مظفر نگر :(ایجنسی)
بی جے پی کو ایک کے بعد ایک سیاسی جھٹکوں سے فارمولیشن بدل رہے ہیں۔ کسان مسیحا کو بی کے وائی یو کے آنجہانی صدر چودھری مہندر سنگھ ٹکیت کے نام پر بنائے گئے فیس بک پیج سے بی جے پی کا نام لیے بغیر پوسٹ کی گئی ہے، جس میں لکھا ہے ’پورانچل نے کھیلاچل پڑا ہے…‘ ۔ اس پوسٹ سے مغربی یوپی میں بھی کھلبلی کا خدشتہ ظاہر کیا گیاہے ۔
ریاست میں لمحہ بہ لمحہ بدل رہے سیاسی حالات پر لوگوں کی نگاہیں مرکوز ہے۔ اس بار مغربی اترپردیش میں بی جے پی کو سخت امتحان سے گزرنا پڑےگا۔ دہلی کےبارڈر پر 13 مہینے تک چلے کسان آندولن کا اثر 10 فروری کو ہونے والی ووٹنگ پر دیکھاجاسکتا ہے ۔ بی کے یو کے صدر چودھری نریش ٹکیت اور بی کے یو کے ترجمان چودھری راکیش ٹکیت نے عوامی طور پر انتخابات سے دور رہنے کی بات کہی ہے۔ بی کے یو کے حامیوں نے چودھری مہندر سنگھ ٹکیت کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے ان کے نام سے ایک فیس بک پیج بنایا گیا ہے، جس پر بی جے پی کا نام لکھے بغیر نشانہ بنایا گیا ہے۔ کابینی وزیر سوامی پرساد موریہ کے ایس پی میں شامل ہونے کے بعد پوسٹ میں لکھا گیا ہے کہ ’پورانچل سے کھیل چل پڑا ہے اور مغرب میںکھلبلی ‘۔ اس سے پہلے بھی بھگدڑ لکھ کر پوسٹ کی گئی تھی۔ مانا جا رہا ہے کہ بی جے پی کو مغربی یوپی سے بھی جھٹکا لگ سکتا ہے۔ میراپور سے ایم ایل اے اوتار بھڈانہ آر ایل ڈی میں شامل ہو چکے ہیں۔
پانچ ہزار فرینڈ اور 22 ہزار فالوورز
کسان مسیحا چودھری مہندر سنگھ ٹکیت کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے بنائے گئے اس پیج کو تقریباً پانچ ہزار لوگ جوائن کر چکے ہیں۔ اس کے تقریباً 22 ہزار فالوورز ہیں۔ پوسٹ پر طرح طرح کے کمنٹس آرہے ہیں۔بھارتیہ کسان یونین کے میڈیا انچارج دھرمیندر ملک کا کہنا ہے کہ یہ پیچ ایک حمایتی چلا رہا ہے۔ ٹکٹ فیملی پیج نہیں چلا رہی ہے۔ پیچ پر موجود فرینڈ کی فہرست میں ٹکیت خاندان کے افراد اور مختلف شعبوں کے سینئر رہنما بھی شامل ہیں۔ یہپیچ ٹکیت فیملی کے ذریعے نہیں چلایا جاتا۔ چھ روز قبل پیج کی ایک پوسٹ میں پنجاب کے واقعہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا گیا تھا کہ پلوامہ میں سیکورٹی میں خرابی تھی، 40 گھروں کے چراغ بجھ گئے، اب صرف نوٹنکی چل رہی ہے۔










