اردو
हिन्दी
مئی 10, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

حالیہ الیکشن کے نتائج جمہوریت کی روح کے خلاف ہیں

4 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ فکر ونظر, مضامین
A A
0
حالیہ الیکشن کے نتائج جمہوریت کی روح کے خلاف ہیں
59
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

تحریر:کلیم الحفیظ-نئی دہلی

ڈاکٹرکی ایک غلطی انسان کو موت کے منھ میںدھکیل دیتی ہے،جج کی ایک غلطی پھانسی کے تختے پر پہنچا دیتی ہے لیکن ووٹروں کی ایک غلطی کئی نسلوں تک تکلیف دیتی ہے۔سوئے اتفاق بھارت میںآزادی کے بعد سے یہی کچھ ہورہا تھا اور اس بار بھی وہی ہوا۔مسلمانوں نے ماضی کے تجربات سے کچھ نہیں سیکھاوہ ایک بار پھر ان نام نہاد سیکولرپارٹیوں کی عزت بچانے کے لیے جان پر کھیل گئے جو پارٹیاں مسلسل مسلمانوں کی عزت و آبرو سے کھیلتی رہی ہیں۔اس حقیقت سے کس کو انکار ہے کہ ہماری موجودہ پسماندگی کی اصل ذمہ دار کانگریس ہے۔اس کے باوجود مسلمان کانگریس کا جنازہ اپنے کاندھوں پر اٹھائے ہوئے ہیں۔صرف اس لیے کہ ان کے آباء و اجداد کانگریسی تھے۔کون نہیں جانتا کہ مظفر دنگوں سمیت سینکڑوں فرقہ وارانہ فسادات میں سماج وادی پارٹی کا ہاتھ رہا ہے ،لیکن مسلمان اسی کے پیچھے نیت باندھے کھڑے ہیں،بی ایس پی اور راشٹریہ لوک دل کے بی جے پی پریم سے کون ناواقف ہے ،مگر مسلمان کروڑوں روپے کا ٹکٹ بھی بی ایس پی سے خرید رہا ہے،کروڑوں روپے خرچ بھی کررہا ہے اور اس کے باجود بہن جی کی گالیاں بھی کھارہا ہے۔

الیکشن کے رذلٹ اٹھا کر دیکھ لیجیے۔پہلے مرحلے میں مغربی اتر پردیش کے ان علاقوں میں انتخابات ہوئے جہاں جاٹ ووٹ اثر انداز ہوتا ہے۔وہاں 58سیٹوں میں سے صرف 12سیٹیں مہا گٹھ بندھن کے حصے میں آئیں۔اسی طرح یادو بیلٹ میں جب الیکشن ہوا تو 35میں سے 23سیٹیں بی جے پی نے جیت لیں۔آخر جاٹ اور یادو نے اپنی پارٹیوں کو ووٹ کیوں نہیں دیا۔صرف مسلم علاقوں میں گٹھ بندھن کو خاطر خواہ کامیابی حاصل ہوئی۔اس لیے کہ 83فیصد مسلم ووٹ اسے حاصل ہوا۔بہوجن سماج پارٹی جس نے اپنی ہار کا ٹھیکرا مسلمانوں پر پھوڑا ہے۔اسے 12فیصدووٹ حاصل ہوئے جب کہ خود اس کا اپنا 40فیصد جاٹو ووٹ اس سے دور چلاگیا۔آخر ہاتھی کا نشان دیکھنے والی آنکھیں کمل کا پھول کیسے دیکھنے لگیں۔پوری انتخابی مہم میں بہن جی کہیں بھی الیکشن لڑتے دکھائی نہیں دیں،جس طرح نتیجوں کے بعد ان پر سے اور ستیش مشرا پر سے بعض مقدمات اٹھائے گئے اور سیاسی گلیاروں میںجس طرح ان کے لیے صدر جمہوریہ بننے کی افواہیں گردش کررہی ہیں وہ اس بات کا ثبوت ہیں کہ بہن جی نے بی جے پی سے ماقبل الیکشن ہی اگریمنٹ کرلیا تھا۔

نتیجوںکے بعد مجلس اتحاد المسلمین پر وہی الزام لگایا گیا جو بہار میں لگایا گیا تھا کہ اس کی وجہ سے بی جے پی کی حکومت بنی ہے۔الزام لگانے والوں میں بڑے بڑے دانشور شامل ہیں ،بلکہ ایک معروف اسلامی جماعت کے ایک اسکالر نے بھی یہی الزام لگایا ہے۔یہ الزام سراسر بد دیانتی پر مبنی ہے۔مجلس نے کل 94سیٹوں پر حصہ لیا۔کسی جگہ کامیاب نہیں ہوئی،اس کو پانچ لاکھ سے بھی کم ووٹ حاصل ہوا۔جب کہ ہار جیت کا فاصلہ تقریبا ایک کروڑ ووٹوں کے آس پاس ہے۔اگر مجلس کے سارے ووٹ سماج وادی کو دے دیے جائیں تو اس کو سات سیٹوں کا فائدہ ہوسکتا ہے۔ مجلس کی 94سیٹوں کا جائزہ لینے سے معلوم ہوتا ہے کہ صرف سات سیٹیں ایسی ہیں جہاں مجلس کو اتنا ووٹ ملا کہ جتنے ووٹوں سے گٹھ بندھن کا امیدوار ہارا ہے۔اس میں بجنور، مراداباد شہر،نکوڑ،کرسی،سلطان پور،شاہ گنج اور اورئی کی سیٹیں شامل ہیں۔سوال یہ ہے کہ باقی کی 271سیٹوں پر کس کی وجہ سے گٹھ بندھن کو شکست ہوئی ؟ یہ اعداو شمار بھی پیش کیے جانے چاہئیں۔

سو سے زائد سیٹیں وہ ہیں جہاں کانگریس نے اتنا ووٹ حاصل کیاکہ اگر وہ گٹھ بندھن کو مل جاتا تو گٹھ بندھن کو فتح مل جاتی۔کئی درجن سیٹوںپریہی حال بی ایس پی کا رہا۔کئی مقامات پر یہ کردار عام آدمی پارٹی نے ادا کیا۔لیکن کوئی ان پارٹیوں کو ووٹ کٹوا نہیں کہہ رہا ہے، آخر نام نہاد سیکولر پارٹیوں سے کوئی نہیں پوچھتا کہ ان کے اپنے ووٹروں نے غداری کیوں کی۔صرف ایک مجلس ہے جس پراپنے بھی اور بیگانے بھی کرم فرمائیاں کررہے ہیں۔عجیب اتفاق ہے کہ ملک کا ہر طبقہ اپنی پارٹی بنائے،اور الیکشن میں حصہ لے تو کوئی بات نہیں صرف مسلمانوں پر یہ پابندی ہے کہ وہ نہ اپنی پارٹی بنائیں اور نہ حصہ لیں۔ایک سوال یہ بھی ہے کہ باقی کی تین ریاستوں اترا کھنڈ ،منی پور اور گوا میں بی جے پی کیوں جیت گئی پنجاب میں کانگریس کیوں ہار گئی ؟وہاں تو مجلس نہیں تھی ، وہاں کے بارے میں دانشور کیا فرمائیں گے؟دراصل ہمارے دانشور احساس کمتری کا شکار ہیں،یہ قلم کے سپاہی ہیں جو ٹھنڈی چھائوں میں بیٹھ کر اس شخص پر تبصرے کررہے ہیں جس نے مکمل 42دن اپنے گھر کا منھ نہیں دیکھا اور مستقل ایک جگہ سے دوسری جگہ اذان لگانے جاتا رہا۔وہ مستقل آواز دیتا رہا کہ اے مسلمانوں تم سب مل کر بھی بی جے پی کو نہیں ہرا سکتے،نام نہاد سیکولر پارٹیوں کے جال میں نہ پھنسو ،وہ آگاہ کرتا رہا کہ ان سیکولر پارٹیوں کا اپنا ووٹ بھی ان کے پاس نہیں ہے ،لیکن اس کی آواز پر کان نہیں دھرا گیا اور ایسا لگا جیسے ساری قوم ضد میں بہری ہوگئی ہے ۔ایک دانشور کا الزام ہے کہ اویسی صاحب کا لہجہ اور طرز بیان بی جے پی کو تقویت دیتا ہے ۔کیا حق بات کہنا ،اپنا حق طلب کرنا،منافقوں کی منافقت اجاگر کرنا فرقہ واریت ہے ؟کیا ہمارے دانشور چاہتے ہیں کہ ہم درد پر آہ بھی نہ کریں؟کیا وہ خود اس کا حوصلہ رکھتے ہیں کہ ان نام نہاد سیکولر پارٹیوں سے سوال کریں جن کی ہمدردی میں وہ اویسی صاحب پر الزامات لگارہے ہیں؟کیا یہ دانشور اتنی بیباکی اور جرأت دکھائیں گے جتنی ایک دین کا شیر دکھا رہا ہے؟کیا جمہوری نظام میں چینخے چلائے بغیر کوئی حق کسی کو ملا ہے؟ہمارے دانشور خود بھی نہیں بولیں گے ۔ان کے منتخب کردہ ارکان بھی چپی سادھ لیں گے تو آخر مسلمانوں کے مسائل ایوانوں میں کون اٹھائے گا؟کیا اب تک اویسی صاحب نے ایوانوں اور میدانوں میں جو ایشوز اٹھائے ہیں وہ غیر ضروری یا بے وقت تھے؟مزے کی بات یہ ہے کہ ان دانشوروں کے پاس تبصرے ہیں کوئی حل نہیں ہے۔یہ چاہتے ہیں کہ سارے مسلمان بے زبان بکریوں کی طرح ہر وقت قربان ہونے کو تیار رہیں۔

ملک کے حالیہ انتخابی نتائج بی جے پی کے حق میں تو بہتر ہیں لیکن ملک کی جمہوریت کے لیے نقصان دہ ہیں ۔جس طرح سے پنجاب اور یوپی میں کانگریس کو شکست ہوئی ہے وہ انتخابی جمہوریت کی صحت کے لیے ضرر رساں ہے۔اتر پردیش میں جس طرح بی ایس پی کا صفایا ہوا ہے وہ تاریک مستقبل کا اشارہ ہے۔ ایک ایسی پارٹی جس کا اپنا ووٹ بنک ہو،جو چار بار ریاست میں حکومت بنا چکی ہو اس کا ختم ہوجانا کوئی نیک فال نہیں ہے۔ کسی بھی جمہوریت کے لیے ضروری ہے کہ وہاں تمام طبقات کی نمائندہ حکومت ہو۔اترپردیش کے نتائج 80بنام 20کا واضح ثبوت ہیں ۔ اس کا مطلب ہے کہ ملک جمہوریت کے بجائے بہوسنکھیک واد کی راہ پر گامزن ہے،آئین کے بجائے جذبات اور آستھا کے راستے پر چل پڑا ہے۔دوران الیکشن بی جے پی نے اقلیت مخالف جن ایشوز کو اٹھایا ہے منتخب نمائندے ان کی تکمیل کے پابند ہیں چاہے وہ غیر آئینی ہی کیوں نہ ہوں ،جس کا سلسلہ شروع ہوچکا ہے کہ نتائج کے بعد بی جے پی کے ایک ایم ایل اے نے اپنے حلقہ انتخاب میں گوشت کی خریدو فروخت پر پابندی کا مطالبہ کیا ہے اور کچھ بھگوادھاریوں نے مسجد سے زبردستی لائوڈسپیکر اتارنے کی دھکمیاں دی ہیں۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ نام نہاد پارٹیاں حسب معمول خاموش ہیں اور ان کے مسلم ایم ایل اے اپنی زبان بند رکھنے پر مجبور ہیں۔

جو کچھ ہونا تھا ہوگیا ۔سانپ چلا گیا اب لکیر پیٹنے سے کیا فائدہ ،جس طرح کسی مردے کو ساری دنیا زندہ نہیں کرسکتی اسی طرح ان نتائج کو بھی آئندہ پانچ سال پہلے تک بدلا نہیں جاسکتا اس لیے سوائے صبر کے اور کوئی چارہ نہیں ۔البتہ ملک کی مختلف ریاستوںمیں انتخابات کا سلسلہ چلتا رہے گااور عوام کے سامنے اپنی پسند کی حکومت بنانے کا موقع آتا رہے گا اس لیے مسلمانوں کوکوئی صاف پالیسی اپنانا چاہیے ۔اگر کسی مسلم سیاسی پارٹی کا وجود نامناسب ہے تو دانشوروں کو یہ بھی بتانا چاہئے کہ مسلمانوں کی سیاسی یتیمی دور کرنے کا ان کے پاس کیا فارمولہ ہے۔میرے نزدیک مسلم سیاسی قیادت کا نہ ہونا نہ صرف مسلمانوں کی موت ہے بلکہ جمہوریت کے لیے بھی نقصان دہ ہے۔میں سمجھتا ہوں ہر ریاست میں ایک ایسی مسلم سیاسی قیادت ضرور ہو جو ملک کے موجودہ آئین کے تحفظ کے لیے عملی جدو جہد کرے۔مسلمانوں کے لیے میرا یہ پیغام ہے کہ وہ متحدہوکر اپنی قیادت کو مستحکم اور مضبوط کریں،دوسروں کی غلامی کا طوق گردن سے اور بی جے پی کا خوف دل سے نکال دیں۔ایک دوسرے کوالزام دینے کے بجائے کوئی مشترکہ لائحہ ٔ عمل بنائیں۔

آ عندلیب مل کے کریں آہ و زاریاں
تو ہائے گل پکار میںچلائوں ہائے دل

(یہ مضمون نگار کے ذاتی خیالات ہیں)

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

US Iran War Strategic Defeat News
مضامین

امریکہ – اسرائیل – ایران جنگ میں امریکہ کی اسٹریٹجک ہار پہلے سے طے

23 مارچ
Hormuz Strait Iran Speech
مضامین

ایران میں قیادت کی تبدیلی اور مجتبیٰ خامنہ ای: ایک تجزیاتی مطالعہ

12 مارچ
Modi Israel Gaza Questions Debate
مضامین

پی ایم مودی کے دورہ اسرائیل میں غزہ کے مصائب کا ذکر تک نہ ہونے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ کیا چاہتا ہے بھارت ؟

28 فروری
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
Humayun Kabir Owaisi Video Row

ہمایوں کبیر کے خفیہ ویڈیو نے اویسی پر بی جے پی کی بی ٹیم کے الزام کو تقویت دی، اتحاد ٹوٹا ، سیاسی بصیرت پر بھی سوال

اپریل 10, 2026
طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

ستمبر 19, 2021
DD News Anchor Controversy News

پبلک ٹیکس سے چلنے والے ‘ڈی ڈی نیوز’ کے اینکر نے کہا” ساورکر کے چپل کی دھول بھی نہیں راہل گادھی

اپریل 13, 2026
اعصابی کمزوری کی علامات، اسباب اور علاج

اعصابی کمزوری کی علامات، اسباب اور علاج

مارچ 23, 2021
امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

اپریل 21, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

اپریل 19, 2026

حالیہ خبریں

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN