اردو
हिन्दी
مئی 3, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

کیسے نکل پائیں گےیوکرین کے شہروں میں پھنسے ہندوستانی طلباء

4 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ گراونڈ رپورٹ
A A
0
کیسے نکل پائیں گےیوکرین کے شہروں میں پھنسے ہندوستانی طلباء
92
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

تحریر:سلمان راوی

فضائیہ کے C-17 لڑاکو طیارے اور چار مرکزی وزراء کو مختلف ممالک میں تعینات کرکے، ہندوستانی حکومت نے یوکرین میں پھنسے طلباء کو واپس لانے کے لیے پوری طاقت جھونک دی ہے ۔ یوکرین کے مختلف شہروں میں اب بھی بڑی تعداد میں طلباء پھنسے ہوئے ہیں اور جنہیں فوری مدد کی ضرورت ہے۔

تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یوکرین سے متصل یورپی یونین کے مختلف ممالک میں چار مرکزی وزراء کی تعیناتی سے طلبہ کو واپس لانے کا کام آسان ہو جائے گا؟

بھارت پہلے بھی ایسا کر چکا ہے۔ 1990 میں کویت سے، 2003 میں عراق سے اورپھر 2015 میں یمن میں جنگ ہوئی تھی۔

1990 میں، اس وقت کے وزیر خارجہ اندر کمار گجرال نے اب تک کے اس طرح کے سب سے بڑے آپریشن میں اہم کردار ادا کیا تھا، جس کے تحت 1.70 لاکھ سے زیادہ ہندوستانی شہریوں کو کویت سے نکالا گیا تھا۔

یہ دنیا کی سب سے بڑی ’ایئر لفٹ‘ مہم تھی

2015 میں جب یمن میں جنگ شروع ہوئی تو سابق آرمی چیف جنرل وی کے سنگھ نے ہندوستانی شہریوں کو ہندوستان سے نکالنے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔

2003 میں بھی جب عراق پر امریکی حملہ ہوا تو ہندوستانی شہریوں کو بحفاظت واپس لانے کی مہم چلائی گئی تھی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس وقت کے وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی نے خود اس مہم میں پہل کی تھی اور وہ مسلسل عراقی حکومت سے رابطے میں تھے۔

تاہم ہندوستان نے امریکہ پر تنقید کی اور چونکہ ہندوستان کے عراق کے ساتھ بہت اچھے تعلقات تھے اس لئے عراق کے اس وقت کے صدر صدام حسین نے 50 ہزار سے زائد ہندوستانی شہریوں کے اردن کے راستے ہندوستان واپس جانے کے لئے خصوصی انتظامات کئے تھے۔

بھارتی حکومت کیا کر رہی ہے؟

اسی طرح سال 2015 میں جب یمن میں جنگ شروع ہوئی تو وزارت خارجہ کے وزیر مملکت ریٹائرڈ جنرل وی کے سنگھ خود یمن گئے اور وہاں پھنسے ہندوستانی شہریوں کے محفوظ انخلاء کے لیے مقامی حکومت کے ساتھ خصوصی انتظامات کیے تھے۔

لیکن خارجہ اور تزویراتی امور کے ماہر اور لندن کے کنگز کالج میں بین الاقوامی امور کے شعبے کے سربراہ ہرش وی پنت نے بی بی سی کو بتایا کہ یوکرین کی صورتحال خلیجی ممالک سے بالکل مختلف ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ یوکرین میں سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ جو طلباء ہنگری، پولینڈ، رومانیہ، سلوواکیہ یا مالدووا کی سرحد تک پہنچنے میں کافی خوش قسمت رہے ہیں، ان کے لیے ہندوستان واپسی کا راستہ آسان ہو جائے گا، لیکن وہ طلباء جو ابھی تک کیف میں پھنسے ہوئے ہیں۔ یا یوکرین کے دیگر شہروں میں ہیں ان کے لئے، صورتحال بہت تشویشناک ہے۔

وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں اعلیٰ سطحی میٹنگ کے بعد وی کے سنگھ یوکرین اور پولینڈ کی سرحد سے پھنسے ہوئے طلبہ کو واپس بھیجنے کے انتظامات کی نگرانی کریں گے، مرکزی وزیر ہردیپ سنگھ پوری ہنگری کے راستے طلبہ کو واپس بھیجنے کا انتظام کریں گے۔

اسی طرح جیوترادتیہ سندھیا مالدووا اور رومانیہ سے اس انتظام کی نگرانی کریں گے جبکہ کیرن رجیجو طلباء کو سلوواکیہ کے راستے ہندوستان بھیجنے کے عمل کی نگرانی کریں گے۔

تاخیر سے اٹھایا گیا قدم

ایک اور سینئر صحافی اور خارجہ اور اسٹریٹجک امور کے ماہر ابھیجیت ایر مترا کہتے ہیں کہ وزراء کی موجودگی کا بڑا اثر ہوتا ہے۔


بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا ہے کہ اس میں وہ وسائل کے انتظامات اور ان ممالک کی حکومتوں کے ساتھ ہم آہنگی یا اپنے شہریوں کو ترجیح دینے کے لیے دباؤ ڈال سکتے ہیں، جو نہ تو سفیر اور نہ ہی کوئی سفارت خانہ کر سکتا ہے۔

مترا کا کہنا ہے کہ بھارتی طلباء کے ساتھ یوکرین کے فوجی افسران کے مبینہ بدتمیزی کی پریشان کن ویڈیوز سامنے آئی ہیں، اب اسے بھارتی وزراء کی موجودگی میں روکا جائے گا۔

ان کا ماننا ہے کہ وزراء کو اختیار ہے کہ وہ موقع پر ہی مناسب فیصلے لے سکیں گے، کیونکہ ایسے فیصلے لینے کے لیے عموماً سفیر یا سفارت خانے کے اہلکاروں کو دہلی سے ہدایت لینا پڑتی ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ وزراء کی موجودگی کو بھی ترجیح دی جاتی ہے کیونکہ وہ دباؤ میں ہیں۔

لیکن جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کے اسکول فار انٹرنیشنل اسٹڈیز کے سینٹر فار یورپی اسٹڈیز کے صدر گلشن سچدیوا کا کہنا ہے کہ ہندوستانی حکومت کا یہ اقدام اچھا ہے، لیکن وہ اسے ‘دیر سے اٹھایا گیا قدم ‘مانتے ہیں ۔

حکومت ہند روس سے بھی بات چیت کی ہوگی

گلشن سچدیوا کا کہنا ہے کہ’امریکہ سمیت کئی ممالک پہلے ہی یوکرین سے اپنے شہریوں کو نکال چکے ہیں، بھارت نے اس میں تاخیر کی ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یوکرین کے دارالحکومت یا دوسرے شہروں میں پھنسے ہوئے طلبا ء کس طرح سے پولینڈ یا ہنگری کی سرحد پر پہنچ پائیں گے جب روسی فوجی کے حملے شروع ہوچکے ہیں ۔ ’نو فلائٹ زون‘ ہونے کے بعد واحد سہارا ہے سڑک یا ریل مارگ ۔ حملوں کے درمیان ریل یاسڑک مارگ کے راستے کتنی آسانی سے سرحدوں پر پہنچا جاسکتا ہے یہ بھی اب بہت مشکل ہو گیا ہے ۔‘

ان کا کہنا ہے کہ اب بھی تقریباً 15000 ہندوستانی طلباء ہیں جنہیں فوری مدد کی ضرورت ہے جو اب بھی بنکروں میں پھنسے ہوئے ہیں۔ تاہم ان کا یہ بھی ماننا ہے کہ اب تک ہندوستانی حکومت نے اپنے شہریوں کی محفوظ واپسی کے لیے روس سے بات کر لی ہوگی۔

ہرش پنت کا کہنا ہے کہ جو ہندوستانی طلباء یوکرین کے مشرقی حصے کے شہروں میں پھنسے ہوئے ہیں، ان کا مغربی یوکرین میں واقع سرحدوں تک پہنچنا آج کی صورتحال میں بہت مشکل ہے۔

ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ خلیجی ممالک سے ہندوستانی شہریوں کو لانا آسان نہیں تھا لیکن پھر بھی زیادہ رکاوٹیں نہیں آئیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یوکرین میں سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ لاکھوں مقامی شہری بھی سرحدوں سے نقل مکانی کر رہے ہیں، اسی لیے وہ ہندوستانی طلبہ کے خلاف بھی جارحانہ رویہ اختیار کر رہے ہیں۔

لیکن گلشن سچدیوا کہتے ہیں،’جب جنگ چھڑ گئی ہے اور بم دھماکے اور حملے شروع ہو گئے ہیں، تو یہ سوچنا قدرے مشکل ہے کہ یوکرین کے پڑوسی ممالک میں ہندوستانی وزراء کی موجودگی سے ‘کوئی ’انقلابی تبدیلی‘ آئے گی۔ مسئلہ یوکرین، پولینڈ میں ہے یا ہنگری میں نہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ وزیر سرحد پر پہنچنے والے طلباء کو واپس لانے کے انتظامات کر سکیں گے لیکن بنکروں میں پھنسے طلباء کی مدد کرنا اب بھی ایک بڑا چیلنج ہے جن کی تعداد ہزاروں میں ہے۔

(بشکریہ : بی بی سی ہندی )

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

ہم متبادل ورلڈ آرڈر کے حق میں، ٹیرف متاثرین کے لیے سرکار ہر ضروری قدم اٹھائے: امیر جماعت
گراونڈ رپورٹ

ہم متبادل ورلڈ آرڈر کے حق میں، ٹیرف متاثرین کے لیے سرکار ہر ضروری قدم اٹھائے: امیر جماعت

06 ستمبر
سنبھل فساد کی تحقیقاتی رپورٹ میں ایسا کیا ہے کہ یوگی حکومت پر اٹھے سوال دبا دیئے گیے؟
گراونڈ رپورٹ

سنبھل فساد کی تحقیقاتی رپورٹ میں ایسا کیا ہے کہ یوگی حکومت پر اٹھے سوال دبا دیئے گیے؟

01 ستمبر
آسام:بنگالی بولنے والے مسلمانوں کے خلاف نفرت وتشدد میں بےحد اضافہ:India Hate Lab نے نیا ڈیٹا جاری کیا
گراونڈ رپورٹ

آسام:بنگالی بولنے والے مسلمانوں کے خلاف نفرت وتشدد میں بےحد اضافہ:India Hate Lab نے نیا ڈیٹا جاری کیا

03 اگست
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
Humayun Kabir Owaisi Video Row

ہمایوں کبیر کے خفیہ ویڈیو نے اویسی پر بی جے پی کی بی ٹیم کے الزام کو تقویت دی، اتحاد ٹوٹا ، سیاسی بصیرت پر بھی سوال

اپریل 10, 2026
یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

اپریل 10, 2026
DD News Anchor Controversy News

پبلک ٹیکس سے چلنے والے ‘ڈی ڈی نیوز’ کے اینکر نے کہا” ساورکر کے چپل کی دھول بھی نہیں راہل گادھی

اپریل 13, 2026
طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

ستمبر 19, 2021
امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

اپریل 21, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

اپریل 19, 2026

حالیہ خبریں

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN