نئی دہلی :(ایجنسی)
صدارتی انتخابات اس سال جولائی اگست میں ہونے ہیں۔ ایسے میں بہار کے سی ایم نتیش کمار کو تیسرے محاذ کے ذریعے صدارتی انتخاب لڑائے جانے کی خبریں ہیں۔ آپ کو بتادیں کہ تلنگانہ کے سی ایم چندر شیکھر راؤ اس کے لیے کافی سرگرم نظر آتے ہیں۔ اسی ماہ میں حیدر آباد میں تلنگانہ کے سی ایم چندر شیکھر راؤ (کے سی آر) اور انتخابی حکمت عملی ساز پرشانت کشور نے ملاقات کی۔ اطلاعات کے مطابق اس میٹنگ میں جنتا دل یونائیٹڈ کے 70 سالہ لیڈر نتیش کمار کو صدارتی انتخاب لڑانے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
اس میٹنگ کے بعد خبر آئی کہ کے سی آر چاہتے ہیں کہ نتیش کمار کو صدر کے عہدے کے لیے تجویز کی جائے۔ بتا دیں کہ اس بار پرشانت کشور تلنگانہ انتخابات میں کے سی آر کی پارٹی ٹی آر ایس کے لیے کام کریں گے۔ کے سی آر اور پی کے کی ملاقات کے بعد نتیش اور پرشانت کشور کی ملاقات ہوئی۔ ایسے میں تیسرے محاذ کی آہٹ تیز ہو گئی ہے۔ تاہم اس حوالے سے ابھی تک کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا ہے۔
بتا دیں کہ ماضی میں کے سی آر نے شیو سینا، شرد پوار اور تیجسوی یادو سے ملاقات کرچکے ہیں۔ ایسے میں مانا جا رہا ہے کہ انہوں نے صدارتی انتخاب کے حوالے سے اپنی بات کہی ہے۔ دراصل کے سی آر مرکز کی سیاست میں آنا چاہتے ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ وہ صدارتی انتخاب کی مدد سے تیسرا محاذ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
یہاں یہ بات بھی قابل غور ہے کہ اس محاذ میں بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی اور دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال کو شامل کرنے کی حکمت عملی ہے۔ آپ کو بتاتے چلیں کہ کے سی آر اور پرشانت کشور کی جوڑی کو لگتا ہے کہ اگر بی جے پی کے خلاف صدارتی انتخاب کے لیے نتیش کمار کا نام آگے آتا ہے تو کانگریس بھی مجبوری میں اس کی حمایت کرے گی۔
تاہم نتیش کمار کی طرف سے ابھی تک کوئی بڑا بیان نہیں آیا ہے۔ دراصل، نتیش کے تیسرے محاذ کا حصہ بننے کے امکانات کم ہیں۔ کیونکہ وہ این ڈی اے کا حصہ ہیں اور خاص طور پر بہار حکومت میں بی جے پی کے ساتھ اتحادی ہیں۔










