اردو
हिन्दी
مئی 10, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

2014 میں نئی سوچ کی بنیاد پڑی اور 7 سال میں بدل گئی لوگوں کی سوچ

4 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ فکر ونظر, مضامین
A A
0
2014 میں نئی سوچ کی بنیاد پڑی اور 7 سال میں بدل گئی لوگوں کی سوچ
96
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

تحریر: ڈاکٹر ادت راج

نئی سوچ کی بنیاد 2014 سے پڑی اور اب تک اس نے ایک منزل حاصل کرچکی ہے۔ چند سالوں سے جھوٹ بولنا اب کوئی تکلیف دہ چیز نہیں رہ گئی۔ جب ملک کے بڑے ذمہ دار لوگ جھوٹ بولتے ہیں تو عام لوگ ان سے سیکھتے ہیں۔ کچھ لوگ اختلاف کر سکتے ہیں، لیکن بھیڑ کی آواز انہیں خاموش کر دیتی ہے۔ تحقیق ہونی چاہیے کہ اس جھوٹ کا کتنا اثر ہوا ہے۔ لاکھوں لوگ کورونا سے مرے اور ہم نے ندی میں لاشیں تیرتی دیکھیں۔ سماج کا ایک طبقہ اس سے متاثر نہیں ہوا اور اپنے لیڈر کے جھوٹ کو سنتے سنتے اس کا دیکھنے کا نظریہ بدل چکا ہے۔

وہ یہ ماننے کو تیار نہیں کہ لاکھوں لوگ مر گئے اور حکومت نے علاج کی پیشگی تیاری نہیں کی۔ نفسیات کا ایک باب پڑھایا جاتا ہے کہ جو شخص مسلسل جھوٹ بولے تو وہ ایسی حالت میں پہنچ جاتا ہے کہ جھوٹ سچ نظر آنے لگتا ہے، اس وقت بھکتوں کا یہی حال ہے۔

حکومت 20 سے 25 دن تک غائب رہی اور لوگوں نے اپنی سطح پر اس وبا کا مقابلہ کیا۔ وہ خوفناک منظر سب نے دیکھا لیکن دوسری طرف سے آوازیں آتی رہیں کہ حکومت اس صورتحال سے پریشان ہے اور بہت کوششیں کر رہی ہے۔ یہ جھوٹ بار بار بولا گیا اور اس کا اثر یہ ہوا کہ لوگ ایسے ہولناک منظر کو بھول گئے۔

آج تقریباً 3.5 کروڑ طلبہ ایک عجیب وغریب صورتحال کا سامنا کر رہے ہیں۔ کورونا کی وجہ سے وہ مقابلے جاتی امتحانات میں نہیں بیٹھ سکے یا ڈیجیٹل سہولت نہ ہونے کی وجہ سے وہ تیاری نہیں کر سکے، عمر کے پیرامیٹر اور قابلیت میں وہ دو سال کھو چکے ہیں۔ یہ امیدوار چاہتے ہیں کہ انہیں مزید دو مواقع دیئے جائیں۔ ان مسائل کو لے کر وہ دہلی کے جنتر منتر، لکھنؤ اور نہ جانے کہاں کہاں احتجاج کر رہے ہیں۔

راہل اور پرینکا سے سوال کرنا چاہتے ہیں طلبہ

یہ طلباء اپنے سوالات بار بار راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی کے سامنے کرنا چاہتے ہیں، انہوں نے اسے جتنا ممکن ہو سکا اٹھایا۔ انہوں نے اپوزیشن کے کسی ایسے رہنما کو نہیں چھوڑا جس سے انہوں نے التجا نہ کی ہو۔ وہ ہر ایک سے اس معاملے کو اٹھانے کی درخواست کرتے رہتے ہیں۔ اس کے باوجود جب نریندر مودی کی بات آتی ہے تو ایک طبقہ حمایت میںکھڑا ہوجاتا ہے۔

اس قسم کی ذہنیت کی تخلیق 2014 کے بعد ہی شروع ہوئی ۔ پہلے ایسا نہیں تھا، عوام بھی ایمرجنسی کے نفاذ کو نہیں بھولے تھے اور انہوں نے اس حکومت کا تختہ الٹ دیا تھا۔ فرق یہ ہے کہ اس وقت جھوٹ اور منافقت کا سہارا نہیں لیا گیا۔

موجودہ صورت حال ایسی بن چکی ہے کہ خواہ کتنی ہی بڑی کرپشن ہو، غیر اخلاقی کام ہو یا جھوٹ اور ناانصافی بہت سے لوگوں کی نظر میں غلط نہیں۔ سیدھا جواب یہ ہے کہ ماضی میں بھی کرپشن تھی، کیا پہلے آمریت نہیں تھی؟ یہی ذہنیت بے روزگاری اور مہنگائی پر بھی بن چکی ہے۔

کچھ خیالی باتیں پھیلائی گئی ہیں جن کی عام آدمی تصدیق نہیں کر سکتا اور وہ وہی مانتا ہے۔ بار بار یہ کہنا کہ پہلے ملک کا نام بیرون ملک نہیں لیا جاتا تھا، بھارت وشو گرو بننے کے قریب ہے۔ دوسرے ہم سے سیکھ رہے ہیں۔ بھارت کی ثقافت اور روحانیت کا پھیلاؤ اب ہو رہا ہے۔ بھارت کو دوبارہ بنانے کا وقت آگیا ہے۔ ہمارے سابق وزرائے اعظم کو بیرون ملک میں کوئی جانتے تک نہیں تھے ، حقیقی آزادی 2014 کے بعد شروع ہوئی اور ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔

اس جھوٹ پر پاؤں رکھنے کے لیے ایک اور بڑا جھوٹ بولا جا رہا ہے کہ یہ سب کرنے کے لیے قربانی دینی پڑتی ہے۔ مطلب یہ کہ بے روزگاری اور مہنگائی کوئی بڑی بات نہیں اور اسے ملک کی خاطر برداشت کرنا چاہیے۔ جو بھی ان کے خلاف بولے یا لکھے اسے غدار قرار دیا جا رہا ہے۔

جھوٹ ایک نظریہ نہیں ہوسکتا لیکن یہ ایک سوچ ہے۔ یہ کہنا مبالغہ آرائی نہیں ہو گا کہ ایک نئے کلچر نے جنم لیا ہے۔ اتنے کم وقت میں ملک کی ایک بڑی آبادی کی ذہنیت کو بدلنا کوئی آسان کام نہیں تھا۔

کئی محاذوں پر مسلسل کام کرنے کے بعد یہ صورتحال پیدا ہوئی۔ زیادہ تر ٹی وی چینلز مسلسل جھوٹ اور نفرت پھیلاتے ہیں، اس میں وہاٹس ایپ نے بڑا کردار ادا کیا ہے۔ سوشل میڈیا کے دیگر ذرائع جیسے فیس بک، ٹوئٹر وغیرہ بھی اس میں شامل تھے۔ اخبار والے کہاں پیچھے رہنے والے تھے۔

رسم پرستی اور تقدیر پرستی وغیرہ بڑے پیمانے پر پھیلی ہوئی تھی۔ اس میدان میں تصدیق یا صداقت کی ضرورت نہیں، وید کا جوہر کیا ہے؟ دنیا ایک سراب ہے اور حقیقت انسانی سوچ اور سمجھ سے بالاتر ہے۔ جو کچھ بھی کہا جائے جیسا ہے قبول کر لیا جائے، سائنسی سوچ یہیں ختم ہو جاتی ہے۔ آر ایس ایس ایک سماجی اور ثقافتی تنظیم ہے اور اس کی صلاحیت لامحدود ہے۔ اس تنظیم کا نیٹ ورک پورے ملک میں پھیلا ہوا ہے اور اس کے کارکنان بہت محنتی ہیں، جو کسی بھی پیغام کو کم وقت میں نچلی سطح تک لے جا سکتے ہیں۔ ان میں حکمران کی باتوں کو عوام تک پہنچانے کی توانائی ہے، یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ ان کی تجربہ گاہ کی پالیسی کو حکومت اور دیگر میکنزم نے عوام کے ذہنوں میں نقش کر دیا ہے۔

جھوٹ منطق کو کمزور کرتا ہے، جب منطق اور سائنس کمزور ہو جائے تو اس معاشرے کا زوال یقینی ہے۔ لوگ قسمت پر زیادہ یقین رکھتے ہیں اور اپنی ذہنی سوچ اور جسمانی صلاحیت پر کم۔

اس سے ٹیکنالوجی اور تحقیق پر منفی اثر پڑتا ہے، جمالیاتی احساس کی کمی فطری ہے۔ ادب اور شعر وادب زندگی کی حقیقت سے منہ موڑ لیتے ہیں۔ خواتین کی آزادی اور مرضی پر پابندیاں یقینی ہیں۔ آخرت کے حصول کی جستجو میں لوگ حال کو بھولنے لگتے ہیں، اس سے لوگوں کی خوشیوں پر بھی اثر پڑتا ہے کیونکہ وہ روایت اور ممنوعات کے پابند ہو کر خواہشات کو دبا کر زندگی گزارنے لگتے ہیں۔ ان کی تخلیقی صلاحیتیں دم توڑ جاتی ہیں جس سے تمام شعبوں پر اثر پڑتا ہے۔

سائنس، ادب، ٹیکنالوجی، انصاف، اظہار رائے کی آزادی اس ماحول میں ممکن نہیں۔ معیشت کا کمزور ہونا فطری بات ہے۔ اصلاح اور جدوجہد بھی سست ہو جائے گی۔ ذات پات پرستی بڑھے گی جو ان انتخابات میں دیکھی جا سکتی ہے۔ مذہبی جنون کا پنپنا فطری امر ہوگا۔

(بشکریہ : دی کوئنٹ ہندی)

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

US Iran War Strategic Defeat News
مضامین

امریکہ – اسرائیل – ایران جنگ میں امریکہ کی اسٹریٹجک ہار پہلے سے طے

23 مارچ
Hormuz Strait Iran Speech
مضامین

ایران میں قیادت کی تبدیلی اور مجتبیٰ خامنہ ای: ایک تجزیاتی مطالعہ

12 مارچ
Modi Israel Gaza Questions Debate
مضامین

پی ایم مودی کے دورہ اسرائیل میں غزہ کے مصائب کا ذکر تک نہ ہونے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ کیا چاہتا ہے بھارت ؟

28 فروری
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
Humayun Kabir Owaisi Video Row

ہمایوں کبیر کے خفیہ ویڈیو نے اویسی پر بی جے پی کی بی ٹیم کے الزام کو تقویت دی، اتحاد ٹوٹا ، سیاسی بصیرت پر بھی سوال

اپریل 10, 2026
طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

ستمبر 19, 2021
DD News Anchor Controversy News

پبلک ٹیکس سے چلنے والے ‘ڈی ڈی نیوز’ کے اینکر نے کہا” ساورکر کے چپل کی دھول بھی نہیں راہل گادھی

اپریل 13, 2026
اعصابی کمزوری کی علامات، اسباب اور علاج

اعصابی کمزوری کی علامات، اسباب اور علاج

مارچ 23, 2021
امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

اپریل 21, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

اپریل 19, 2026

حالیہ خبریں

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN