اردو
हिन्दी
مئی 10, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

جنوبی ایشیا کے لیے دسمبر کی سیاسی اہمیت

4 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ فکر ونظر, مضامین
A A
0
جنوبی ایشیا کے لیے دسمبر کی سیاسی اہمیت
90
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

تحریر: روہنی سنگھ، (نئی دہلی)

اس خطے کی سب سے پرانی سیاسی جماعت کانگریس کی بنیاد 28 دسمبر 1885کو ممبئی میں ڈالی گئی تھی جبکہ دوسری سب سے اہم اور پرانی جماعت مسلم لیگ کا قیام 30 دسمبر 1906کو ڈھاکا، بنگلہ دیش میں عمل میں آیا تھا۔

چونکہ میں دہلی میں اپنے صحافتی کیرئیر کے دوران کافی عرصہ تک کانگریس پارٹی کو کور کرتی رہی ہوں، اس لیے جانتی ہوں کہ یہ دن خاصی اہمیت کا حامل ہوتا تھا۔ اس دن کانگریس کے 24 اکبر روڈ پر واقع صدر دفتر میں خاصی گہما گہمی رہتی ہے۔

کانگریس کا صدر پارٹی کا جھنڈا لہراتا ہے اور کانگریس سے وابستہ سیوا دل کے اراکین بینڈ باجے اور نغموں کے ساتھ پریڈ کرکے پارٹی کے جھنڈے کو سلامی دیتے ہیں۔ جب تک یہ پارٹی اقتدار میں تھی، تو کانگریس صدر کے خطاب کو غور سے کان لگا کر سننا پڑتا تھا کہ بین السطور اس میں کسی پالیسی بیان کی طرف اشارہ تو نہیں کیا گیا ہے۔

وزیروں و دیگر شعبہ ہائے زندگی سے وابستہ افراد کی لائن صبح سویرے ہی اکبر روڑ پر لگی ہوتی تھی۔وزیر اعظم من موہن سنگھ کے دس سالہ دور اقتدار میں ویسے ہی وزیر اعظم سے زیادہ کانگریس صدر سونیا گاندھی کو زیادہ اہمیت حاصل تھی۔ اس سے قبل اکثر کانگریس صدر اور وزیر اعظم کا عہدہ ایک ہی شخص کے پاس ہوتا تھا۔

خیر دسمبر کے کہرے اور سردی میں اس دن صبح سویرے گھر سے نکل کر اکبر روڈ کی طرف روانہ ہونا پڑتا تھا۔ راستے میں کانگریس کے بانی برطانوی سول سروس کے ریٹائرڈ آفسر الائن اکٹووم ہیوم کو کوستے رہتے، کہ اس کو بس دسمبر ہی ملا تھا، پارٹی کی بنیاد رکھنے کے لیے۔

کسی دوسرے موسم میں کانگریس کی بنیاد رکھتا، تاکہ سردی کے بغیر اس میلہ کے لطف اٹھایا جاسکتا۔ پھر معلوم ہوا کہ اس نے تو پارٹی کی اساس ممبئی جو ان دنوں بمبئی تھا، میں رکھی تھی۔ ممبئی والے کیا جانیں، ٹھنڈ، سردی یا جاڑا کیا ہوتا ہے۔ یا شاید ہیوم صاحب کو پتہ نہیں تھا، کہ اگلی دہائی میں یہ پارٹی جنوبی ایشیاء کی سیاست میں کیا کردار ادا کرے گی۔
ہیوم صاحب نے تو برطانوی وائسرائے کی ایما پر پارٹی کی بنیاد ڈالی تھی، تاکہ طبقہ اشرافیہ کے ساتھ حکومت کا ایک چینل قائم ہو۔ رومیش چندر بنرجی کو پارٹی کا پہلا صدر بنایا گیا اور ایک اور مقتدر شخصیت دادا بائی ناروجی بھی اس کے بانیوں میں شامل تھے۔

سن 1937 کی صوبائی اسمبلی کے انتخابات میں اس پارٹی نے 12میں سے آٹھ اسمبلیوں میں اکثریت حاصل کرکے عوامی تائید حاصل کی۔ پچھلے کئی الیکش ہارنے اور کئی صوبوں میں پارٹی مشینری ناپید ہونے کے باوجود یہ ابھی بھی واحد پارٹی ہے، جس کا دائرہ بھارت کے طول و عرض میں پھیلا ہوا ہے۔ آزاری کے بعد 40 سال تک حکومت کرنے کی وجہ سے ہر قصبے یا دیہات میں اس کی اکائی موجود ہے۔

مہاتما گاندھی، جواہر لال نہرو اور سردار پٹیل کے امتزاج نے کانگریس کو اشرافیہ کی پارٹی سے عوامی جماعت بنایا لیا، جس میں ہر مکتبہ فکر کو سمیٹنے کی کوشش کی گئی۔ نہرو نے سن 1947 میں بھارت کی آزادی سے لے کر سن 1964 میں ان کے انتقال تک کانگریس پارٹی کی صدارت سنبھالی۔

چند سالوں کو چھوڑ کر اس پارٹی کی قیادت نہرو گاندھی خاندان کے پاس ہی رہی ہے۔ اس کے مخالفین کا الزام ہے کہ یہ اب ایک خاندانی پارٹی رہی ہے، جس میں اندرونی جمہوریت کا فقدان ہے۔ کوئی بھی غیر گاندھی شخص اس پارٹی کی قیادت تک نہیں پہنچ سکتا ہے۔

جواہر لعل نہرو نے نہ صرف کانگریس اور ملک کو اکٹھا رکھنے کی کوشش کی بلکہ اس بات کو یقینی بنایا کہ بھارت ایک سیکولر ملک کے طور پر ترقی کرے۔ البتہ آج کانگریس، دائیں بازو کی بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے مقابلے میں خود کو زیادہ ہندو دوست ثابت کرنے کی دوڑ میں ہے۔ ویسے تو سن 1988 سے ہی کانگریس پارٹی اپنے بل بوتے پر اقتدار سے باہر ہے۔ سن 1990سے سن 1995 اور پھر 2004ء سےسن 2014 میں یہ اتحادیوں کی بیساکھی کے سہارے اقتدار میں تھی۔

صوبہ اتر پردیش جو کسی زمانے میں کانگریس کا گڑھ سمجھا جاتا تھا اور نرسمہا راؤ اور من موہن سنگھ کے بغیر اس کے دیگر وزراء اعظم اسی صوبہ سے منتخب ہوتے تھے، اب پوری طرح اس پارٹی کے ہاتھوں سے نکل گیا ہے۔

جواہر لعل نہرو سے لے کر اندرا گاندھی اور پھر ان کے دونوں بیٹے بہو اور پھر ان کے پوتے سبھی اس صوبے سے الیکشن جیت چکے ہیں۔ لیکن اب لگتا ہے کہ یہ سیاسی میدان ان کے ہاتھوں سے نکل چکا ہے کیونکہ راہل گاندھی سن2019 کے عام انتخابات میں اس صوبہ کی اپنی خاندانی نشست امیٹھی میں شکست سے دوچار ہو گئے تھے۔دیگر اپوزیشن جماعتیں جو چند سال پہلے تک کانگریس کی قیادت میں واپسی کی کوشاں تھیں، اب اس پارٹی پر ان کا اعتماد متزلزل ہو رہا ہے۔
اس حد تک کہ مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی جنہوں نے بنگال اسمبلی کے انتخابات میں بی جے پی کو شکست دی اب خود متحدہ اپوزیشن کی قیادت کی دعوی دار ہے۔ لگتا ہے کہ پارٹی کو اب گاندھی، نہرو خاندانی سیاست کے باہر نکل کر یورپی ممالک کی سیاسی جماعتوں کی طرز پر اندرونی جمہوریت نافذ کرکے نئی قیادت کو سامنے لانا چاہیے۔
بھارت میں تو ویسے کانگریس کسی صورت میں موجود ہے، پاکستان میں سن 1906کی آل انڈیا مسلم لیگ کے کئی ٹکڑے ہو چکے ہیں اور جس صورت میں آج کل موجود ہے، وہ سو سال قبل کی مسلم لیگ کی جان نشین نہیں لگتی ہے، گو کہ اس پارٹی نے پاکستان کو چھ وزراء اعظم دیے۔

کانگریس کی طرح اس نے بھی اندرونی جمہوریت کا جنازہ نکال دیا ہے اور خاندانی سیاست کا شکار ہو کر رہ گئی ہے۔مجھے معلوم نہیں کہ وہ اپنا یوم تاسیس کس طرح مناتی ہے؟ کیا بھارت کی کانگریس پارٹی کی طرز پر اس کے صدر دفتر میں کوئی تقریب منعقد ہوتی بھی ہے یا نہیں؟ کیا اس کا صدر اس دن بینڈ باجے کا ساتھ پارٹی کا جھنڈا لہرا کا اپنے کارکنان کو موجودگی کا احساس کرواتی ہے یا نہیں؟

ویسے مسلم لیگ کے آثار بھارت میں انڈین یونین مسلم لیگ کی صورت میں جنوبی صوبی کیرالا میں موجود ہیں۔ ہاں یہ واحد جگہ ہے، جہاں یہ پارٹی واقعی اپنی پرانی شکل میں اندرونی جمہوریت اور خاندانی راج کے بغیر زندہ ہے اور اس صوبے کی سیاست میں اہم رول ادا کر رہی ہے۔ انڈین یونین مسلم لیگ کا اس صوبہ میں کانگریس کے ساتھ اتحاد ہے اور حکومت میں شرکت کرتی ہے۔

(بشکریہ: ڈی ڈبلیو: یہ مضمون نگار کے ذاتی خیالات ہیں)

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

US Iran War Strategic Defeat News
مضامین

امریکہ – اسرائیل – ایران جنگ میں امریکہ کی اسٹریٹجک ہار پہلے سے طے

23 مارچ
Hormuz Strait Iran Speech
مضامین

ایران میں قیادت کی تبدیلی اور مجتبیٰ خامنہ ای: ایک تجزیاتی مطالعہ

12 مارچ
Modi Israel Gaza Questions Debate
مضامین

پی ایم مودی کے دورہ اسرائیل میں غزہ کے مصائب کا ذکر تک نہ ہونے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ کیا چاہتا ہے بھارت ؟

28 فروری
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
Humayun Kabir Owaisi Video Row

ہمایوں کبیر کے خفیہ ویڈیو نے اویسی پر بی جے پی کی بی ٹیم کے الزام کو تقویت دی، اتحاد ٹوٹا ، سیاسی بصیرت پر بھی سوال

اپریل 10, 2026
طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

ستمبر 19, 2021
DD News Anchor Controversy News

پبلک ٹیکس سے چلنے والے ‘ڈی ڈی نیوز’ کے اینکر نے کہا” ساورکر کے چپل کی دھول بھی نہیں راہل گادھی

اپریل 13, 2026
اعصابی کمزوری کی علامات، اسباب اور علاج

اعصابی کمزوری کی علامات، اسباب اور علاج

مارچ 23, 2021
امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

اپریل 21, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

اپریل 19, 2026

حالیہ خبریں

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN