اردو
हिन्दी
مئی 9, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

خوفناک ،دوسال پہلے احتجاج، یو پی پولیس فائرنگ میں 22 مسلم نوجوان مارے گئے،اب تک کوئی ایف آئی آرنہیں ،کون ہے ذمہ دار

4 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ گراونڈ رپورٹ
A A
0
خوفناک ،دوسال پہلے احتجاج، یو پی پولیس فائرنگ میں 22 مسلم نوجوان مارے گئے،اب تک کوئی ایف آئی آرنہیں ،کون ہے ذمہ دار
173
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

نئی دہلی:(گراؤنڈرپورٹ)

دو سال گزر گئے، لیکن میں پولیس کی گولی کا نشانہ بننے کے بعد سڑک پر اپنے بیٹے کے چیختے اور روتے ہوئے نہیں بھول سکتا… اس کا بہت زیادہ خون بہہ رہا تھا… زیادہ خون بہنے سے مر گیا،‘‘ اپنے جگر کے ٹکڑے رئیس(30)کی موت کا ذکر کرتے ہوئے شریف کی آواز درد سے گھٹی ہوئی تھی جو 21 دسمبر کو کانپور میں CAA-NCR-NPR کے خلاف احتجاج کے دوران مبینہ طور پر پولیس کی فائرنگ میں مارا گیا تھا۔

انہوں نے مزید کہا، ’زندگی جہنم بن چکی ہے… ہم اب بھی پولیس سے ڈرتے ہیں… وہ ہمیں بار بار ہراساں کرتے ہیں، ہمارے ساتھ زیادتی کرتے ہیں، ہمیں شکایات واپس لینے پر مجبور کرتے ہیں اور ہمیں نتائج سے خبردار کرتے ہیں۔‘

In UP #22Muslims were killed in police firing during #CAAProtest , but no FIR against any policeman till date. pic.twitter.com/7loRugfVFa

— MuslimMirror.com (@MuslimMirror) December 22, 2021

شریف اکیلے شکار نہیں ہیں۔ ان کے بیان میں، فیروز آباد کی رہائشی مہرنساء، میرٹھ کے رہنے والے عود الحسن اور بہت سے دوسرے مسلم خاندانوں کے درد کو محسوس کیا جا سکتا ہے، جنہوں نے اپنے قریبی عزیزوں کو کھو دیا تھا جب دو سال قبل اتر پردیش کی پولیس نے مظاہرین پر مظالم ڈھائے تھے۔ ریاستی حکومت نے الٰہ آباد ہائی کورٹ کو دی گئی تعمیل رپورٹ میں تسلیم کیا کہ 22 افراد کی موت ہوئی، لیکن ابھی تک کسی پولیس اہلکار کے خلاف ایک بھی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی ہے۔ اس لیے ابھی تک کسی بھی معاملے میں تفتیش شروع نہیں کی گئی۔ مزید رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تشدد میں تقریباً 83 افراد ،عام لوگ اور مظاہرین زخمی بھی ہوئے۔

اتر پردیش میں 22 اموات میں سے ایک وارانسی،ایک رام پور، ایک مظفر نگر، دو سنبھل اور بجنور، تین کانپور، پانچ میرٹھ اور سات فیروز آباد سے رپورٹ ہوئیں۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ تشدد کے سلسلے میں کل 833 افراد کو گرفتار کیا گیا۔

My son was killed by #UPPolice but no FIR against police even after two years, says father of Asif who was killed on 21 Dec 2019.#CAAProtest pic.twitter.com/qMAbQkVDtC

— MuslimMirror.com (@MuslimMirror) December 22, 2021

پولیس متاثرہ خاندانوں کو مقدمات واپس لینے کے لیے ہراساں کر رہی ہے،مزید یہ کہ پولیس نے مظاہرین کو قتل کا ذمہ دار ٹھہرایا، اس حقیقت کے باوجود کہ پوسٹ مارٹم رپورٹوں میں زخمیوں اور پولیس کی گولیوں میں موت کی بات کہی گئی تھی۔ سوال یہ ہے کہ 22 شہریوں کو کس نے مارا؟

متاثرین کے اہل خانہ کا الزام ہے کہ ’’پولیس کے ہاتھ ہمارے قریبی عزیزوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں‘‘۔ ان کا الزام ہے کہ بہت سے زخمی مظاہرین پولیس کی قید اور دہشت کی وجہ سے مر گئے… انہوں نے انہیں گھنٹوں تک لاپرواہ چھوڑ دیا۔

فیروز آباد کے رہائشی، جس کا بیٹا مقیم صفدرجنگ اسپتال میں فوت ہوگیا، نے کہا، ’میں پولیس کی فائرنگ میں زخمی ہونے والے اپنے بیٹے کو دیکھنے کے لیے میرٹھ اسپتال پہنچا۔ میں نے مقیم کو اسپتال میں لاوارث پڑا دیکھا۔ چند گھنٹوں کے بعد اسے آگرہ لے جایا گیا۔ آگرہ سےاسے دہلی کے صفدرجنگ اسپتال لے جایا گیا جہاں اس کی موت ہوگئی، علاج میں تاخیر اس کی موت کا سبب بنی۔

فیروز آباد کے رہائشی ابرار کا بھی یہی حشر ہوا۔ ابرار گھنٹوں تک سڑک پر زخمی پڑا رہا۔ اسے ایک اسپتال سے دوسرے اسپتال لے جایا گیا، لیکن ڈاکٹروں کے عملے نے وہاں حاضری نہیں دی۔ ابرار کی والدہ نے کہا کہ افسردہ ہو کر ہم اسے دہلی کے اپولو اسپتال لے گئے جہاں اس کی موت ہو گئی۔

چونکہ زیادہ تر متاثرین کا تعلق مزدور طبقے سے تھا، اس لیے پولیس والوں کو ان کے ساتھ بدسلوکی کرنے میں کوئی عار نہیں۔ کانپور کے ایک مقامی وکیل نے کہا کہ وہ غریب متاثرین کے ساتھ بدسلوکی کرتے ہیں اور انہیں بار بار حلف ناموں پر دستخط کرنے پر مجبور کرتے ہیں تاکہ ان کے خلاف درج مقدمات کو کالعدم قرار دیا جا سکے۔

UPPolice harnessing victims family and pressurising them to withdraw complaints. #CAAProtest @Uppolice @myogiadityanath pic.twitter.com/u4ew77EX7E

— MuslimMirror.com (@MuslimMirror) December 22, 2021

انہوں نے مزید کہا کہ ‘پولیس والے مجھے طوائف کہہ رہے ہیں، میری بیٹی کو ہراساں کر رہے ہیں کہ وہ مقدمہ واپس لے لے… وہ دھمکی دے رہے ہیں کہ اگر میں نے شکایت واپس نہ لی تو وہ میرے شوہر کو جیل میں ڈال دیں گے ۔

متاثرہ خاندانوں کے پاس جانے کو کہیں نہیں ہے۔ لگتا ہے ان پر سارے دروازے بند ہیں۔ انہیں قانونی امداد کا بندوبست کرنے کے لیے چھوڑ دیا گیا ہے۔ فیروز آباد میں متاثرین کے خاندان کی مدد کرنے کی کوشش کرنے والی کارکن بنٹو نے کہا کہ وہ اچھے وکیلوں کی خدمات حاصل کرنے سے قاصر ہیں جس سے وہ مزید کمزور ہو گئے ہیں۔

کانپور میں اسد الدین اویسی کی قیادت والی ایم آئی ایم کے مقامی لیڈر ناصر خان کانپور میں موت کے معاملات کو دیکھ رہے ہیں، لیکن اہل خانہ کارروائی کی رفتار سے مطمئن نہیں ہیں۔ اس نمائندے نے ان کو الزامات کی حقیقت جاننے کے لیے فون کیا، خان نے جواب دیا کہ وہ اسے واپس فون کریں گے، لیکن اس نے نہ تو اپنی بات پر قائم رہنے کی زحمت کی اور نہ ہی اسے بار بار کی جانے والی کال کا جواب دیا۔ شاید اس نقطہ نظر نے کم از کم پانچ زخمی متاثرین کو اس سے کیس واپس لینے پر اکسایا۔

فیروز آباد ضلع میں جہاں سب سے زیادہ سات اموات ریکارڈ کی گئیں، کسی پولیس اہلکار کے خلاف ایک بھی ایف آئی آر درج نہیں ہوئی۔

پولیس نے ابتدائی طور پر آئی پی سی آر کی دفعہ304 کے تحت مقدمات درج کیے تھے، لیکن عدالتی مداخلت کے بعد، کچھ مقدمات 302 کے تحت درج کیے گئے، ایڈوو کیٹ صغیر نے یہ باتیں بتائیں جو فیروز آباد کے سات متاثرین کے خاندان کے مقدمات کی نمائندگی کر رہے ہیں۔

میرٹھ کے تمام موت کے مقدمات کی نمائندگی کرنے والے ایڈووکیٹ ریاست علی نے کہا، ’پولیس تھیوری کے مطابق، مسلمانوں نے احتجاج کے دوران خود کو مار ڈالا۔‘

’مسلمان مارے گئے، مسلمان قاتل تھے، مسلمان مجرم تھے… مسلمانوں کو پولیس ہراساں کر رہی ہے، ان کی جائیدادیں ضبط کی جا رہی ہیں۔ میرے خیال میں ہندوستان میں حکمرانی کے تحت انصاف ایک سراب بن گیا ہے،‘ اے آئی سی سی کے سبول علی نے کہا۔

رہائی منچ کے راجیو یادو نے الزام لگایا کہ درحقیقت یوگی نے یوپی پولیس کو مسلمانوں کو مارنے کے لیے اکسایا، مسلمانوں کے قتل میں ملوث تمام پولیس والوں کو گرفتار کر کے مقدمہ چلایا جانا چاہیے۔

(تصاویر ،اسٹوری: بشکریہ: muslim mirror)

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

ہم متبادل ورلڈ آرڈر کے حق میں، ٹیرف متاثرین کے لیے سرکار ہر ضروری قدم اٹھائے: امیر جماعت
گراونڈ رپورٹ

ہم متبادل ورلڈ آرڈر کے حق میں، ٹیرف متاثرین کے لیے سرکار ہر ضروری قدم اٹھائے: امیر جماعت

06 ستمبر
سنبھل فساد کی تحقیقاتی رپورٹ میں ایسا کیا ہے کہ یوگی حکومت پر اٹھے سوال دبا دیئے گیے؟
گراونڈ رپورٹ

سنبھل فساد کی تحقیقاتی رپورٹ میں ایسا کیا ہے کہ یوگی حکومت پر اٹھے سوال دبا دیئے گیے؟

01 ستمبر
آسام:بنگالی بولنے والے مسلمانوں کے خلاف نفرت وتشدد میں بےحد اضافہ:India Hate Lab نے نیا ڈیٹا جاری کیا
گراونڈ رپورٹ

آسام:بنگالی بولنے والے مسلمانوں کے خلاف نفرت وتشدد میں بےحد اضافہ:India Hate Lab نے نیا ڈیٹا جاری کیا

03 اگست
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
Humayun Kabir Owaisi Video Row

ہمایوں کبیر کے خفیہ ویڈیو نے اویسی پر بی جے پی کی بی ٹیم کے الزام کو تقویت دی، اتحاد ٹوٹا ، سیاسی بصیرت پر بھی سوال

اپریل 10, 2026
طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

ستمبر 19, 2021
یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

اپریل 10, 2026
DD News Anchor Controversy News

پبلک ٹیکس سے چلنے والے ‘ڈی ڈی نیوز’ کے اینکر نے کہا” ساورکر کے چپل کی دھول بھی نہیں راہل گادھی

اپریل 13, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

اپریل 21, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

اپریل 19, 2026

حالیہ خبریں

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN