اردو
हिन्दी
مئی 10, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

گڑگاؤں میں نماز کا تنازع ،مسلمانوں کو ڈرانے اور ذلیل کرنے کی کوشش

4 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ فکر ونظر, مضامین
A A
0
گڑگاؤں میں نماز کا تنازع ،مسلمانوں کو ڈرانے اور ذلیل کرنے کی کوشش
55
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

تحریر:سوتک بسواس

گذشتہ تین ماہ سے ہر جمعے کو انتہائی دائیں بازو کے ہندو گروہوں سے تعلق رکھنے والے افراد باقاعدگی سے دارالحکومت نئی دہلی کے پوش علاقے گڑگاؤں میں جمع ہوتے ہیں جہاں ان کا مقصد عوامی مقامات پر نماز پڑھنے والے مسلمانوں کو روکنا ہوتا ہے۔ ان افراد کا واضح مطالبہ ہے کہ مسلمانوں پر اُن تمام خالی پلاٹوں، پارکنگ لاٹس اور رہائشی مقامات کے نزدیک کھلی جگہوں پر نماز پڑھنے پر پابندی عائد کی جائے جہاں وہ برسوں سے اپنی عبادات کرتے آئے ہیں۔

یہ افراد جمع ہو کر نعرے بازی کرتے ہیں، داخلی راستوں پر گاڑیاں کھڑی کر کے انھیں بند کر دیتے ہیں، نمازیوں پر جملے کستے ہیں اور انھیں ’جہادی‘ اور ’پاکستانی‘ کہہ کر پکارتے ہیں۔

اب کچھ عرصے سے یہ نماز پولیس کے پہرے میں ادا کی جا رہی ہے۔ گڑگاؤں مسلم کونسل کے شریک بانی الطاف احمد نے اس بارے میں کہا کہ ’یہ بڑی ڈراؤنی صورتحال ہے اور انھیں کبھی یہ امید نہیں تھی کہ گڑگاؤں میں ایسا ہوگا۔‘

نئی دہلی سے کوئی 15 میل جنوبی میں واقع گڑگاؤں کا علاقہ کبھی متعدد چھوٹے چھوٹے دیہات پر مشتمل ہوتا تھا لیکن گذشتہ تین دہائیوں میں یہ ایک تیزی سے ترقی کرتا ہوا کاروباری علاقہ بن چکا ہے۔

جدید نوعیت کی اونچی اونچی عمارتوں اور پرتعیش مصنوعات کی دکانوں سے بھرے اس علاقے کو حکام ’ملینیم سٹی‘ کہنا پسند کرتے ہیں اور یہاں اب دس لاکھ سے زیادہ افراد رہائش پذیر ہیں جو مختلف نوعیت کی نوکریاں کرتے ہیں۔ کچھ اندازوں کے مطابق یہاں رہنے والوں میں سے تقریباً پانچ لاکھ افراد مسلمان ہیں جو مزدور طبقے سے تعلق رکھتے ہیں۔

لیکن گڑگاؤں خلافِ امکان آج ایک ایسا مقام بن کر ابھرا ہے جہاں نماز کے معاملے پر مذہبی نوعیت کا تناؤ پیدا ہو گیا ہے۔

مظاہرے کرنے والے ہندو گروہ کے رہنماؤں میں سے ایک کلبھوشن بھردواج نے اس معاملے پر کہا کہ وہ نماز یا مسلمانوں کے خلاف نہیں ہیں لیکن کھلے مقامات پر نماز پڑھنا ’زمین کا جہاد‘ ہے۔

دوسری جانب مسلمان رہنماؤں کا کہنا ہے کہ یہ اسی سلسلے کی کڑی ہے جس میں یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ ’مسلمان جہاں نماز پڑھ رہے ہیں وہ ادھر قبضہ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔‘

ماضی میں بھی ہندو قوم پرستوں نے مسلمانوں کو ’لوو جہاد‘ کے نام پر نشانہ بنایا تھا۔ یہ ایک دائیں بازو کے گروہوں کی جانب سے متعارف کروایا گیا سازشی خیال تھا جس میں مسلمان مردوں پر الزام لگایا گیا کہ وہ ہندو عورتوں سے شادی کر کے ان کا مذہب تبدیل کروا رہے ہیں۔

ان ہندو مظاہرین نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ وہ تقریباً دو درجن ہندو قوم پرست گروہ پر مشتمل ایک مشترکہ گروپ کا حصہ ہیں جسے سنیوکت ہندو سنگ ہرش کا نام دیا گیا ہے اور اس میں شامل افراد میں زیادہ تر کا تعلق ان غنڈوں کے گروپ سے ہے جو بے روز گار نوجوانوں پر مشتمل ہے۔

واضح رہے کہ سنہ 2014 سے انڈیا پر حکمرانی کرنے والی بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جی پی) ان ہندو قوم پرست گروہوں کو ’روایتی طور پر تحفظ‘ دیتی آئی ہے۔

پولیٹکل سائنسدان کرسٹوفر جیفلوٹ لکھتے ہیں کہ ان قوم پرست گروہوں کا مقصد یہ رہا ہے کہ وہ ’اخلاقی اور سماجی نگرانی‘ کریں تاکہ قوانین کے بجائے ان ’ثقافتی اور معاشرتی رسم و رواج‘ کو نافذ کیا جائے۔لیکن گڑگاؤں میں جو احتجاج ایک غیر منظم طریقے سے شروع ہوا، اب اس نے ایک منظم تحریک کی شکل اختیار کر لی ہے اور اب وہاں کے مقامی لوگوں نے بھی ان مظاہروں کی حمایت کا آغاز کر دیا ہے۔

وہاں رہنے والے ایک شہری سنیل یادیو نے کہا کہ انھیں اچھا نہیں لگتا جب مسلمان ان کے گھر کے نزدیک اس طرح سرعام نماز پڑھیں۔ ’ہمیں خوف آتا ہے۔ نماز کے بعد وہ وہاں پھر رہے ہوتے ہیں۔‘ سنیل نے حال ہی میں ایک مظاہرے میں شرکت کی تھی جس میں انھوں نے اپنے گھر کے نزدیک ایک 36 ایکڑ رقبے پر قائم خالی پلاٹ پر نماز کی ادائیگی کامیابی سے رکوا دی تھی۔

گذشتہ ہفتے مظاہرین کو بظاہر سرکاری حمایت بھی مل گئی جب بی جے پی سے تعلق رکھنے والے ریاست ہریانہ کے وزیر اعلیٰ منوہر لال کھٹر نے بیان دیا کہ ’عوامی مقامات پر نماز پڑھنا قابل قبول نہیں ہے۔‘ان کا مزید کہنا تھا کہ ’یہ تصادم ہے، اور ہم اس کو جاری رکھنے کی اجازت نہیں دیں گے۔‘

عوامی مقامات پر نماز پڑھنے پر احتجاج سب سے پہلے 2018 میں شروع ہوا۔ بعد میں مذاکرات کے بعد مسلمان شہریوں نے اس بات پر ہامی بھر لی کہ وہ 108 مقامات کے بجائے 37 مقامات پر نماز ادا کریں گے۔

یہ ابھی تک واضح نہیں ہے کہ اس سال یہ احتجاج دوبارہ کیوں شروع ہوئے ہیں۔ اس بار کیے گئے مذاکرات کے مطابق نماز ادا کرنے کے 20 مقامات پر اتفاق ہوا ہے لیکن ان پر ابھی بھی تنازع چل رہا ہے۔

گڑگاؤں میں مسلمان تقریباً دو دہائیوں سے عوامی مقامات پر نماز ادا کر رہے ہیں۔ اس تنازعے کی مرکزی وجہ ہے کہ نمازیوں کے لیے جگہ کی کمی پڑ گئی ہے۔

پولیٹکل اسلام کے ماہر ہلال احمد نے اس بارے میں کہا کہ احتجاج کرنے والے یہ افراد ایک بلدیاتی مسئلے کو استعمال کرتے ہوئے مذہبی نوعیت کا انتشار پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔’یہ لوگ مسلمانوں کو کہہ رہے ہیں کہ مساجد جا کر نماز ادا کریں لیکن مسئلہ یہ ہے کہ اتنی مساجد ہی نہیں ہیں۔‘

گڑگاؤں میں کُل 13 مساجد ہیں جن میں سے صرف ایک علاقے کے قدرے نئے تعمیر شدہ حصے میں ہے، جہاں زیادہ تر نقل مکانی کر کے رہنے والے افراد رہائش پذیر ہیں۔

مسلمانوں کی جائیدادوں کی نگرانی کرنے والے بورڈ کے ایک مقامی اہلکار جمال الدین نے کہا کہ جس علاقے میں مسلمانوں کی زمینیں ہیں وہ بہت دور دراز ہیں اور وہاں پر مسلمانوں کی آبادی بھی بہت کم ہے۔انھوں نے بتایا کہ اُن علاقوں میں 19 مساجد تھیں جنھیں اسی وجہ سے بند کر دیا گیا کہ وہاں نمازیوں کی کمی تھی اور گڑگاؤں میں دستیاب زمین بورڈ کی قوت خرید سے باہر ہے۔

گڑگاؤں کی مسلم کونسل کا کہنا ہے کہ گڑگاؤں میں شہری منصوبہ بندی کرنے والے حکام نے علاقے میں صرف ایک مسجد تعمیر کی لیکن 42 سے زیادہ مندروں اور 18 گرودواروں کے لیے جگہ مختص کی ہے۔

پانچ سال قبل مسلمانوں کے دو ٹرسٹ اداروں نے مذہبی مقاصد کے لیے استعمال ہونے والی زمین خریدنے کی کوشش کی تھی لیکن وہ کامیاب نہ ہوئے۔

گڑگاؤں میں جو آج ہو رہا ہے اس میں 2011 میں لگائی گئی ایک پابندی کی بازگشت سنائی دیتی ہے جب فرانس کے دارالحکومت پیرس میں دائیں بازو کی جانب سے کیے گئے مظاہروں کے نتیجے میں سڑک پر نماز پڑھنے پابندی عائد کر دی گئی تھی۔

اور اس وقت بھی وجہ یہی تھی: مسلمانوں کے پاس مساجد میں جگہ کی کمی۔

بعد ازاں دو مقامی مساجد سے معاہدے کے بعد دو غیر استعمال شدہ بیرکوں کو نماز پڑھنے کے لیے استعمال کیا گیا۔

اس واقعے کے چھ سال بعد پیرس کے مضافات میں اس سے ملتا جلتا ایک اور مظاہرہ ہوا جس میں عبادت گزاروں نے کہا کہ جس قصبے میں وہ رہتے ہیں وہاں کی انتظامیہ نے نماز کی جگہ پر قبضہ کر لیا تھا۔لیکن انڈیا میں مذہب ہمیشہ عوامی مقامات پر کسی نہ کسی شکل میں آ جاتا ہے۔چاہے وہ سالانہ مذہبی تقریبات ہوں یا کوئی جلسے جو ٹریفک کی روانی کو متاثر کرتے ہیں یا کبھی کبھی سڑکیں مکمل طور پر بند کروا دیتے ہیں ۔لیکن بھارت کی سیکولر ریاست ہونے کی ساکھ کو حالیہ سالوں میں سخت خطرے کا سامنا ہے۔

تاہم گڑگاؤں میں ابھی بھی سب کچھ ختم نہیں ہوا ہے۔ ایک ہندو کاروباری شخص نے مسلمانوں کے لیے اپنی دکان کھول لی ہے تاکہ وہ وہاں پر جمعے کی نماز ادا کر سکیں۔

پچھلے مہینے سکھ گرودواروں کے منتظمین کی جانب سے بھی ایسا ہی اعلان کیا گیا تھا لیکن ہندو گروہوں نے اس پر شدید احتجاج کیا تو ان کو وہ فیصلہ واپس لینا پڑا۔

پیو ریسرچ سینٹر کے ایک نئے سروے میں بتایا گیا ہے کہ ہندوؤں کی اکثریت یہ مانتی ہے کہ ’حقیقی معنوں میں انڈین‘ ہونے کے لیے یہ ضروری ہے کہ تمام مذاہب کا احترام کیا جائے۔

اس وقت گڑگاؤں میں مسلمان پریشان ہیں اور اضطراب کا شکار ہیں۔ کئی لوگوں کو خطرہ ہے کہ اگر وہ جمعے کو نماز پڑھنے کے لیے کام سے رخصت لیں تو ان کے پیسے کاٹے جا سکتے ہیں کیونکہ نماز پڑھنے کے لیے انھیں دور دراز جانا پڑتا ہے۔ ہلال احمد کہتے ہیں: ’ہم مسلسل اپنی تذلیل کیے جانے کے ڈر و خوف کی کیفیت میں رہتے ہیں۔‘

(بشکریہ: بی بی سی:یہ مضمون نگار کے ذاتی خیالات ہیں )

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

US Iran War Strategic Defeat News
مضامین

امریکہ – اسرائیل – ایران جنگ میں امریکہ کی اسٹریٹجک ہار پہلے سے طے

23 مارچ
Hormuz Strait Iran Speech
مضامین

ایران میں قیادت کی تبدیلی اور مجتبیٰ خامنہ ای: ایک تجزیاتی مطالعہ

12 مارچ
Modi Israel Gaza Questions Debate
مضامین

پی ایم مودی کے دورہ اسرائیل میں غزہ کے مصائب کا ذکر تک نہ ہونے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ کیا چاہتا ہے بھارت ؟

28 فروری
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
Humayun Kabir Owaisi Video Row

ہمایوں کبیر کے خفیہ ویڈیو نے اویسی پر بی جے پی کی بی ٹیم کے الزام کو تقویت دی، اتحاد ٹوٹا ، سیاسی بصیرت پر بھی سوال

اپریل 10, 2026
طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

ستمبر 19, 2021
DD News Anchor Controversy News

پبلک ٹیکس سے چلنے والے ‘ڈی ڈی نیوز’ کے اینکر نے کہا” ساورکر کے چپل کی دھول بھی نہیں راہل گادھی

اپریل 13, 2026
اعصابی کمزوری کی علامات، اسباب اور علاج

اعصابی کمزوری کی علامات، اسباب اور علاج

مارچ 23, 2021
امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

اپریل 21, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

اپریل 19, 2026

حالیہ خبریں

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN