نئی دہلی :(ایجنسی)
نئے سال کے پہلے ہفتے میں ان مہاجرین کو شہریت ترمیمی قانون لاگوہونے کا تحفہ مل سکتاہے جو برسوں سے بھارت کی شہریت پانے کا انتظار کررہے ہیں۔ شہریت قانون (سی اے اے ) 2020 پارلیمنٹ سے منظورہونے کے بعد بھی ایک سال سے عمل میں نہیں آسکا ہے،کیونکہ اس کے قوانین ابھی طےنہیں کئے جاسکتے ہیں۔ بھاسکر کو معتبر ذرائع سے جانکاری ملی ہے کہ آخر کار مرکز نے اب سی اے اے پر عمل کرنے کا من بنا لیا ہے۔
سمجھا جاتا ہے کہ یوپی سمیت پانچ ریاستوں کے انتخابات کے پیش نظر راشٹریہ سویم سیوک سنگھ مسلسل اس بات پر زور دے رہی ہے کہ پاکستان، افغانستان اور بنگلہ دیش کے ہندوؤں، سکھوں، جینوں، بدھوں، پارسیوں اور عیسائیوں کے ساتھ انصاف کیا جائے۔ بتایا جاتا ہے کہ حکومت کی جانب سے وفاقی قیادت کو مکمل یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ اب 10 جنوری کی ڈیڈ لائن میں توسیع کی کوئی درخواست نہیں کی جائے گی اور اس سے پہلے قوانین طے کرکے سی اے اے پر عمل درآمد کیا جائے گا۔
حکومت ایک ایسے وقت میں یہ قدم اٹھانے کا منصوبہ بنا رہی ہے جب اتر پردیش سمیت 5 ریاستوں میں اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں۔ مسلم کمیونٹی کا ایک طبقہ اس قانون کی مخالفت کرتا رہا ہے۔ دہلی کے شاہین باغ میں بھی طویل عرصہ تک احتجاج بھی ہوا تھا۔ سی اے اے لاگو ہونے کی صورت میں اس طبقے کا ردعمل اور اس کے سیاسی اثر پر تجزیہ کاروں کی نظر رہے گی ۔
سٹیزن شپ ایکٹ 1955 کی دفعہ 2-1-B یہ فراہم کرتا ہے کہ پاسپورٹ ،ویزا اوردیگر سفری دستاویزات کے بغیر تارکین وطن بھارت آتے ہیں یا جن کا پاسپورٹ اور ویزا کی میعاد ختم ہو جاتی ہے انہیں غیر قانونی تارکین وطن سمجھاجائے گا۔ سی اے اے بنیادی طور سے اس قوانین میں تبدیل کرنے کےلیے لایا گیاہے۔ بنگلہ دیش بننے سے کچھ وقت پہلے ہندوپناہ گزینوں کی ایک بڑی تعداد ہندوستان آئی تھی۔ پھر بنگلہ دیش بننے کے بعد بھی وہاں سے مظلوم اقلیتیں آتی رہی ہیں۔ ایسے پناہ گزینوں کی تعداد 2-3 کروڑ سے اوپر ہے۔
بنگلہ دیش بننے کے 50 سال بعد انہیں انصاف مل سکے گا۔ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے مغربی بنگال کے اسمبلی انتخابات کے دوران کہا تھا کہ ملک بھر میں ویکسینیشن مکمل ہونے کے بعد سی اے اے کو نافذ کیا جائے گا۔ ظاہر ہے کہ ویکسینیشن پروگرام بھی اپنے آخری مراحل میں ہے اور حکومت اپنے وعدے کو نبھانے کی پوزیشن میں ہے۔ بی جے پی نے مغربی بنگال کے متوا سماج کے لوگوں کو شہریت دینے کا انتخابی وعدہ کیا ہے۔ متوا برادری کے پاس 30 اسمبلی سیٹوں پر تقریباً 1.5 کروڑ ووٹ ہیں۔
پناہ گزینوں کوشہریت دلانے میں مدد کرنےمیں سرگرم رول ادا کرنےوالے جے آہوجا کہتے ہیں کہ سی اے اے لاگوہونے کے بعد ان لوگوںکو پاکستان ہائی کمیشن کے چکر لگانے نہیں پڑیں گے جو ہندوستانی شہریت کی خاطر وہاں اپنا پاسپور ٹ جمع کرانے یا ویلڈ کرانے جاتے ہیں۔ ان میں سے ہر شخص سے 2 ہزار روپے رشوت لی جاتی ہے ۔ جدید کی فیس بھی 6000 روپے سے بڑھا کر 7500روپے کردی گئی ہے ۔ پاک اہلکار ان لوگوں سے بدسلوکی بھی کرتے ہیں ۔
کسی قانون کے قواعد 6 ماہ کے اندر شائع ہوجانے چاہئے تاکہ اس قانون پر عمل ہوسکے۔ شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے ) پارلمنٹ سے 11 دسمبر 2019 کو پاس ہوا ، ایکٹ 10 جنوری 2020 کو نافذ ہوگیا، لیکن اس کے قواعد طے نہیں کئے گئے۔ قوانین طے کرنے کے لیے مرکزی سرکار نے اکتوبر 2020، فروری 2021 اور مئی 2021 میں پارلیمنٹ کی ماتحت قانون ساز کمیٹیوں سے توسیع کی درخواست کی۔ اب حکومت کے پاس 10 جنوری 2022 کی آخری تاریخ ہے۔ مانا جا رہا ہے کہ مرکز توسیع کی درخواست نہیں کرے گا۔
10 ریاستوں نے نیشنل رجسٹر آف سٹیزن شپ (این آر سی) کے خلاف قراردادیں پاس کرچکی ہیں۔ لیکن ان میں سے کسی ریاست نے سی اے اے کی براہ راست مخالفت نہیں ہے، اس لئے سرکار کو امید ہے کہ قانون کو لاگو کرنےمیںریاست بھی رکاوٹ نہیں بنیں گی۔










