لکھنؤ :(ایجنسی)
یوپی اسمبلی انتخابات میں بھارتیہ جنتا پارٹی دوبارہ اقتدار میں واپسی کا دم بھر رہی ہے۔ تاہم ان کے اس دعوے میں کتنی صداقت ہوگی، یہ تو انتخابی نتائج ہی بتائیں گے۔ لیکن اپوزیشن پارٹیوں کے اتحاد کی وجہ سے بی جے پی کو اقتدار تک پہنچنے کے لیے جدوجہد کرنی پڑ سکتی ہے۔ آپ کو بتاتے چلیں کہ دوسرے مرحلے کی ووٹنگ میں مغربی یوپی میں 55 سیٹیں بی جے پی کے لیے بہت اہم ہیں۔
ایس پی – آر ایل ڈی اتحاد سے بگڑ سکتا ہے کھیل
دراصل، 14 فروری کو اتر پردیش کی 55 سیٹوں پر ووٹنگ ہوگی۔ ان سیٹوں پر مسلم اور دلت آبادی کافی اثر دار ہے۔ ایسے میں بی جے پی کے لیے پہلے مرحلے کے مقابلے دوسرا مرحلہ زیادہ مشکل دکھائی دے رہا ہے۔ ایس پی اور آر ایل ڈی کے درمیان اتحاد کی صورت میں مسلم اور جاٹ ووٹر بی جے پی کو اقتدار سے دور رکھنے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔
اگر ہم 2017 میں ہوئے گزشتہ اسمبلی انتخابات پر نظر ڈالیں تو بی جے پی کو اس خطے میں سب سے زیادہ سیٹیں (55 میں سے 38) ملی تھیں جس میں مغربی یوپی کے اضلاع جیسے مراد آباد، سہارنپور، بجنور، امروہہ اور وسطی یوپی کے بدایوں اور شاہجہاں پور اضلاع ہیں۔
اس دوران مودی لہر کا فائدہ بھی پارٹی کو ملا۔ اگر ہم نتائج پر نظر ڈالیں تو 2017 میں ایس پی نے اس خطے میں 15 سیٹیں جیتی تھیں، کانگریس جو کہ ایس پی کے ساتھ اتحاد میں تھی، دو اور بی ایس پی کا کھاتہ نہیں کھول سکی۔ اس دوران کل 11 مسلم امیدواروں نے کامیابی حاصل کی تھی اور یہ سبھی ایس پی کے ٹکٹ پر انتخابی میدان میں تھے۔
اس بار بی جے پی کی پریشانی:
اگرچہ 2017 اور 2022 میں انتخابی ماحول مختلف نظر آرہا ہے۔ دراصل 2017 میں جہاں مودی لہر کا فائدہ بی جے پی کو ملا وہیں اب یوگی حکومت کے کام کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔ اس کے علاوہ کسان تحریک کا اثر مغربی یوپی میں بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ لکھیم پور کھیری میں کسانوں کے ساتھ تشدد بھی بی جے پی کے لیے درد سر بن سکتا ہے۔
اس خطے میں دلت اور مسلم کمیونٹیز کی خاصی آبادی ہے۔ جبکہ جاٹ اور او بی سی کمیونٹی کے ووٹ بہت سے مختلف حلقوں میں ہیں۔ دوسری طرف، مغربی یوپی کے بدایوں میں یادو ذات سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی تعداد زیادہ ہے۔ مراد آباد ضلع کے ٹھاکردوارہ سے ایس پی ایم ایل اے نواب جان کہتے ہیں، ’’ کسان فصلوں کی عدم خریداری اور گنے کے بقایا جات کی ادائیگی میں تاخیر کے لیے بی جے پی سے ناراض ہیں۔ لوگ تھانے کی سطح پر ہونے والی کرپشن سے بھی تنگ آچکے ہیں۔ اس الیکشن میں بے روزگاری بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔
ادھر بدایوں ضلع میں پیر کو بی جے پی کو بڑا جھٹکا لگا ہے۔ بتا دیں کہ بلسی سے پارٹی کے ایم ایل اے آر کے شرما ایس پی میں شامل ہو گئے ہیں۔ بدایوں ماضی میں ایس پی کا گڑھ رہا ہے لیکن 2017 میں بی جے پی نے یہاں چھ میں سے پانچ سیٹیں جیتی تھیں۔ اس کے علاوہ 2017 میں بی جے پی نے جلال آباد کے علاوہ شاہجہاں پور میں پانچ سیٹیں جیتی تھیں۔
واضح رہے کہ بی جے پی مغربی یوپی میں دوبارہ 2017 جیسی جیت حاصل کرنے کی پوری کوشش کر رہی ہے۔ حال ہی میں پی ایم مودی نے شاہجہاں پور میں 594 کلومیٹر طویل گنگا ایکسپریس وے کا سنگ بنیاد رکھا تھا۔ سی ایم یوگی نے ان اسمبلی سیٹوں کا بھی دورہ کیا جہاں چند ہفتے قبل پارٹی کو 2017 میں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ تاہم انتخابی نتائج ہی طے کریں گے کہ بی جے پی اپنی حکمت عملی میں کتنی کامیاب ہوتی ہے۔










