اردو
हिन्दी
مئی 3, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

تجھے سلام! شیوانگی نے جان پر کھیل کرہندو مہاپنچایت کی رپورٹنگ کی

4 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ گراونڈ رپورٹ
A A
0
تجھے سلام! شیوانگی نے جان پر کھیل کرہندو مہاپنچایت کی رپورٹنگ کی
346
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

نئی دہلی :(ایجنسی)

اتوار 3 اپریل کو،میں اور میرے ساتھی رونق بھٹ صبح 9 بجے براڑی میدان کے لیے نکلے تھے۔ 10:30 پر جب ہم وہاں پہنچی تو لوگ گاڑیوں، بسوں اور بائیکوں سے جھنڈ کی شکل میں آرہے تھے۔

براڑی میدان میں اتوار کو ہندو مہاپنچایت کا انعقاد کیا جا رہا تھا۔ اس کے اہم منتظم سیوانڈیا فاؤنڈیشن کے بانی پریت سنگھ اور پنکی چودھری تھے۔ یتی نرسنگھانند سرسوتی اور سدرشن نیوزکے ایڈیٹر سریش چوہانکے خاص مقررین میں تھے۔

پروگرام شروع ہونے تک تقریباً500 لوگوں کی بھیڑ جمع ہو چکی تھی۔ سبھی مختلف تنظیموں جیسے ہندو رکشا دل، ہندو یووا واہنی، ہریانہ وقف لینڈ ہولڈرز ایسوسی ایشن وغیرہ سے تھے۔

جب ہم گراؤنڈ پر پہنچے، اسی وقت سے ہماری نگرانی کی جانے لگی۔ کچھ لوگ ہمیں مسلسل گھور رہے تھے اور ہاتھوں سے اشارے کر رہے تھے۔ شاید وہ ہمیں پہچان گئے تھے۔ میں نے گزشتہ سال 8 اگست کو جنتر منتر پر مسلم مخالف نعرے بازی اور اشتعال انگیز تقریر کی اطلاع دی تھی۔ اس رپورٹ کی بنیاد پر منتظمین پریت سنگھ، پنکی چودھری اور اتم اپادھیائے کو گرفتار کیا گیا تھا۔

ہم جہاں بھی جاتے، کچھ لوگوں کا ایک گروہ ہمارا پیچھا کر رہا تھا۔ احتیاط کے طور پر، ہم نے اپنے ماسک پہن رکھے تھے۔

پروگرام کا آغاز ہون سے ہوا۔ اس کے بعد مقررین نے اسٹیج پر بولنا شروع کیا۔ سب سے پہلے سدرشن نیوز کے سریش چوہانکے نے تقریر کی۔ انہوں نے اپنی تقریر میں بہت سی مسلم مخالف باتیں کہی جن میں سے ایک مسلمانوں کے حقوق واپس لینا بھی تھا۔ وہاں موجود لوگ تالیاں بجا کر ان کا ساتھ دے رہے تھے۔

اس دوران ڈاسنا مندر کے متنازع مہنت اور جونا اکھاڑہ کے مہامنڈلیشور یتی نرسنگھانند سرسوتی اسٹیج پر پہنچے۔ ان کے آتے بھیڑ میں نعرہ گونجنے لگا۔’’ جے شری رام ،ہر ہر مہادیو‘‘

گزشتہ سال 8 اگست کو مسلم مخالف نعرے بازی کیس میں میری رپورٹ کے بعد پریت سنگھ اور پنکی چودھری کے ساتھ ونونیت کرانتی اور اہم ملزم اتم اپادھیائے کو گرفتار کیا تھا۔ دہلی پولیس نے میرے ویڈیو کو بطور ثبوت اس کیس میں شامل کیا تھا۔ یہ سارے لوگ براڑی میدان میں موجود تھے ۔

اسٹیج پر اتم ملک شاید مجھے پہچان چکے تھے۔ مجھے دیکھ کر اس نے ہاتھ جوڑ لیے۔ اس دوران نیچے کرسی پر بیٹھا ایک اور ملزم ونیت کرانتی بھی مجھے مسلسل گھور رہا تھا۔ بے چین ہوکر میں نے اور رونق فوراً اس علاقے کو چھوڑ کر ،مین اسٹیج کی طرف جہاں، زیادہ لوگ تھے، وہاں چلے گئے ۔

آخر میں سیو انڈیا فاؤنڈیشن کے صدر اور تقریب کے مرکزی منتظم پریت سنگھ اسٹیج پر پہنچے۔ وہ ایک ایک کرکے اپنی 5 مانگیں عوام کے سامنے رکھتاہے۔ اس دوران میرے لیے ایک انتہائی ناگوار صورت حال پیدا ہو گئی۔ پریت سنگھ، جو اسٹیج سے تقریر کر رہے تھے، میری طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا، ’شیوانگی جی، کیا میں جو کہہ رہا ہوں اس میں کوئی نفرت انگیز تقریر ہے؟‘

یہ سنتے ہی سب مجھے گھورنے لگے۔ مجھے ڈر لگا لیکن میں خاموش کھڑا ویڈیو بناتا رہا۔ رونق اور میں نے فیصلہ کیا کہ ہم بھیڑ میں بیٹھے کچھ لوگوں سے بات کرنے کے بعد واپس چلے جائیں گے۔

ابھی ہم میڈیا کے لیے مختص علاقے سے باہر نکل رہے تھے کہ ایک فری لانس صحافی مہربان دوڑتا ہوا ہماری طرف آئے۔ وہ گھبرائے ہوئے تھے۔ مہربان ہم سے کہتے ہیں ’’جلدی چلئے ،کچھ رپورٹوروں کو پولیس پکڑ کر لے جارہی ہے ۔‘

اس واقعہ کو سمجھنے کے لیے ہم مہربان کے پیچھے بھاگے۔ رونق تھوڑا آگے نکل گیا تھا۔ میں پیچھے سے آرہی تھی۔ اسی دوران ایک آدمی نے مجھے روکا۔ وہ منتظمین کی ٹیم میں شامل تھے۔ انہوںنے کہا، ’’میں آپ کو اچھی طرح جانتا ہوں شیوانگی جی۔ پچھلے سال آپ کی وجہ سے لوگ ہمیں جاننے لگے۔ میں کچھ کہنے کے بجائے آگے بڑھ گئی۔

جب میں موقع پر پہنچی تو وہاں ہاتھا پائی ہو رہی تھی۔ پولیس کی پی سی آر وین کھڑی تھی۔ پولیس والے بھی کھڑے تھے۔ تبھی 15-20 لوگوں کے ہجوم نے مہربان کو کھینچ لیا۔

لوگ چیخ رہے تھے- ’’یہ صحافی نہیں ہیں۔ ان کی تلاشی لو۔ ان لوگوں کے پاس ہتھیار ہیں۔‘‘

رونق اور میں نے ویڈیوز بنانے لگے۔ میں نے کئی بار ایسے پروگراموں کو کوریج کیا ہے ۔ ویڈیو میں بھیڑ کا چہرہ ضروری ہوتا ہے۔ دیکھتے ہی دیکھتے اچانک بھیڑ نے رونق کو اپنی طرف کھینچ لیا۔ وہ بھیڑ میں گھر گیا، سب سے پہلے اس کا چشمہ نکال کر زمین پر پھینک دیا، پھر اس کا پریس آئی ڈی کارڈ مانگنے لگے۔ اس کے ہاتھوں سے سامان بھی چھین لیا گیا۔

Here is a tweet on what has happened today at #HinduMahapanchayat . I & my colleague rounak went to cover the event at Burari. I have reported on 28-01-2022 that NO permission was granted by the Delhi Police for this event https://t.co/F5e4zMPGq3

— Shivangi Saxena (@shivangi441) April 3, 2022

میں اس سب کی ویڈیو بنا رہی تھی۔ پھر 4-5 آدمی میرے پاس آئے۔ میرا بیگ پکڑ کر وہ مجھے پیچھے کی طرف کھینچنے لگے۔ ان میں سے دو آدمی میرے پیچھے کھڑے تھے، ایک نے بیگ پکڑا ہوا تھا اور ایک نے مجھے کندھے سے پکڑ رکھا تھا۔ ایک آدمی نے میرا ہاتھ پکڑا جس میں میں نے موبائل لیاہوا تھا۔ ایک آدمی میرا موبائل چھیننے لگا۔

کوئی کہہ رہا تھا- ’’اپنا پریس شناختی کارڈ دکھاؤ۔‘‘ کوئی کہہ رہا تھا- ’’موبائل میں ریکارڈنگ ڈیلیٹ کر دو۔ ہم ویڈیو بنانے کی اجازت نہیں دیں گے۔‘‘

پولیس میرے پاس کھڑی تھی، اس لیے مجھے یقین تھا کہ میں نے بھی اونچی آواز میں ان سے کہنا شروع کیا، ’میں اپنا پریس آئی ڈی کارڈ دکھاتی ہوں۔ لیکن آپ میرے ساتھ زبردستی نہیں کر سکتے ۔‘‘ مجھے امید تھی کہ پولیس مداخلت کرے گی، لیکن ایسا نہیں ہوا ۔

میرے احتجاج کے بعد ان لوگوں کی گرفت تھوڑی ہلکی ہوئی تو میں فوراً رونق کو دیکھنے کے لیے اس کی طرف بھاگی۔ میں نے دیکھا کہ پولیس کی پی سی آر وین میں 5 صحافی پیچھے بیٹھے تھے۔ یہ میر فیصل، مہربان، میگھناد، ارباب علی اور شاہد تھے۔

दिल्ली के बुराड़ी मैदान में आयोजित 'हिंदू महापंचायत' कार्यक्रम के दौरान @nlhindi की रिपोर्टर @shivangi441 और रौनक भट्ट के साथ हथापाई की गई. उनके सामान छीन लिया. इनके साथ कई दूसरे पत्रकारों को भी निशाना बनाया गया.

इसको लेकर हम मुखर्जी नगर थाने में शिकायत दर्ज करा रहे है. pic.twitter.com/BrjJ0YLekk

— Newslaundry Hindi (@nlhindi) April 3, 2022

دی کوئنٹ کے صحافی میگھناد نے مجھے کھڑکی کے اندر سے بتایا کہ اسے پولیس اسٹیشن لے جایا جا رہا ہے۔

پی سی آر نے انہیں لے کرنکل گئی ۔ میں اور رونق تھوڑی دیر وہیں رک گئے کیونکہ رونق کو جس بھیڑ نے گھیرا تھا وہ اس کاپریس آئی ڈی لے کر بھاگ گئی تھی۔

وہاں موجود پولیس والوں نے ہم سے پوچھ گچھ کی۔ ہم سے بھیڑ میں شامل لوگوں کے نام پوچھے۔ کچھ ہی دیر بعد ہم مکھرجی نگر تھانے پہنچ گئے۔ دی کوئنٹ کے میگھناد بوس، ہندوستان گزٹ کے میر فیصل، آرٹیکل 14 کے ارباب علی اور مہربان ہمارے ساتھ تھانے میں موجود تھے۔ ہم نے پولیس میں اپنی تحریری شکایت درج کرائی۔ اس وقت ڈی سی پی (نارتھ ویسٹ) اور ایس ایچ او بھی وہاں موجود تھے۔

میر اور ارباب زخمی ہو گئے تھے۔ بعد میں اس کا میڈیکل ٹیسٹ ہوا۔ میر نے کہا، ’میں اور ارباب کوریج کر رہے تھے۔ ہم لوگوں سے انٹرویو کر رہے تھے۔ کام ختم کر کے ہم وہیں کرسی پر بیٹھ گئے۔ پھر لوگوں کے ایک گروپ نے مجھے گھیر لیا۔‘

میر کا الزام ہے کہ ہجوم نے ان کا کیمرہ چھین لیا۔ وہ کہتے ہیں، ’بھیڑ میں سے ایک شخص نے مجھ سے میرا نام پوچھا۔ میں نے اسے بتایا کہ میرا نام ’میر فیصل‘ ہے۔ وہ سمجھ گئے کہ میں مسلمان ہوں۔ انہوں نے مزید پوچھا کہ میں کہاں سے آیا ہوں۔ میں نے اوکھلا سے کہا۔ یہ سنتے ہی انہوں نے خود کہا ’اچھا جامعہ نگر‘۔ اس کے بعد اس نے مجھ سے میری پریس آئی ڈی مانگی۔

میر اس واقعے کے بارے میں مزید بتاتے ہیں، ’’میں نے حال ہی میں ایک نئی تنظیم میں کام شروع کیا ہے اس لیے میرے پاس دکھانے کے لیے شناختی کارڈ نہیں تھا لیکن موبائل میں ایک تصویر تھی۔ میرے ساتھ ارباب بھی تھا۔ میں نے انہیں اپنا بیگ بھی دیا کہ اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔‘‘

بھیڑ نے میر کا بیگ اپنے پاس رکھ لیا۔ میر کہتے ہیں، ’جیسے ہی ہم نے 20 لوگوں کو اپنے ارد گرد کھڑے دیکھا۔ وہ ہم پر الزام لگانے لگے کہ آپ یہاں ایجنڈے کے لیے آئے ہیں۔ انہوں نے میرے بیگ کی تلاشی لی۔ بیگ میں مسلم ناموں کی فہرست تھی۔ یہ وہ نام تھے جن پر مجھے اپنی اگلی کہانیاں کرنی تھیں۔‘

آگے کی کہانی ارباب بتاتے ہیں، ’’پولیس بھیڑ کو دیکھ کر آئی، اس کے باوجود بھیڑ نے ہمیں ان کے سامنے مارنا شروع کر دیا۔ دھکیل دیا وہ کہہ رہے تھے کہ ان دونوں کو پولیس والوں کو نہ دو، انہیں اسی طرح مارو۔ یہ جہادی ہیں، یہ ملا ہیں۔‘‘

ارباب کہتے ہیں، ’ہجوم نے میرا موبائل چھین لیا اور 7-8 لوگوں سے کہا کہ ہم پر نظر رکھیں اور ہمیں وہاں سے جانے نہ دیں۔ انہوں نے زبردستی میرے فون سے ویڈیوز ڈیلیٹ کرنا شروع کر دیں۔ کافی دیر تک پولیس صرف ہمیں دیکھتی رہی۔ کچھ کر نہیں رہی تھی۔‘

اس دوران مہربان میر اور ارباب سے چند میٹر کے فاصلے پر کھڑا تھا۔ اسے ڈر تھا کہ اگر وہ اسے بچانے گیا تو ہجوم اس پر بھی حملہ کر دے گا۔

مہربان کہتے ہیں، ’’وہ میر اور ارباب کو ہراساں کر رہے تھے۔ مجھے ڈر تھا کہ مسلمان ہونے کی وجہ سے مجھ پر حملہ کیا جائے گا۔ جب میں نے محسوس کیا کہ معاملات آگے بڑھ رہے ہیں تو میں نے میگھناد کو فون کیا۔ میگھناد نے مجھ سے باقی صحافیوں کو بلانے کو کہا۔

میگھناد کو بھی پی سی آر وین میں تھانے لایا گیا۔ میگھناد نے ہمیں بتایا، ’ہجوم جارحانہ تھا۔ انہوں نے ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھے پولیس اہلکار کو بھی گھسیٹ کر مار ا پیٹا کیونکہ وہ سول ڈریس میں تھے۔‘

میگھناد کے ٹویٹس میں سے ایک کو ڈی سی پی (نارتھ ویسٹ) اوشا رنگنی نے ’جھوٹا‘ قرار دیا۔

Brieffacts:Some of the reporters, willingly,on their own free will,to evade the crowd which was getting agitated by their presence,sat in PCR Van stationed at the venue and opted to proceed to Police Stn for security reasons. No one was detained.Due police protection was provided https://t.co/zl7XyDpNE9

— DCP North-West Delhi (@DCP_NorthWest) April 3, 2022

انہوں نے کہا کہ ہم نے کسی بھی صحافی کو حراست میں نہیں لیا۔ کچھ صحافی رضاکارانہ طور پراپنی مرضی سے بھیڑ سے بچنے کے ، جو ان کی موجودگی سے مشتعل ہو رہی تھی ، پروگرام کی جگہ پر تعینات پی سی آر وین میں بیٹھ گئے اور سیکورٹی وجوہات کی بناپر پولیس اسٹین جانے کا متبادل انتخاب کیا۔

جبکہ حقیقت میں میری موجودگی میں پولیس صحافیوں کو پی سی آر وین میں بٹھا رہی تھی۔ انہوں نے ہجوم میں سے کسی ایک شخص کو بھی حراست میں نہیں لیا۔

نیوز لانڈری نے شام 4 بجے مکھرجی نگر پولیس اسٹیشن میں دفعہ 354، 323، 356، 511 اور 34 کے تحت ایف آئی آر درج کرائی ہے۔ اس کے علاوہ میر فیصل، ارباب اور مہربان نے میڈیکل کے بعد الگ الگ ایف آئی آر درج کرائی ہے۔

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

ہم متبادل ورلڈ آرڈر کے حق میں، ٹیرف متاثرین کے لیے سرکار ہر ضروری قدم اٹھائے: امیر جماعت
گراونڈ رپورٹ

ہم متبادل ورلڈ آرڈر کے حق میں، ٹیرف متاثرین کے لیے سرکار ہر ضروری قدم اٹھائے: امیر جماعت

06 ستمبر
سنبھل فساد کی تحقیقاتی رپورٹ میں ایسا کیا ہے کہ یوگی حکومت پر اٹھے سوال دبا دیئے گیے؟
گراونڈ رپورٹ

سنبھل فساد کی تحقیقاتی رپورٹ میں ایسا کیا ہے کہ یوگی حکومت پر اٹھے سوال دبا دیئے گیے؟

01 ستمبر
آسام:بنگالی بولنے والے مسلمانوں کے خلاف نفرت وتشدد میں بےحد اضافہ:India Hate Lab نے نیا ڈیٹا جاری کیا
گراونڈ رپورٹ

آسام:بنگالی بولنے والے مسلمانوں کے خلاف نفرت وتشدد میں بےحد اضافہ:India Hate Lab نے نیا ڈیٹا جاری کیا

03 اگست
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
Humayun Kabir Owaisi Video Row

ہمایوں کبیر کے خفیہ ویڈیو نے اویسی پر بی جے پی کی بی ٹیم کے الزام کو تقویت دی، اتحاد ٹوٹا ، سیاسی بصیرت پر بھی سوال

اپریل 10, 2026
یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

اپریل 10, 2026
DD News Anchor Controversy News

پبلک ٹیکس سے چلنے والے ‘ڈی ڈی نیوز’ کے اینکر نے کہا” ساورکر کے چپل کی دھول بھی نہیں راہل گادھی

اپریل 13, 2026
طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

ستمبر 19, 2021
امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

اپریل 21, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

اپریل 19, 2026

حالیہ خبریں

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN