اردو
हिन्दी
مئی 10, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

اتر پردیش الیکشن: مودی اور شاہ کی انتخابی حکمت عملی میں یوگی کہاں ہیں؟

4 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ فکر ونظر, مضامین
A A
0
اتر پردیش الیکشن: مودی اور شاہ کی انتخابی حکمت عملی میں یوگی کہاں ہیں؟
100
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

تحریر:آننت پرکاش

کانگریس لیڈر راج ببر نے ہفتہ کو ایک ٹویٹ کیا اور بی جے پی کی اعلیٰ قیادت سے ایک ایسا سوال پوچھا جو ان کے لیے مشکل سمجھا گیا۔ راج ببر نے لکھا، ’ہر جگہ چہرے کی سیاست کرنے والی بی جےپی- یوپی میں کنفیوژن کیوں ہے؟ یوگی جی سی ایم کے عہدے کا چہرہ ہیں نا؟‘

بی جے پی کی انتخابی حکمت عملی پر سوال اٹھاتے ہوئے انہوں نے لکھا، ’وزیر داخلہ نے لکھنؤ میٹنگ میں ڈپٹی سی ایم کی تعریف ایسے کی جیسے وہ اس بار بی جے پی کا چہرہ ہوں۔ اگلے ہی دن وزیر اعظم شاہجہاں پور میں وزیر اعلیٰ کو پروجیکٹ کرتے ہیں۔

गृहमंत्री लखनऊ की सभा में डिप्टी सीएम की तारीफ़ ऐसे करते हैं जैसे वही इस बार बीजेपी का चेहरा हैं। अगले ही दिन प्रधानमंत्री शाहजहांपुर में मुख्यमंत्री को प्रोजेक्ट करते हैं।

हर जगह चेहरे की राजनीति करने वाली बीजेपी – यूपी में कन्फ्यूज़ क्यों है। योगी जी सीएम पद का चेहरा हैं न ??

— Raj Babbar (@RajBabbar23) December 18, 2021

تاہم راج ببر کچھ عرصے سے اتر پردیش کی سیاست میں سرگرم نہیں ہیں۔ لیکن انہوں نے اپنے ٹویٹ میں جس چیز کی طرف اشارہ کیا ہے وہ اتر پردیش میں بی جے پی کی بدلتی ہوئی انتخابی حکمت عملی کے بارے میں واضح کرتا ہے۔

الگ موقع – الگ حکمت عملی

پچھلے سات آٹھ سالوں میں ہوئے اسمبلی انتخابات سے جڑی بی جے پی کی حکمت عملی کو دیکھیں تو ایک طرح کا پرامڈ(اہرام) نظر آتا ہے۔وزیر اعظم نریندر مودی اس پرامڈ میں سب سے اوپر ہیں اور پھر ایک منظم انداز میں قومی، علاقائی اور حالات حاضرہ کا نمبر آتا ہے۔

بی جے پی کی یہ کوشش رہتی ہے کہ انتخابات میں خاص کر اسمبلی انتخابات میں آمنے سامنے کا ٹکر نہ ہو تاکہ بی جے پی کو ملنےوالا ووٹ بکھر ے نہیں اور جو ووٹ اس کے کھاتے میں نہ آئے وہ پورا ووٹ کسی ایک پارٹی کے اکاؤنٹ میں نہ چلا جائے ۔ یہی نہیں، مودی اور شاہ کی قیادت والی بی جے پی نے پہلے پہل تو وزیر اعلیٰ کے عہد کے امیدوار کا نام ظاہر نہیں کرتی ہے۔ اگر ایک بار کر بھی دیا جائے تو بی جے پی اس کے نام پر الیکشن نہیں لڑتی ہے۔ لیکن اترپردیش کے اس اسمبلی انتخاب میں بی جے پی اس حکمت عملی سے ہٹ کر کام کرتی نظر آرہی ہے ۔

اس سمت میں پہلا بیان امت شاہ کی طرف سے آیا کہ ’’اگر 2024 میں مودی جی کو وزیر اعظم بنانا ہے تو 2022 میں یوگی جی کو ایک بار پھر وزیر اعلیٰ بنانا پڑے گا‘‘۔ اس ایک بیان سے بھی بی جے پی کی حکمت عملی میں تبدیلی نظر آنے لگی۔ کیونکہ اس بیان میں پی ایم مودی کی خاطر یوگی آدتیہ ناتھ کو وزیراعلیٰ بنانے کی بہت واضح طور پر درخواست کی گئی تھی۔

2019 के चुनाव में भाई संजय निषाद भाजपा के साथ जुड़े और निषाद समाज गांव-गांव से निकलकर हर बूथ पर जाकर कमल का संदेश लेकर गया और देखते-देखते दो तिहाई बहुमत से मोदी जी की पूर्ण बहुमत की सरकार बनाने का काम किया।

– मा. गृहमंत्री श्री @AmitShah जी#निषाद_समाज_भाजपा_के_साथ pic.twitter.com/e9Wo8yCcTc

— Keshav Prasad Maurya (@kpmaurya1) December 17, 2021

اترپردیش کی سیاست کی گہری سمجھ رکھنے والے سینئر صحافی سنیتا آرون کاماننا ہے کہ بی جے پی ضرورت کےمطابق اپنی حکمت عملی بنا رہی ہے ۔

وہ کہتی ہیں، ’بی جے پی اس انتخاب میں جگہ اور پروگرام کو مدنظر رکھتے ہوئے حکمت عملی بنا رہی ہے۔ جیسے ابھی ابھی ایک بیان سامنے آیا ہے کہ یوگی جی اپیوگی (کارآمد) ہیں۔ اسی طرح ان کے لیے جس جگہ جو اپیوگی ہوگا، وہ اس کا استعمال کریں گے۔ مثال کے طورپر نشاد ریلی میں انہوں نے کیشو پرساد موریہ کا ذکر کیا۔ کیونکہ پسمادہ طبقہ اس بات سے ناراض ہے کہ اونچی ذات کا اثر ہے اور سنجے نشاد گورکھپور سےہی آتے ہیں۔ بار بار کہا جاتا ہے کہ یوگی جی نے راجپوتوں کی سیاست کی ۔ ایسے میں اس ریلی میں وہ ایک پسماندہ طبقہ کے لیڈر کوترجیح دیں گے ۔ کیونکہ یوگی جی کی تعریف کرنے سے نشاد خوش نہیں ہوں گے۔

اب آپ دیکھیں گے کہ مغربی اتر پردیش میں یوگی جی کا بہت نام لیا جائے گا۔ کیونکہ وہاں لوگوں کا غصہ مودی سے زیادہ، یوگی سے کم ہے۔ کیونکہ مودی جی کسان قانون لائے تھے۔ اس کے ساتھ ہی مغربی اتر پردیش کے کسان لو جہاد جیسے مسائل پر کارروائی کرنے کا کریڈٹ یوگی کو دیتے ہیں۔

لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بی جے پی کو اپنی حکمت عملی تبدیل کرنے پر کیوں مجبور ہونا پڑا؟

اس سوال کے جواب میں سنیتا آرون کہتی ہیں، ’’بی جے پی کی اس حکمت عملی کی وجہ یہ ہے کہ اس الیکشن میں بی جے پی کو اندازہ ہو گیا ہے کہ یوگی اکیلے الیکشن نہیں جیت سکتے۔خالی ان کو آگے کرکے اکھلیش یادو سے الیکشن نہیں لڑا جاسکتا۔ اس لئے مودی جی کی ضرورت ہے ۔

کیا کیشو پرساد موریہ متبادل بن سکتے ہیں؟

حال ہی میں ایک جلسہ عام کے دوران امت شاہ کو کیشو پرساد موریہ کی تعریف کرتے ہوئے دیکھا گیا۔ یہی نہیں کیشو پرساد موریہ ایک پروگرام میں نریندر مودی کو کچھ معلومات دیتے نظر آئے۔ اس کے بعد یوپی کے سیاسی حلقوں میں یہ قیاس آرائیاں شروع ہو گئیں کہ کیا انتخابات کے بعد سیٹیں کم ہونے پر کیشو پرساد موریہ کے نام پر غور کیا جا سکتا ہے۔

سینئر صحافی یوگیش مشرا، جو یوپی کی سیاست کو سمجھتے ہیں، کا ماننا ہے، ’کیشو پرساد موریہ نئی بھارتیہ جنتا پارٹی میں آزمائے گئے لیڈر ہیں کیونکہ وہ گزشتہ اسمبلی انتخابات میں ریاستی صدر تھے اور بی جے پی کو اکثریت ملی تھی اور دانستہ یا نادانستہ بھارتیہ جنتا پارٹی انہیں او بی سی لیڈر کے طور پر پیش کرتی رہی ہے، ایسے میں پارٹی ان کی شبیہ کا فائدہ اٹھانا چاہتی ہے اور چونکہ اکثریت ان کی قیادت میں ملی ہے، ایسے میں انہیں لگتا ہے کہ کیشو موریہ کو کنارے نہیں کیا جا سکتا۔

یہی نہیں، کیشو موریہ، ستیش مہانا اور برجیش پاٹھک سمیت کل چار وزیر ہیں، جو پانچ سالوں میں کارکنوں سے لے کر عام لوگوں تک ملتے رہے ہیں۔

ایسے میں چاہے وہ لوگوں کے کام نہ کراپائے ہوں لیکن ان کے ساتھ حکومت محالف لہر نہیں ہے۔ اور او بی سی طبقہ میں یہ رجحان ہے کہ یوگی جی نے کیشو موریہ کو کام نہیں کرنے دیا۔ اس میں ایک ہمدردی بھی ہے۔ اور بی جے پی اس کا فائدہ اٹھانا چاہتی ہے۔

لیکن کچھ سیاسی تجزیہ کاروں کا یہ بھی ماننا ہے کہ بی جے پی کوئی دروازہ بند نہیں کرنا چاہتی۔

سینئر صحافی راجیش دویدی کا ماننا ہے کہ بی جے پی اپنے آپشن کھلے رکھنا چاہتی ہے۔ وہ کہتے ہیںکہ بات یہ ہے کہ بی جے پی نہیں چاہتی کہ کم سیٹوں کی صورت میں اس کے پاس یوگی کا آپشن نہ ہو۔کیونکہ اگر اسے حکومت بنانے کے لیے کسی کا سہارا لینا پڑتا ہے تو وہ بی ایس پی یادیگر پارٹی ہو سکتی ہے۔ دیگر پارٹیاں یوگی سے متفق نہیں ہیں۔ ایسی صورتحال میں کیشو پرساد موریہ کام آ سکتے ہیں۔

بی جے پی مضبوط یا مجبور؟

وزیر اعظم نریندر مودی اور امت شاہ کی جوڑی کوشش کرتی ہے کہ حالات کتنے ہی مخالف کیوں نہ ہوں لیکن ان کے اشاروں میں مجبوری یا بے بسی نہیں دکھائی دیتی ہے۔

لیکن ماہرین کی رائے میں اس الیکشن میں بی جے پی کی اعلیٰ قیادت اکھلیش یادو کے بیانات اور ان کی ریلیوں میں آنے والی بھیڑ پر بحث کرکے ایک مختلف تصویر پیش کر رہی ہے۔

سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ امت شاہ کی تقریروں میں جس طرح کی عجلت نظر آرہی ہے، اس سے اس الیکشن میں بی جے پی کی ’بے بسی اور مجبوری‘ کی نشاندہی ہو رہی ہے۔

اس پر روشنی ڈالتے ہوئے سنیتا آرون کہتی ہیں، ’پہلے اپوزیشن پارٹیاں الیکشن میں نہیں اتر رہی تھیں۔ اس کے بعد اکھلیش جی نے اپنی رتھ یاترا شروع کی جس میں بھیڑ نظر آئی۔‘ تاہم، ہجوم کا مطلب ووٹ نہیں ہے۔ لیکن یہ یقینی طور پر ظاہر کرتا ہے کہ اسے لوگوں نے پسند کیا ہے۔ اور اس وقت لڑائی کی پوزیشن میں ہیں۔ اگر آپ 2017 کے انتخابی نتائج پر نظر ڈالیں تو انہیں بہت طویل سفر طے کرنا پڑے گااور اگر بی جے پی 325 سے گرتی ہے تو کہاں گرے گی، یہ دیکھنا ہوگا۔

لیکن ایک بات نظر آئی، ان لوگوں کی اندرونی رپورٹ بھی رہی ہوں گی کہ اس الیکشن میں پولرائزیشن ہو رہاہے۔ دو حصوں میں تقسیم ہو رہاہے۔ بی جے پی کے لئے یہ کہیں سے ٹھیک نہیں ہے،کیونکہ وہ چاہتے ہیں کہ الیکشن کثیر الجہتی یعنی کئی زاویوں میں تقسیم کیا جائے، تاکہ ان کے خلاف ووٹ تقسیم ہو جائے۔ اس طرح ان کے لیے الیکشن لڑنا آسان ہو جاتا ہے۔

اب جو بھی حکومت دوبارہ الیکشن کے لیے جاتی ہے، اس کے خلاف حکومت مخالف لہر اٹھتی ہے۔ اور یوپی میں 2007 کے بعد کوئی حکومت دوبارہ اقتدار میں نہیں آئی ہےاور بی جے پی کے لیے 2024 کے لحاظ سے یوپی جیتنا بہت ضروری ہے۔ تو ایک قسم کا ڈپریشن ہے۔

(بشکریہ: بی بی سی ہندی)

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

US Iran War Strategic Defeat News
مضامین

امریکہ – اسرائیل – ایران جنگ میں امریکہ کی اسٹریٹجک ہار پہلے سے طے

23 مارچ
Hormuz Strait Iran Speech
مضامین

ایران میں قیادت کی تبدیلی اور مجتبیٰ خامنہ ای: ایک تجزیاتی مطالعہ

12 مارچ
Modi Israel Gaza Questions Debate
مضامین

پی ایم مودی کے دورہ اسرائیل میں غزہ کے مصائب کا ذکر تک نہ ہونے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ کیا چاہتا ہے بھارت ؟

28 فروری
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
Humayun Kabir Owaisi Video Row

ہمایوں کبیر کے خفیہ ویڈیو نے اویسی پر بی جے پی کی بی ٹیم کے الزام کو تقویت دی، اتحاد ٹوٹا ، سیاسی بصیرت پر بھی سوال

اپریل 10, 2026
طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

ستمبر 19, 2021
DD News Anchor Controversy News

پبلک ٹیکس سے چلنے والے ‘ڈی ڈی نیوز’ کے اینکر نے کہا” ساورکر کے چپل کی دھول بھی نہیں راہل گادھی

اپریل 13, 2026
اعصابی کمزوری کی علامات، اسباب اور علاج

اعصابی کمزوری کی علامات، اسباب اور علاج

مارچ 23, 2021
امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

اپریل 21, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

اپریل 19, 2026

حالیہ خبریں

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN