبر2021 میں بھی اس پرمولانا سجاد نعمانی نےاپنی نگاہ اولیں ڈالی ہے۔ لیکن واضح موقف رکھنے کے بجائے تذبدب وتضاد فکرورائے کا شکار نظرآتے ہیں، جمعیۃ علما ہند، امارت شرعیہ، مولانا مدنی ؒاور مولانا سجاد بہاری ؒکے نقاط نظر میں اختلاف دکھاتے ہوئے، بذات خود اس کی تائید کرجاتے ہیں جس کی تردید کرکے ایک اصولی سوچ والی سیاسی پارٹی کی تشکیل کی ضرورت کا اثبات پر پورا زور لگایا جا رہا ہے۔
جماعت اور پارٹی کے نظام میں عملی شمولیت، نظریاتی استحکام وتصلب اورواضح موقف کے بغیر اپنی قیادت میں کسی بھی آزاد اور اصولی سوچ والی پارٹی کی تشکیل کس طرح ہوسکتی ہے اور کس طور سے اس سلسلے کی بات قابل توجہ واعتماد ہوگی؟ یہ ایک بڑا سوال ہے جس کا جواب عملا کوئی آسان نہیں ہے،جواب کےبغیرآزاد بھارت میں ملی سیاست کا رخ اور منزل کا راستہ طے نہیں ہوسکتا ہے۔

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

US Iran War Strategic Defeat News
مضامین

امریکہ – اسرائیل – ایران جنگ میں امریکہ کی اسٹریٹجک ہار پہلے سے طے

23 مارچ
Hormuz Strait Iran Speech
مضامین

ایران میں قیادت کی تبدیلی اور مجتبیٰ خامنہ ای: ایک تجزیاتی مطالعہ

12 مارچ
Modi Israel Gaza Questions Debate
مضامین

پی ایم مودی کے دورہ اسرائیل میں غزہ کے مصائب کا ذکر تک نہ ہونے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ کیا چاہتا ہے بھارت ؟

28 فروری
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
Humayun Kabir Owaisi Video Row

ہمایوں کبیر کے خفیہ ویڈیو نے اویسی پر بی جے پی کی بی ٹیم کے الزام کو تقویت دی، اتحاد ٹوٹا ، سیاسی بصیرت پر بھی سوال

اپریل 10, 2026
طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

ستمبر 19, 2021
DD News Anchor Controversy News

پبلک ٹیکس سے چلنے والے ‘ڈی ڈی نیوز’ کے اینکر نے کہا” ساورکر کے چپل کی دھول بھی نہیں راہل گادھی

اپریل 13, 2026
اعصابی کمزوری کی علامات، اسباب اور علاج

اعصابی کمزوری کی علامات، اسباب اور علاج

مارچ 23, 2021
امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

اپریل 21, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

اپریل 19, 2026

حالیہ خبریں

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN