نئی دہلی:(ایجنسی)
ملک کی راجدھانی دہلی میں کورونا وائرس کا انفیکشن تیزی سے پھیل رہا ہے۔ جس کی وجہ سے ایک بار پھر مہاجرین کی نقل مکانی کا خوف بڑھنے لگا ہے۔ تاہم اب تک دہلی حکومت کورونا وائرس کے بڑھتے ہوئے معاملات کو روکنے کے لیے سخت پابندیوں کو نافذ کرنے سے گریز کر رہی ہے۔ دہلی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (ڈی ڈی ایم اے) کے حکام کے مطابق، انہوں نے دہلی سے ایک جانب تارکین وطن کے اخراج کا خدشہ جتاتے ہوئے دہلی سرکار کو آگاہ کیاہے ۔ یہ ڈر ہے کہ جیسے 2020 اور 2021 میں پہلے دو لاک داؤن کے دوران بڑی تعداد میں تارکین وطن مزدور کو شہر چھوڑنا پڑا ،ویسے ہی دن نہ لوٹ آئیں۔
حکام کے مطابق، بڑے پیمانے پر نقل مکانی کا ڈر پھیلا تو اس کے صحت، معاشی اور سیاسی منظر نامے میں متعدد نتائج ہو سکتے ہیں – پہلی علامت جو حکومت کو پابندیاں عائد کرنے اور احتیاط کے ساتھ چلنے پر مجبور کر رہی ہے۔ آج، حکومت کے ہیلتھ بلیٹن میں کہا گیا ہے کہ دہلی میں منگل کو 5,481 نئے کووڈ 19-کے کیسز ریکارڈ کیے گئے اور پازیٹیو شرح 8.37 فیصدہے ، جو پیر کو 6.5 فیصد تھی۔
واضح رہے کہ موجودہ پابندیوں میں اسکولوں، کالجوں اور دیگر تعلیمی اداروں کا مکمل طور پربندرہنا، جم اور اسپاز کو بند کرنا، بازاروں اور مالز میں دکانوں کو صرف متبادل دنوں میں کھولنے کی اجازت، شادیوں اور آخری رسومات میں شرکت کرنے والوں کی تعداد کو محدود کرنا۔ ہر قسم کے اجتماعات پرمکمل پابندی لاگو کرنا شامل ہیں۔ ڈی ڈی ایم اے نے 31 دسمبر کو اپنی گزشتہ میٹنگ میں بھی اسی طرح کا فیصلہ لیاتھا۔ جب دہلی نے مسلسل دو دنوں تک پازیٹیو شرح ایک فیصد سے زیادہ درج کی تھی اور ’ امبر الرٹ‘ کے لئے کوالیفائی کیا تھا۔سختی کےمعاملوں میں لال سے کم ،لیکن زیادہ 27 دسمبر کو لاگو کئے گئے ’ یلیو الرٹ‘ کے مقابلے میں زیادہ تھی ۔ سرکار تب یلیو الرٹ کے تحت پابندیوں پر بضد تھی۔










