تحریر: عمران قریشی
بڑی تعداد میں غیر سرکاری تنظیموں ( این جی اوز) کو غیر ملکی فنڈز حاصل کرنے سے لائسنس رد کرنے کی کارروائی نے نہ تودلتوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والوں کو بخشا گیا ہے اور نہ ہی حکمراں پارٹی کے ساتھ پہنچانےجانے والی تنظیموں کو ہی رعایت دی گئی ہے ۔
ایک ہفتے کے اندر وزارت داخلہ کی کارروائی نے کئی این جی اوز کو جھنجوڑ کر رکھ دیا ہے۔
غریبوں کے درمیان کام کرنے والی 179 تنظیموں کے لائسنس کی منسوخی اور این جی او سیکٹر پر 5,789 تنظیموں کے لائسنسوں کی تجدید نہ ہونے کے اثرات کا ابھی براہ راست اندازہ لگایا جانا باقی ہے۔
تاہم جو تنظیمیں اس کارروائی سے متاثر ہوئی ہیں ان میں مدرٹریسا کی قائم کردہ مشنریز آف چیریٹی، آکسفیم انڈیا اور جامعہ ملیہ اسلامیہ جیسی تنظیمیں تو ہیں ہی ، ساتھ ہی آندھرا پردیش کے گنٹور میں راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کی مدد سے کام کرنے والی تنظیم سیوا بھارتی اور تریپورہ میں عیسائی تبدیلی مذہب کے خلاف کام کرنے والی تنظیم شانتی کالی مشن بھی شامل ہے ۔
وشو ہندو پریشد کے جوائنٹ جنرل سکریٹری سریندر جین نے بی بی سی ہندی سے بات کرتے ہوئے کہا، ’سنگھ پریوار سے منسلک تنظیم سیوا بھارتی اورعیسائی تبدیلی مذہب کی مخالفت کرنےوالی شانتی کالی مہاراج ، جن کا عیسائیوں نے قتل کردیا تھا ، ان کی تنظیم کو بھی منسوخ کیا گیا ہے۔ یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ عدم تعمیل قوانین کی وجہ سےلائسنس رد ہوں گے ۔ اس کارروائی میں مذہب یا کسی دیگر بنیاد پر امتیازی سلوک نہیں کیا گیا ہے ۔‘
اسی دوران معروف کالم نگار اور ایمنسٹی انٹرنیشنل کے سابق ایگزیکٹیو ڈائریکٹر آکار پٹیل نے بی بی سی ہندی کو بتایا، ’2014 کے بعد سے ہی این جی اوز پر مودی حکومت اور راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کا دباؤ ہے۔انہیں غیر سرکاری این جی اوز بالکل پسند نہیں ہے۔ یہ دشمنی مسلسل بڑھتی گئی ہے۔ یہ ماننا درست نہیں ہوگا کہ ہندوستان میں قانون کی حکمرانی ہے۔ ہندوستان میں جمہوری حکومت کی آڑ میں ایک آمرانہ حکومت ہے۔‘
فنڈز کا بیجا استعمال
فارن کنٹری بیوشن ریگولیشن ایکٹ 1976 کو 2010 میں ایک نئے قانون سے بدل دیا گیا جس میں 2020 میں دوبارہ ترمیم کی گئی۔
اس قانون کے تحت این جی اوز کو بیرون ملک سے گرانٹ لینے کی اجازت ہے لیکن انہیں اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ موصول ہونے والے فنڈز کا استعمال فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو بگاڑنے، تشدد پھیلانے یا عوامی مفادات کو نقصان پہنچانے یا ہندوستان کی سالمیت اور اتحاد کو ٹھیس پہنچانے کے لیے نہ کیا جائے۔ اس کے علاوہ گرانٹ کا استعمال درخواست میں درج مد میں ہوناچاہئے ،اس کا استعمال کسی دوسرے مد میں منتقل نہیں ہونا چاہئے۔
لیگل رائٹس آبزرویٹری (ایل آر او) کے بانی کنوینر ونے جوشی نے بی بی سی ہندی کو بتایا، ’ایف سی آر اے کے سیکشن 12 اور 13 بالکل واضح ہیں۔ اگر صحت کے شعبے میں کام کرنے کے لیے گرانٹ ملا ہے تو اس کا تعلیم کے شعبہ میں استعمال غیر قانونی ہے،لیکن کئی غیر سرکاری تنظیم صحت کے شعبہ میں کام کرنے کے لیے گرانٹ لیتے ہیں اور اس کا استعمال تبدیلی مذہب کےلیے کرتے ہیں ۔ ہم نے وزیر داخلہ کے پاس قریب 7,500صفحات کے دستاویزات کے ساتھ 350شکایات درج کرائی ہیں ۔‘
لیگل رائٹس آبزرویٹری (LRO) بھی ایک 300 رکنی غیر سرکاری تنظیم ہے جو بنیادی طور پرایف سی آر اے کی خلاف ورزیوں کے معاملات کی تحقیقات کرتی ہے۔
جوشی کے مطابق ان کی این جی او بیرون ملک سے پیسے نہیں لیتی۔ ’لیکن میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ ایف سی آر اے کے غلط استعمال کو لے کر بہت سنجیدہ ہیں۔‘
غیر سرکاری تنظیموں کے خلاف کریک ڈاؤن پچھلے ہفتے اس وقت روشنی میں آیا جب مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے مشنریز آف چیریٹی کے بینک کھاتوں پر پابندی پر ناراضگی کا اظہار کیا۔ مشنریز آف چیریٹی کی بنیاد مدر ٹریسا نے 1950 میں رکھی تھی۔
تاہم مشنریز آف چیریٹی نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ ان کے بینک اکاؤنٹس پر پابندی نہیں لگائی گئی ہے۔ اس بیان کے مطابق یہ تنظیم کا اپنا فیصلہ تھا جس کے مطابق انہوں نے اپنے تمام مراکز سے کہا تھا کہ وہ بینک اکاؤنٹس استعمال نہ کریں کیونکہ ان کے لائسنس کی تجدید کی اجازت نہیں ملی تھی۔ تاہم وزارت داخلہ کی کارروائی کی واضح وجوہات تاحال معلوم نہیں ہو سکیں۔
مشنریز آف چیریٹی کے خلاف کارروائی کا معاملہ گجرات کے وڈودرا مرکز میں اس تنظیم پر مبینہ تبدیلی مذہب کے الزام کے دو ہفتے بعد سامنے آیا ہے۔ وڈودرا مرکز پر مبینہ طور پر یہاں لڑکیوں کو شیلٹر ہوم میں مذہب تبدیل کرنے کا الزام لگایا گیا ہے۔ تاہم مشنریز آف چیریٹی نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔ پولیس معاملے کی تحقیقات کر رہی ہے۔
مشنریز آف چیریٹی کی ترجمان سنیتا کمار نے کہا، سسٹرس نے ابھی تک مجھے اگلی کارروائی کے بارے میں نہیں بتایا ہے۔
آکسفیم کی دلیل
کچھ دنوں بعد، وزارت داخلہ نے آکسفیم انڈیا سمیت کئی دیگر اداروں کے لائسنس منسوخ کرنے کا اعلان کیا۔ یہ ایک تنظیم ہے جو ہندوستان کی 16 ریاستوں میں کام کر رہی ہے۔
اس کے سی ای او امیتابھ بہار کہتے ہیں، ’آکسفیم انڈیا کئی دہائیوں سے حکومت، کمیونٹی اور فرنٹ لائن ورکرز کے ساتھ مل کر عام آدمی کے لیے کام کر رہا ہے۔ کووڈ19-کی وبا کے دوران، Oxfam انڈیا نے محکمہ صحت، ضلع انتظامیہ اور ملک بھر میں آشا کارکنوں کے ساتھ مل کر کام کیا تاکہ زندگی بچانے والے آلات اور امداد لوگوں تک پہنچ سکے۔ ہم مختلف ریاستی حکومتوں کے ساتھ مل کر کووڈ-19 کی وجہ سے تعلیم کے خلا کو پر کرنے کے لیے بھی کام کر رہے ہیں۔‘
انہوں نے یہ بھی کہا، ’ہم نے خواتین کی روزی روٹی بڑھانے کے لیے کام کیا ہے۔ ہم نے جنگل میں رہنے والوں کے ساتھ مل کر اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کام کیا ہے کہ وہ اپنے حقوق سے محروم نہ ہوں۔ مسئلہ کے مستقل حل کے لیے کام کیا ہے۔ یہ تمام کام وزارت داخلہ کے ایف سی آر اے رجسٹریشن کی تجدید سے انکار کرنے کے فیصلے کی وجہ سے روک گیاہے۔
بہار نے کہا، ’مارچ 2020 میں، جب وزیر اعظم نریندر مودی نےغیر سرکاری تنظیموں اور سول سوسائٹی سے کہاکہ وہ صحت کی خدمات کو مضبوط بنانے اور حفاظتی ٹیکوں کی مہم کو تیز کرنےمیں حکومت کی مدد کرکے کووڈ 19-کےخلاف مہم میں شامل ہو جائیں، تب سے آکسفیم انڈیا سب سے آگے ہے۔ سپریم کورٹ نے وبائی امراض کے دوران ریلیف فراہم کرنے میں این جی اوز کے تعاون کو بھی تسلیم کیا۔
تاہم، وشو ہندو پریشد کے جین نے بہار کے اپنی تنظیم کے دفاع کو مسترد کرتے ہوئے کہا، ’اگر ہم نے خدمت کی ہے تو ہمیں اسے جتانے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔ ہندوستان میں کسی کو بھی کچھ کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔‘
سریندر جین نے رام جنم بھومی ٹرسٹ کی مثال دیتے ہوئے کہا، ’ایف سی آر اے کے اصولوں پر پورا نہ اترنے کی وجہ سے، رام جنم بھومی ٹرسٹ نے بیرون ملک سے گرانٹ کے لیے درخواست نہیں دی جبکہ دنیا کا ہر ہندو اپنا حصہ ڈالنا چاہتا ہے۔ کیا ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہم رام مندر بنا رہے ہیں اور؟ ہم آکسیجن پلانٹ لگا رہے ہیں، تو ہمیں پیسے ملنے چاہئیں؟‘
آکار پٹیل کہتے ہیں، ’جب 2021 میں کووڈ کی دوسری لہر آئی، تو مودی جی نے ان این جی اوز کو ہاتھ جوڑ کر لوگوں کو بچانے کے لیے کہا۔ ایسا لگتا ہے کہ حکومت سمجھتی ہے کہ کووڈ ختم ہو گیا ہے۔‘
ایل آر او کے جوشی نے آکسفیم کے خلاف بالکل مختلف دلیل پیش کرتے ہوئے تنظیم پر الزام لگایا، ’آکسفیم آسام کے چائے کے باغات میں کام کرنے والے کارکنوں کی حالت پر ایک مہم چلا رہا ہے اور اس میں فلمی ستاروں کوآگے رکھ رہاہے۔‘
قانون کے پروفیسر اور ایکشن ایڈ کے سابق کنٹری ڈائریکٹر بابو میتھیو نے بی بی سی ہندی کو بتایا، ’آکسفیم ایک بہت ہی پیشہ ور بین الاقوامی این جی او ہے۔ یہ ہمیشہ قانون اور دفعات کی مکمل پاسداری کرتا رہا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ حکومت کا یہ اقدام سیاسی وجوہات کی بنا پر ہے۔ لوگوں کو خاص طور پر یاد رکھنے کی ضرورت ہے کہ ہندوستان میں عدم مساوات کی رپورٹ ایک تہلکہ خیز رپورٹ تھی اور موجودہ حکومت اس پر تنقید کرنے والوں کو پسند نہیں کرتی۔ میرے خیال میں اس کارروائی کے پیچھے بھی اس کا کردار ہے۔
پروفیسر میتھیو کہتے ہیں، ‘اگر حقوق پر مبنی نقطہ نظر کا استعمال، جس میں لوگوں کو متحرک کرنا شامل ہے، ایک سیاسی سرگرمی ہے۔ اس کی کئی مختلف طریقوں سے اور غلط سیاق و سباق میں تشریح کی جا سکتی ہے۔ کوئی نہیں جانتا کہ اس سرگرمی میں کیا غلط ہے۔ یہ سوچ سمجھ سے جڑے معاملات ہیں،اسے ٹھیک کرنے کا واحد طریقہ عدالت میں اپیل کرنا ہے۔
(بشکریہٖ :بی بی سی ہندی)










