تحریر: انکت سنہا
ابھی اترپردیش میں مضبوط اتحاد کے سہارے سرکار بنانے کا دعویٰ کرنے والے اےآئی ایم آئی ایم کے سربراہ اسدالدین اویسی اب اکیلے پڑ گئے ہیں۔ ان کے تمام ساتھی ایک ایک کر ان کا ساتھ چھوڑ چکے ہیں۔ پہلے کئی پارٹیوں کو ملا کر ایک بڑا گٹھ بندھن بنانے کی کوشش شروع کی گئی تھی۔ لیکن اب وہ کھٹائی میں پڑ چکا ہے۔ مسلم چہرہ کے طور پر ملک میں اپنی الگ شناخت بنا چکے اویسی کو شروع میں ریاست میں چھوٹی پارٹیوں کا ساتھ ضروری ملا۔ بی جے پی سے ناراض ہو کر این ڈی اے سے باہر ہونے والے اوم پر کاش راج بھر نے اویسی کے ساتھ ایک مورچہ کا اعلان کیا تھا جس میں چھوٹی چھوٹی پارٹیوں کو جوڑا گیاتھا۔ اس سلسلے میں اترپردیش میں بھاگیداری مورچہ کا قیام کیا گیا تھا۔لیکن اب اوم پرکاش راج بھر بھی سماج وادی پارٹی کے ساتھ جا چکے ہیں ۔ جبکہ کئی اور پارٹیوںنے اپنا راستہ الگ بنا لیا ہے ۔
بھاگیداری مورچہ کی کہانی
اویسی نے بھاگیداری مورچہ کے تحت 100 سیٹوں پر الیکشن لڑنے کا اعلان کیا تھا۔ اویسی نے اس سلسلے میں یوپی میں اپنی سرگرمی بڑھا دی تھی اور بی جے پی حکومت پر لگاتار حملے کر رہے تھے۔ اتنا ہی نہیں انہوں نے سماج وادی پارٹی اور بی ایس پی پر مسلمانوں کو دھوکے میں رکھنے کا الزام بھی لگایا۔ لیکن اب اویسی خود تنہا رہ گئے ہیں۔ جو بھاگیداری مورچہ تشکیل دیا گیا تھا اس میں اوم پرکاش راج بھر مرکزی پارٹی کے طور پر تھے، جو اب ایس پی میں شامل ہو گئے ہیں۔ اس مورچہ میں کرشنا پٹیل کی پارٹی بھی تھی، جو اب ایس پی کے ساتھ ہوگئی ہے۔ چندر شیکھر آزاد اور شیو پال یادو کی پارٹی کے درمیان اتحاد کی بات چیت چل رہی ہے۔
اویسی کی تشویش
اس کے علاوہ دیگر چھوٹی پارٹیوں نے بھی اویسی سے علیحدگی اختیار کر لی ہیں۔ لیکن سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا اویسی اتنی آسانی سے کسی کے ساتھ اتحاد کے لیے تیار ہو جائیں گے؟ کیا اویسی کے لیے بی ایس پی، ایس پی یا کانگریس کے ساتھ اتحاد کرنا اتنا آسان ہوگا؟ موجودہ حالات میں دونوں سوالوں کا جواب نفی میں ہے۔ ایس پی، بی ایس پی اور کانگریس جیسی پارٹیاں اویسی کے ساتھ اتحاد کرنے سے گریز کریں گی۔ ایسے میں اویسی کا ان جماعتوں کے ساتھ اتحاد کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ جہاں تک چھوٹی پارٹیوں کا تعلق ہے، اویسی کو پہلے ہی دھچکا لگ چکا ہے۔ ایسے میں سوال یہ ہے کہ اب اویسی کا آگے کیا پلان ہوگا؟
اویسی کا مستقبل کا پلان
اتر پردیش میں اسمبلی کی 403 سیٹیں ہیں جبکہ مسلمانوں کا ووٹ فیصد 18 کے قریب ہے۔ اب تک یوپی میں سب سے زیادہ مسلم ووٹ سماج وادی پارٹی یا بہوجن سماج پارٹی کو ملے ہیں۔ 2017 میں بھی اویسی اسمبلی انتخابات میں ضرور اترے تھے لیکن کسی نے انہیں نوٹس تک نہیں لیا تھا۔ تاہم اویسی اچھی طرح جانتے ہیں کہ صرف اور صرف مسلم ووٹوں سے یوپی میں کوئی فرق نہیں پڑنے والا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے دوسری پارٹیوں میں شمولیت اختیار کی تھی لیکن وہ الگ ہیں۔ ایسے میں فی الحال شیو پال یادو کی پارٹی سے رابطے میں ہیں۔ اویسی کو لگتا ہے کہ اگر شیو پال یادو سماج وادی پارٹی کے ساتھ نہیں جاتے ہیں تو وہ ان کے ساتھ آ سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ اے آئی ایم آئی ایم نے کچھ سیٹیں مختص کی ہیں جہاں وہ ہر حال میں اپنے امیدوار کھڑے کرے گی۔ اس کے علاوہ اویسی کی پارٹی نے ایسے کئی لیڈروں سے بات چیت کی ہے جو دوسری پارٹیوں سے ٹکٹ نہ ملنے پر اے آئی ایم آئی ایم انہیں ٹکٹ دےگی۔










