نئی دہلی :(ایجنسی)
بی بی سی ہندی کو انٹرویو دیتے ہوئے اتر پردیش (اتر پردیش) کے نائب وزیر اعلیٰ کیشو پرساد موریہ ہری دوار کی ‘’دھرم سنسد‘کے سوال پر ناراض ہو گئے، مسلمانوں کے قتل عام سے متعلق متنازع بیانات کے درمیان انٹرویو ہی چھوڑ دیا۔ جب ان سے اس بارے میں پوچھا گیا تو وہ واضح طور پر غصے میں تھے اور مائیک پھینک کر انٹرویو کو درمیان میں ہی ختم کر دیا۔ یہ انٹرویو منگل 11 جنوری کو جاری کیا گیا۔
مسلمانوں کے خلاف ہندوتوا لیڈروں کی جاری مہم پر انکار اور لاعلمی کے موقف کو برقرار رکھتے ہوئے ڈپٹی سی ایم موریہ نے کہا کہ ’’میں آپ سے بات نہیں کرتا‘‘۔
اس کے بعد انہوں نے اپنا مائیک اتار کر بی بی سی کے صحافی کے پاس پھینک دیا جو ان کا انٹرویو کر رہے تھے اور کیمرہ بند کرنے کو کہا۔ بی بی سی کے مطابق کیشو پرساد موریہ نے ویڈیو کو ڈیلیٹ کروا دیا جسے بعد میں کیمرے کی چپ سے ہی برآمد کیا جا سکا۔
انٹرویو کو اچانک ختم کرنے سے پہلے، انہوں نے صحافی کو ایک ’ایجنٹ‘ کہاتھا جو، ان کے مطابق، ’ایک صحافی کی طرح بات نہیں کر رہا تھا۔‘اس کے بعد انہوں نے کیا کہا، ہم نہیں جانتے۔
مائیک پھینکنے علاوہ انٹرویو میں یہ سب ہوا
سیاسی ریلیوں پرکووڈ 19-کی پابندیوں کا حوالہ دیتے ہوئے، کیشو پرساد موریہ سے سب سے پہلے بی جے پی کی مستقبل کی حکمت عملی کے بارے میں پوچھا گیا۔ اس پر انہوں نے الیکشن کمیشن کی ہدایات کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ وہ ڈیجیٹل پلیٹ فارم کا استعمال کریں گے اور عوام تک پہنچنے کے لیے مکمل مشینری تیار کریں گے۔
غالباً: اتر پردیش کی حکومت کی طرف سے بڑے پیمانے پر اشتہارات کا حوالہ دیتے ہوئے موریہ نے کہا کہ ’ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہم نہ صرف انتخابات کے دوران مہم چلاتے ہیں، بلکہ ہم لوگوں کے پاس ان کی ضروریات اور مسائل کی مدد کے لیے بھی جاتے ہیں۔‘‘
موریہ خود کہاں سے الیکشن لڑیں گے، اس سوال کو ٹالتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت نے بہت اچھا کام کیا ہے، اس لیے ہم ترقی پر اپوزیشن کا سامنا کرنا چاہتے ہیں۔
مجرموں پر یوپی حکومت کے اشتہار میں وکاس دوبے کیوں نہیں ہیں؟
انٹرویو لینے والے صحافی نے مجرموں سے متعلق یوپی حکومت کے اشتہار پر بھی سوال اٹھایا اور پوچھا کہ وکاس دوبے کا نام کیوں نکالا گیا، جب کہ صرف ایک مذہبی برادری (مسلمان) کا ذکر کیا گیا۔
اس پر موریہ نے جواب دیا کہ یہ ہماری پارٹی کا اشتہار ہے، آپ کیسے فیصلہ کر سکتے ہیں؟
پھر جب پوچھا گیا کہ وکاس دوبے کا نام کیوں ہٹایا گیا تو ڈپٹی سی ایم موریہ نے لاعلمی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ابھی تک اشتہار نہیں دیکھا۔ بعد میں کہا کہ ’’ضرورت پڑنے پر نام لیں گے‘‘۔
موریہ ہری دوار کی نفرت انگیز تقریر کی مذمت کرنے میں ناکام، صحافی کو ’ایجنٹ‘ قرار دیا
انٹرویو لینے والے صحافی نے بعد میں ہری دوار ’دھرم سنسد‘ کے بارے میں پوچھا اور کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی اور دیگر کی خاموشی ایسی تقریر کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتی ہے۔ ’’کیا آپ کو ان چیزوں پر تبصرہ نہیں کرنا چاہئے جب وہ ہوتی ہیں؟‘‘
اس پر موریہ نے جواب دیا کہ بی جے پی کو کسی کو سمجھانے کی ضرورت نہیں ہے، جہاں تک ہندو سنتوں کا تعلق ہے، انہیں یہ حق ہے کہ وہ اسٹیج سے جو چاہیں کہیں۔
اس کے برعکس خود صحافی سے سوال کرتے ہوئے کہا کہ آپ صرف ہندو سنتوں کی بات کیوں کرتے ہیں؟ دوسرے مذہبی رہنما کیا کہتے ہیں؟ کشمیری پنڈتوں کی بات کیوں نہیں کرتے؟
جب صحافی نے سوال کیا کہ یتی نرسنگھانند اور اناپورنا ما ںجیسے ہندوتوا لیڈروں کی طرف سے کس طرح کا ماحول بنایا جا رہا ہے، تو موریہ نے اسے یہ کہہ کر بیچ میں روک دیا، ’وہ کسی قسم کا ماحول نہیں بنا رہے ہیں۔‘
کیشو موریہ نے پھر یہ ماننے سے انکار کر دیا کہ تین روزہ ’دھرم سنسد‘ میں نسل کشی کا مطالبہ کیا یا کچھ غلط کہا گیاتھا۔‘
جب انٹرویو لینے والے صحافی نے دلیل دی کہ ہریدوار ہیٹ سنسد اور انتخاب آپس میں جڑےہوئےہیں، تو تو موریہ مشتعل ہوگئے اور دعویٰ کیاکہ ان کا کوئی تعلق نہیں ہے، صحافی صحافی کی طرح بات نہیں کر رہا ہے۔
اور پھر جب پروڈیوسر اور انٹرویو لینے والے صحافی نے ان سے ناراضنہ ہونے کی درخواست کی تو نائب وزیر اعلیٰ نے اپنا مائیک بند کر دیا اور کیمرہ بند کرنے کو کہا اور چلتے بنے۔










