اردو
हिन्दी
مئی 9, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

رامپور ریاست کی 2600کروڑ کی جائیداد کی شرعی تقسیم کا تنازع حل ہوگا؟

4 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ گراونڈ رپورٹ
A A
0
رامپور ریاست کی 2600کروڑ کی جائیداد کی شرعی تقسیم کا تنازع حل ہوگا؟
47
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

تحریر:شہباز انور

بھارت کی سب بڑی ریاست اُترپردیش کے ضلع رامپور کی ایک عدالت نے چھ دسمبر کو ریاست رامپور کے آخری نواب رضا علی خان کی جائیداد کی تقسیم سے متعلق ایک ’پارٹیشن اسکیم‘ سپریم کورٹ کو ارسال کی ہے۔ تقسیم کی اس اسکیم کے تحت نواب رضا علی خان کی 26 سو کروڑ سے زائد کی جائیداد کو شرعی قانون کے تحت نواب کے 16 ورثا میں تقسیم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

اب سپریم کورٹ کو اس تجویز پر حتمی فیصلہ کرنا ہے۔ نواب رضا علی خان کے پوتے اور ان کے وارثوں میں سے ایک نواب کاظم علی کے وکیل سندیپ سکسینہ نے کہا کہ ’سپریم کورٹ نے 30 جولائی 2019 کو رامپور عدالت کو حکم دیا تھا کہ وہ شرعی قانون کے تحت اس معاملے کا فیصلہ کرے۔ ٹرائل کورٹ اور ہائی کورٹ نے نواب رضا علی خان کے بڑے بیٹے مرتضیٰ علی خان کے ورثا کے حق میں فیصلہ سنایا ہے۔‘

معاملہ کیا ہے؟

دراصل رامپور غیر منقسم بھارت میں ایک ریاست ہوا کرتی تھی جس کے آخری حکمران نواب رضا علی خان کی منقولہ اور غیر منقولہ جائیداد کے متعلق 1972 سے تنازع جاری ہے۔ اس تنازع میں ایک طرف نواب مرتضیٰ علی خان کے صاحبزادے محمد علی خان، نواب رضا علی کے بڑے بیٹے اور بیٹی نگہت علی خان ہیں۔ دوسری طرف نواب رضا علی خان کے دو اور بیٹے ہیں، نواب ذوالفقار علی خان اور نواب عابد علی خان کے بچے اور چھ بہنیں۔

دوسرے فریق کا الزام ہے کہ نواب مرتضیٰ علی خان اور ان کے خاندان نے منقولہ جائیداد پر قبضہ کر لیا تھا جس میں نواب رضا علی خان کی پانچ غیر منقولہ جائیدادیں بھی شامل تھیں۔ اس کو چیلنج کرنے والی درخواست 1972 میں نواب رضا علی خان کی بڑی بیٹی کی بیٹی خورشید لقا بیگم طلعت فاطمہ کی جانب سے دائر کی گئی تھی۔

اس درخواست میں عدالت سے مسلم پرسنل لاء کے شرعی قانون کے تحت تمام ورثا میں جائیداد کی تقسیم کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

49 سال سے تنازع جاری ہے

نواب کاظم علی خان کے وکیل سندیپ سکسینہ کا کہنا ہے کہ ’رامپور کے آخری نواب، نواب رضا علی خان کی رامپور کوٹھی خاص باغ، بے نظیر باغ، لکھی باغ، کنڈا اور نواب ریلوے سٹیشن میں پانچ جائیدادیں تھیں۔ یہ پانچ جائیدادیں نواب رضا علی خان کی تھیں۔ اور یہ ان کی ذاتی جائیدادیں تھیں۔‘

ان کا مزید کہنا ہے کہ ’جب ملک آزاد ہوا اور تمام شاہی ریاستیں ملک میں ضم ہو گئیں تو اس میں رامپور کی شاہی ریاست بھی شامل تھی، اس موقع پر شاید نواب رضا علی خان نے یہ محسوس کیا ہو گا کہ ان کے پاس کیا بچے گا؟ تو پھر انھوں نے یہ پانچ جائیدادیں اپنے پاس رکھ لیں۔ سنہ 1966 میں نواب رضا علی کی وفات کے بعد ان جائیدادوں پر سنہ 1972 میں تقسیم کا دعویٰ دائر کیا گیا۔

یہ معاملہ رامپور ڈسٹرکٹ کورٹ کے ذریعے ہائی کورٹ پہنچا اور بعد میں سپریم کورٹ پہنچا۔ اس کے بعد 30 جولائی سنہ 2019 کو سپریم کورٹ نے رامپور کی ضلعی عدالت کو حکم دیا کہ یہ جائیداد مسلم پرسنل لا میں شریعت کے مطابق تقسیم کی جائے گی۔

سروے کے بعد جائیداد کی قیمت کا اندازہ لگایا گیا

نواب رضا علی خان کی ان پانچ جائیدادوں کا جائزہ لینے کے لیے ایک سروے ٹیم تشکیل دی گئی۔ اس سروے کی تکمیل میں تقریباً ڈیڑھ سال کا وقت لگا۔

سندیپ سکسینہ کا کہنا ہے کہ ‘تقسیم کی سکیم کو نافذ کرنے کی عدالت کی ہدایت پر سروے ٹیم اور ایڈووکیٹ کمشنر نے منقولہ اور غیر منقولہ جائیداد کا جائزہ لینے کے بعد یہ رپورٹ عدالت میں پیش کی۔ اس کے بعد 15 جولائی 2021 کو تقریباً 143 صفحات پر مشتمل اس رپورٹ پر تمام فریقین کے ساتھ تبادلہ خیال کیا گیا۔ تقسیم کی مجوزہ سکیم پیش کی گئی اور اُن (فریقین) سے اعتراضات طلب کیے گئے۔

اعتراضات نمٹانے کے بعد تقسیم کا منصوبہ ضلعی عدالت نے تیار کیا۔ اس کی ایک کاپی ضلعی عدالت نے سپریم کورٹ کو بھیج دی ہے۔ اس سارے عمل میں تقریباً دو سال اور چار ماہ سے زیادہ کا وقت لگا۔

کون کون ورثا ہیں جن میں جائیداد تقسیم ہو گی؟

رامپور کی ریاست کے آخری حکمراں نواب رضا علی خان کے خاندان میں ان کی تین بیویاں، تین بیٹے اور چھ بیٹیاں تھیں۔

نواب رضا علی خان کے پوتے کاظم علی عرف نوید میاں کہتے ہیں: ’ہمارے دادا نواب رضا علی خان کی تین بیویاں، رفعت زمانی بیگم، قیصر زمانی بیگم اور طلعت زمانی بیگم تھیں۔ ان کے تین بیٹے مرتضیٰ علی خان، ذوالفقار علی خان اور عابد علی خان تھے۔ چھ بیٹیوں میں سے پانچ ایک دادی سے تھیں، خورشید لقا بیگم، برجیس لقا بیگم، قمر لقا بیگم، اختر لقا بیگم اور ناہید لقا بیگم۔ سب سے چھوٹی پھوپھی کی دادی، مہرالنسا، طلعت زمانی کی بیٹی ہیں۔‘

نواب رضا علی خان کے بیٹوں کی اولاد میں نواب مرتضیٰ علی خان کے بیٹے محمد علی خان اور بیٹی نگہت علی خان ہیں جبکہ نواب ذوالفقار علی خان کے بچوں میں نواب کاظم علی عرف نوید میاں اور دو بیٹیاں سمن علی خان اور صبا دریز احمد ہیں۔ ان کے علاوہ نواب ذوالفقار کی اہلیہ اور سابق رکن پارلیمان بیگم نور بانو ہیں۔ سب سے چھوٹے بیٹے نواب عابد علی خان کے بچوں میں سید رضا اینڈریوز علی خان اور سید ندیم علی خان ہیں جو اس وقت جرمنی میں رہتے ہیں۔ کل 16 ورثا میں اب جائیداد کی تقسیم ہو گی۔

تاہم مرتضیٰ علی خان کی وفات کے بعد اُن کے بیٹے محمد علی خان اور ان کی بیٹی نگہت علی خان اس جائیداد پر اپنا حق جتاتے رہے ہیں۔ اس خاندان کے یہ دونوں افراد اس وقت گوا اور دہلی میں مقیم ہیں۔

رامپور کورٹ کی تقسیم کی سکیم کے بارے میں سابق رکن اسمبلی بیگم نور بانو نے کہا کہ شریعت کے مطابق تقسیم کے حوالے سے ہمارے درمیان کوئی رنجش وغیرہ نہیں ہے، سب پرسکون انداز میں ہوا ہے۔ ہاں، خاندانی رنجشوں کی وجہ سے تاخیر ضرور ہوئی ہے اور اس میں تقریباً 49 سال لگ گئے ہیں، لیکن اب جلد ہی عدالت اس معاملے پر کارروائی کرتے ہوئے اسے حتمی شکل دے رہی ہے۔ ہم صرف اس وقت کا انتظار کر رہے ہیں۔‘

دراصل یہ پورا معاملہ نوابی دور کے خاتمے اور جمہوریہ ہند میں انضمام کے بعد جائیداد کی تقسیم کے قواعد میں فرق کی وجہ سے تاخیر کا شکار ہوا ہے۔

رام پور کے سینیئر وکیل گجیندر سنگھ کہتے ہیں: ’دیکھیے، نوابی دور میں یہ روایت تھی کہ بادشاہ کی موت کے بعد اس کی سلطنت کا وارث گھر کا سب سے بڑا بیٹا ہوتا تھا۔ جہاں کوئی وارث نہیں ہوتا تھا وہاں انگریز کورٹ آف وارڈز کے تحت جائیداد کو قبضے میں لے لیتے تھے۔ لیکن جمہوریہ ہند میں ریاستوں کی انضمام کے بعد نواب یا بادشاہ بھی ایک عام شہری کی طرح قانون کے دائرے میں آ گئے۔‘

سروے رپورٹ کے مطابق رام پور میں نواب رضا علی خان کی منقولہ اور غیر منقولہ جائیداد کی مالیت 2600 کروڑ سے زیادہ بتائی گئی ہے۔ مقدمے کے وکیل سندیپ سکسینہ کا کہنا ہے کہ ‘سروے رپورٹ میں منقولہ اور غیر منقولہ اثاثوں کی قیمت 2,600 سے 2,700 کروڑ روپے کے درمیان بتائی گئی ہے۔‘

نواب نوید میاں کا کہنا ہے کہ ‘یہ بات بالکل طے ہے کہ جو بھی نواب رضا علی خان کا جانشین ہے، جس میں ان کی تین بیویاں، چھ بیٹیاں، تین بیٹے ہیں، اسلامی شریعت کے مطابق جائیداد ورثا میں تقسیم کی جائے گی۔’

پاکستان کے سابق ایئر چیف مارشل عبدالرحیم خان کی اہلیہ بھی فریق

بھارت کے سابق صدر فخرالدین علی احمد کی بہو صبا دریز احمد بھی رام پور کے نواب رضا علی خان کی تقسیم کی اسکیم کے وارثوں میں شامل ہیں۔ صبا دریز نواب رضا علی خان کے بیٹے نواب ذوالفقار علی خان کی بیٹی ہیں۔ صبا دریز احمد کے شوہر دریز احمد جموں و کشمیر ہائی کورٹ کے چیف جسٹس رہ چکے ہیں۔

دوسری جانب نواب رضا علی خان کی صاحبزادی مہرالنسا بھی فریق ہیں۔ ان کے شوہر پاکستان کے سابق ایئر چیف مارشل عبدالرحیم خان ہیں۔

تمام ورثا میں سے صرف نواب نوید میاں اور ان کی والدہ بیگم نور بانو رامپور میں رہتے ہیں۔

رامپور کی شان 205 کمروں پر مشتمل محل، جو 55 ایکڑ پر پھیلا ہوا ہے

امام باڑہ خاص باغ میں بنایا گیا محل رام پور کا افتخار سمجھا جاتا ہے۔ یہ نواب رضا علی خان کی جائیدادوں میں خاص ہے۔

نواب نوید میاں کا کہنا ہے کہ یہ سب سے بڑی جائیداد ہے، یہاں جو محل ہے اسے 100 سال میں تین ٹکڑوں میں بنایا گیا تھا، اس محل کی تعمیر نواب حامد علی خان کے دور میں شروع ہوئی جو کہ نواب رضا علی کے دور میں پوری ہوئی تھی۔

یہ سنہ 1930 میں مکمل ہوا تھا۔ بہت سے لوگ یہاں سیلفی لینے اور سیر کے لیے آتے ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ 205 کمروں کا یہ محل ایشیا کا پہلا مکمل ایئر کنڈیشنڈ محل تھا۔

(بشکریہ: بی بی سی )

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

ہم متبادل ورلڈ آرڈر کے حق میں، ٹیرف متاثرین کے لیے سرکار ہر ضروری قدم اٹھائے: امیر جماعت
گراونڈ رپورٹ

ہم متبادل ورلڈ آرڈر کے حق میں، ٹیرف متاثرین کے لیے سرکار ہر ضروری قدم اٹھائے: امیر جماعت

06 ستمبر
سنبھل فساد کی تحقیقاتی رپورٹ میں ایسا کیا ہے کہ یوگی حکومت پر اٹھے سوال دبا دیئے گیے؟
گراونڈ رپورٹ

سنبھل فساد کی تحقیقاتی رپورٹ میں ایسا کیا ہے کہ یوگی حکومت پر اٹھے سوال دبا دیئے گیے؟

01 ستمبر
آسام:بنگالی بولنے والے مسلمانوں کے خلاف نفرت وتشدد میں بےحد اضافہ:India Hate Lab نے نیا ڈیٹا جاری کیا
گراونڈ رپورٹ

آسام:بنگالی بولنے والے مسلمانوں کے خلاف نفرت وتشدد میں بےحد اضافہ:India Hate Lab نے نیا ڈیٹا جاری کیا

03 اگست
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
Humayun Kabir Owaisi Video Row

ہمایوں کبیر کے خفیہ ویڈیو نے اویسی پر بی جے پی کی بی ٹیم کے الزام کو تقویت دی، اتحاد ٹوٹا ، سیاسی بصیرت پر بھی سوال

اپریل 10, 2026
طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

ستمبر 19, 2021
یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

اپریل 10, 2026
DD News Anchor Controversy News

پبلک ٹیکس سے چلنے والے ‘ڈی ڈی نیوز’ کے اینکر نے کہا” ساورکر کے چپل کی دھول بھی نہیں راہل گادھی

اپریل 13, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

اپریل 21, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

اپریل 19, 2026

حالیہ خبریں

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN