لکھنؤ :(ایجنسی)
کورونا کی تباہ کاری دوسری لہر کے دوران اتر پردیش میں گنگا ندی ’لاشوں کو پھینکنے کے لیے آسان جگہ‘ بن گئی تھی۔ یہ دعویٰ این ایم سی جی کے ڈائریکٹر جنرل اور نمامی گنگے پروجیکٹ کے سربراہ راجیو رنجن مشرا اور آئی ڈی اے ایس افسر پشکل اپادھیائے کی تصنیف کردہ ایک نئی کتاب میں کیا گیا ہے۔ کورونا کی دوسری لہر کے دوران گنگا میں تیرتی لاشوں کی وجہ سے یوپی کی بی جے پی حکومت کو کافی تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا، لیکن حکومت بار بار اس کی تردید کرتی رہی ہے۔
کورونا وائرس کی وبا کی دوسری لہر نے ملک بھر میں تباہی مچا دی تھی۔ اتر پردیش میں بھی اس وبا کی وجہ سے ہزاروں لوگ لقمہ اجل بن گئے تھے۔ اس دوران گنگا میں لاتعداد لاشیں بہتی ہوئی دیکھی گئیں، خیال کیا جا رہا تھا کہ یہ لاشیں کووِڈ سے مرنے والوں کی ہیں، جنہیں اس طرح ندی میں پھینکا گیا ہے، تاہم حکومت بارہا اس کی تردید کرتی رہی ہے۔
راجیو رنجن مشرا 1987 بیچ کے تلنگانہ کیڈر کے آئی اے ایس افسر ہیں اور انہوں نے دو میعادوں کے دوران پانچ سال سے زیادہ این ایم سی جی میںخدمات انجام دےچکے ہیں اور 31دسمبر کوریٹائرہونےوالےہیں۔ کتاب ’’ گنگا- ریزونیٹنگ ، ریکنیوٹنگ ‘‘ کا اجراجمعرات کو وزیر اعظم کی اقتصادی مشاورتی کونسل کےچیئرمین وویک دیب رائے نے کیا۔
اس کتاب میں وبائی امراض کے دوران گنگا کی صورت حال کا ذکر گیا ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ کورونا وبا کی دوسری لہر کے دوران مرنے والوں کی تعداد میں اضافے کے ساتھ، آخری رسومات ادا کرنے کا دائرہ وسیع ہوتا جا رہا تھا، یوپی اور بہار میں شمشان گھاٹوں پرجلتی چتاؤں کےدرمیان گنگا ندی لاشوں کے لئے ایک ’آسان ڈمپنگ گراؤنڈ‘ بن گئی۔
اضلاع کی طرف سے فراہم کردہ اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیاہے کہ ’300 سے زیادہ لاشیں ندی میں نہیں ‘ پھینکی گئی تھی۔ کتاب کےکچھ اقتباسات سےیہ واضح ہوتاہے کہ وہ راجیو رنجن مشراکےذریعہ لکھے گئےہیں۔ مثال کے طور پرکتاب میں بتا یاگیاہے :’ میں گروگرام واقع میدانتا اسپتال میں کووڈ19-کےخلاف لڑرہاتھا۔ جب میںنے مئی کی شروعات میں مقدس گنگا ندی میں تیرتی لاوارث اورآدھی جلی ہوئی لاشوںکے بارے میںسنا ‘‘
اس نے مزید کہاگیاہے، ’’ٹی وی چینلز، اخبارات اور سوشل میڈیا سائٹس خوفناک تصویروں اور لاشوں کوندی میں پھینکے جانے کی رپورٹوں سے بھر گئی تھیں۔ یہ میرے لیے ایک تکلیف دہ اور دل دہلا دینے والا تجربہ تھا۔‘‘










