نئی دہلی :(ایجنسی)
ہندوتوا کے نام پر نفرت انگیز تقاریر دینے کے کئی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہیں، جن میں سے ایک ویڈیو دارالحکومت دہلی کی ہے۔ دارالحکومت میں ہندوتوا گروپ ’ہندو یووا واہنی‘ نے مذہبی اقلیتوں کے خلاف تشدد کی حمایت میں ایک تقریب کا اہتمام کیا۔ لیکن پانچ دن گزرنے کے باوجود پولیس نے اب تک اس اشتعال انگیز اور نفرت انگیز پروگرام کے حوالے سے کوئی ایکشن نہیں لیاہے، ساتھ ہی کسی طرح کی کارروائی کی اطلاع بھی نہیں دی گئی ہے۔
بتایا گیا کہ یہ نفرت پھیلانے والا پروگرام 19 دسمبر کو دہلی کے گووند پوری میٹرو اسٹیشن کے قریب بنارسی داس چندی والا آڈیٹوریم میں منعقد کیا گیا تھا۔
دی کوینٹ کی رپورٹ کے مطابق ہندوتوا تنظیموں اور سدرشن نیوز چینل کے چیف ایڈیٹر سریش چوہانکے کی ایک ویڈیو بدھ 22 دسمبر کو سوشل میڈیا پر وائرل ہونی شروع ہوئی۔ جس میں دیکھا گیا کہ چوہانکے ہندوستان کو ہندو راشٹر میں تبدیل کرنے کے لیے لوگوں کو ’’لڑو، مرو اور ضرورت پڑنےپر مار ڈالو‘‘ کی سپتھ(حلف) دلا رہاہے ۔
کوئنٹ نے اس واقعہ کو لے کر کیا کارروائی ہوئی ہے، اس کی معلوملات کےلیے جمعہ 24 دسمبرکوڈی سی پی ساؤتھ ایسٹ سے رابطہ کیا،لیکن انہوںنےیہ کہتےہوئے بتا کوٹال دیاکہ اس معاملے میں کچھ نہیں کہہ سکتے۔
بتادیں کہ یہاں موجود لوگوں نے حلف میں کہا تھا کہ ’’ہم حلف لیتے ہیں اور سنکلپ لیتے ہیں کہ اپنی آخری سانس تک، اس ملک کو ہندو راشٹر بنانے اور اس ملک کو ہندو راشٹر بنائے رکھنے کےلیے لڑیں گے،اس کے لیے مریں گے اوراگرضرورت پڑی تومار بھی ڈالیں گے۔‘‘
نفرت انگیز پروگرام میں کون کون تھا شامل ؟
اتر پردیش میں یوگی آدتیہ ناتھ حکومت میں وزیر مملکت راجیشور سنگھ اس پروگرام میں مہمان خصوصی تھے۔ سدرشن نیوز چینل کے ایڈیٹر سریش چوہانکے نے ٹوئٹر پر ہندو یووا واہنی کی تقریب میں اپنی موجودگی کی تصدیق کی اور ساتھ ہی حلف کی ویڈیو بھی اپنے اکاؤنٹ پر پوسٹ کیا۔ چوہانکے نے اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کو بھی اشتعال انگیز حلف برداری کی ویڈیو ٹیگ کیا۔
جب کانگریس کے رہنما عمران پرتاپ گڑھی نے نفرت انگیز تقریر کی مذمت کی، تو چوہانکے نے ان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ ’مغل بادشاہ اورنگزیب کا حلف اٹھانے والوں میں سے ایک ہیں۔‘
اس نفرت انگیز واقعہ اور اس میں بولنے والے مقررین کی اشتعال انگیز تقاریر پر کئی لوگوں نے ٹوئٹر پر غصے کا اظہار کیا۔
لوگوں نے سوال کیا کہ ایسے اشتعال انگیز لوگوں کے خلاف کارروائی کیوں نہیں کی جاتی؟ یوتھ کانگریس لیڈروں نے ٹوئٹر پر پوچھا کہ کیا فرقہ وارانہ تقریر غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ (UAPA) کے تحت آتی ہے۔ ساتھ ہی کچھ صحافیوں نے یہ بھی سوال کیا کہ ان لوگوں کے خلاف غداری کا مقدمہ کیوں درج نہیں کیا گیا؟










