نئی دہلی :(خاص رپورٹ )
تبلیغی جماعت پر سعودی عرب میں پابندی اور جمعہ کے خطبوں میں اسے گمراہ اور دہشت گردی کا دروازہ کہنے کے تعلق سے آنے والی خبروں میں تضاد کے سبب حقائق پس پردہ چلے گئے ہیں۔ ہند وستانی مسلمان بھی دو طبقوں میں بٹ گئے ہیں۔
مثلاًممتاز بزرگ مسلم رہنما اور جمعیۃ کے صدر مولانا ارشد مدنی نے ایسی خبروں کو یکسر مسترد کردیا بلکہ یہاں تک دعویٰ کیا کہ وہاں جماعتیں جارہی ہیں اور ہندوستان سے بھی گئی ہیں ۔دوسری طرف جماعت اسلامی ہند اور دارالعلوم دیوبند جیسے مؤقر اداروں نے سعودی اقدامات کی سخت مذمت کی ہے۔’ لبرل اسلام‘ کی طرف سعودی عرب کے بڑھتے قدموں کے پس منظر میں اس فیصلہ کو دیکھا جارہا ہے۔ ملک کے معروف قانون داں ، ماہر آئین اوراسرائیل کی تل ابیب،یونیورسٹی میں وزٹنگ پروفیسرڈاکٹر فیضان مصطفی نے سعودی اقدامات کا دفاع کیا ۔ان کا کہنا ہے کہ سعودی عرب بدل رہا ہے وہاں اصلاحات کی ہوا زوروں سے چل رہی ہے تو تبلیغی جماعت کو بھی خود کو بدلنا چاہیے ۔اپنے تازہ ترین ویڈیو میں وہ کہتے ہیں کہ سعودی عرب کروٹ لے رہا ہے وہاں ہالی ووڈ اور بالی ووڈ کنسرٹ ہورہے ہیں ،چالیس سنیما ہال کی تعمیر،موسیقی و رقص کی محفلوں کے ساتھ دبئی کی طرز پر ایک شہر بسایا جائے گا جہاں’ سب کچھ‘ کرنے کی آزادی ہوگی، یہ بہت اچھی خبر ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ جمعہ کے خطبات سے یہ بات صاف ہوگئی ہے کہ یہ معاملہ کسی اور ملک کی الاحباب نامی کسی تنظیم کا نہیں بلکہ ہندوستان کی تبلیغی جماعت کا ہے ،اس سلسلہ میں مولانا سعد کا بیان بہت غیر متعلق،مایو س کن اور راہ فرار والا ہے۔پرابلم سے انکار ہے۔ مولانا کا کہنا ہے یہ مسائل توجہ بھٹکانے کے لیے ہیں ۔پیغمبروں پر بھی الزامات لگے ہیں۔ داعی کی توجہ کا رخ بدلنے کے لیے ہیں۔ مسٹر فیضان کے مطابق مولانا سعد کی باتیں تھیالوجیکل ہیں، یہ آج کے مسائل کا حل نہیں۔تبلیغی جماعت کو خود کو بدلنا ہوگا، فنڈنگ کا ریکارڈ اور ممبران کا ریکارڈ جدید تقاضوں کے مطابق رکھنا ہی پڑے گا۔انہوں نے بتایاکہ جماعت پر 1980سے ہی پابندی ہے او رفضائل اعمال پر بھی۔ وہاں کسی بھی مذہبی جماعت کو تبلیغ کا حق نہیں ہے۔ محمد بن سلمان ڈیفائن کررہے ہیں کہ کتنی ،کیسی آزادی ملے گی وہابی ازم سے لبرل اسلام نکل رہا ہے۔ حیرت ہے کہ دیوبندی عقائد والی جماعت کو وہ سنی عقائد سے دور اور مشرک کہہ رہے ہیں۔
پروفیسر فیضان مصطفی کے نزدیک طالبان کی آمد نے سعودی عرب کو چوکنا کردیا ہے۔ وہ دیوبندی ہیں اور تبلیغی بھی دیوبندی۔ انہیں ڈر ہے کہ ان کا اسلام یہاں انٹری نہ مارلے وہ خبردار کرتے ہیں کہ دھرم پردھان راشٹر بنانے والوں کے لیے یہ سبق ہے،اس کا نقصان یہ ہے کہ پھر دھرم وہ بن جاتا ہے جو اسٹیٹ چاہے ۔سعودی عرب بھی مذہب کی بنیاد والا ملک ہے اب وہ راستے بدل رہا ۔










