اردو
हिन्दी
مئی 9, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

ہندوؤں کو اقلیت قرار دینے کا شوشہ

4 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ فکر ونظر, مضامین
A A
0
ہندوؤں کو اقلیت قرار دینے کا شوشہ
66
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

تحریر:مولانا عبد الحمید نعمانی

یہ تو طے ہے کہ ملک میں اکثریت ، اقلیت کا وجود ہے ،لیکن اسے فرقہ وارانہ نفرت کے لیے استعمال کر نا سیکولر اور جمہوری نظام حکومت سے متصادم ہے۔ کمال کی بات ہے کہ متضاد باتوں کی سیاست ملک میں زوروں پر ہے۔ اس کی ایک مثال ملک میں اکثریت و اقلیت کی تقسیم ختم کرنے کی حمایت اور پھر اکثریت سے تعلق رکھنے والے ہندوؤں کو ملک کی کچھ ریاستوں میں اقلیت کا درجہ دینے کی وکالت و حمایت کا مسئلہ ہے ، اس کا واحد مقصد ملک میں ہندو مسلم کے نام پر نفرت کی سیاست کا فروغ اور اس کے عوام کی توجہ ، اصل بنیادی مسائل سے ہٹائے رکھنا ہے ۔ اس کے لیے میڈیا کابھر پور غلط استعمال ہے ۔ بی ، جے پی کے لیڈر اشونی اپادھیائے نے سپریم کورٹ میں ایک رٹ داخل کر کے کہا کہ ملک کی 10ریاستوں میں ہندو اقلیت ہیں لیکن وہاں ہندوؤں کی جگہ مقامی اکثریت کوہی اقلیت کے لیے فلاحی پروگراموں کا فائدہ دیا جارہا ہے ۔ اشونی اپادھیائے ، اسلام اور مسلمانوں کے متعلق کوئی بہتر اور پختہ جانکاری نہیں رکھتے ہیں ،حتی کہ بھارت کی روایات اور تاریخ کی مستند معلومات بھی نہیں ہیں ، ان سے ہمیں بارہا مختلف مسائل پر ٹی وی مباحث میں تبادلہ خیالات کے مواقع ملے ہیں ، وہ عموماً ضروری سوالات کے جوابات بھی گول کر جاتے ہیں ۔

ڈاکٹر موہن راؤ بھاگوت بھی مسلمانوں کے متعلق موافق و متضاد باتیں کرتے نظر آتے ہیں ، اشونی اپادھیائے جیسے لوگ تو سنگھ وغیرہ کے ادنی زمرے میں آتے ہیں ، وہ بیک وقت اپنے دعوے کی توثیق و وکالت اور تردید و تکذیب کرتے نظر آتے ہیں ، اقلیت و اکثریت کی تعبیر و تشریح ، آئین کے پیش نظر ، پارلیمنٹ اور اعلیٰ و عظمی عدالتوں سے ہو سکتی ہے ۔ درجہ بندی و تعریف و تعبیر کا عمل یا تو مرکز کی سطح پر ہو یا ریاست یا ضلع وار، کسی بھی سطح پر ہو، اس کی راہ میں مسلمان کوئی رکاوٹ نہیں ہیں ، اکثریت واقلیت کا تعین ملک گیر سطح پر عملی و عر فی لحاظ سے ہو چکا ہے ، عدالت کے کئی فیصلے بھی ہوئے ہیں ، مرکزی قومی اقلیتی کمیشن اور ریاستی اقلیتی کمیشنوں کی تشکیل کو کسی طرح بھی غیر آئینی قرار نہیں دیا جا سکتا ہے ۔ بھارت کے آئین میں غیر مذکور امور کے وجود کو آئین مخالف بتانا غیر ذمے دارانہ عمل ہے ۔ قومی اقلیتی کمیشن وغیرہ مرکزی سرکار کا تشکیل کر دہ ہے اور یہ موجودہ مرکزی سرکار میں موجود ہے اور وزارت برائے اقلیت بھی ہے ۔ اس کے باوجود کسی بی ، جے پی لیڈر کی طرف سے اقلیت کے وجود اور اس کے مسائل کو دیکھنے اور حل کرنے کے لیے تشکیل کردہ وزارت اور ادارے کو ختم کرنے کا مطالبہ اور قانونی چارہ جوئی و جدو جہد قطعی نا قابل فہم ہے اور اس سے زیادہ ناقابل فہم یہ ہے کہ ایسی جدو جہد میں مصرو ف آدمی پارٹی ہی میں بنا ہوا ہے ۔ اس سے اس شبہ کو تقویت ملتی ہے کہ متضاد باتوں کا استعمال خصوصی منصوبے کے تحت کیا جا رہا ہے ۔

ایک طرف ملک کے تمام باشندوں کو ہندو قرار دینے کی تشہیر کی جارہی ہے اور ساتھ ہی شمال مشرق کی ریاستوں کے عوام اور پنجاب کے سکھوں کو ہندو زمرے میں ہونے کی باتیں ہوتی ہیں تو دوسری طرف ہندوؤں کو اقلیت کا درجہ دے کر اس کے لیے بنائے فلاحی پروگراموں اور تعلیمی اداروں کو قائم کر کے اپنے حساب سے چلانے کی آزادی سے استفادے کی وکالت و حمایت بھی کی جاتی ہے ۔ اس تضاد و تعصب کو ہر کوئی حتی کہ موجودہ مرکزی سرکار اور اس کے تحت قائم ادارے اور وزارت برائے اقلیت نے بھی محسوس کیا ہے ، یہ اقلیتی وزارت اور قومی اقلیتی کمیشن کے جواب سے بھی پوری طرح واضح ہو جاتا ہے ، جن نو دس ریاستوں کشمیر، لداخ، لکشدیپ ، میزورم ، ناگالینڈ، میگھالیہ ، ارونا چل پر دیش، منی پور، پنجاب وغیرہ میں ہندوؤں کو اقلیت قرار دے کران کے لیے مراعات و سہولیات کا مطالبہ کیا گیا ہے تو ان کے علاوہ دیگر ریاستوں میں مسلم اور دیگر اقلیتوں کو بہ طور اقلیت تسلیم کرنے میں دقت کیوں ہے اور ہندو اقلیت کے نام پر مسلم اقلیت کو ہندو اکثریت کی ریاستوں میں نشانہ بنانے کا جواز وو جہ کیا ہے؟ اس پہلو پر بھی توجہ کی ضرورت ہے، اگر آئین میں اقلیت کی تعریف و تعین نہیں ہے تو ہندو کی بھی آئین سے لے کر معروف ہندو اصل دھرم گرنتھوں تک میں کوئی تعریف و تعین نہیں ملتی ہے لیکن ملک کے شہریوں اور باشندے ہونے کے ناتے سب کے حقوق و اختیارات ملے ہوئے ہیں اور اسی حوالے سے آئین نے آزادی و تحفظ کا بندو بست کیا ہے ، یہ مرکزی سرکاراورعدلیہ کے دائرہ اختیار میں ہے کہ وہ آئین کے تحت اقلیتوں کی شناخت و تعین کر کے ان کے حقوق و اختیارات کی بقاءو تحفظ کرے، مرکز سرکار نے کہہ بھی دیا ہے کہ ریاستی سرکار یں اپنے یہاں کی اقلیتی آبادی کی پہچان کر سکتی ہیں ، قومی اقلیتی ادارہ جات ایکٹ 2004 ءکہتا ہے کہ ریاستی سرکار بھی ریاست کی حد میں مذہبی و لسانی اکائیوں کو اقلیت قرار دے سکتی ہے۔ 2016ءمیں مہاراشٹر سرکار کی حد میں یہودیوں کو اقلیت قرار دیا ہے۔ جب کہ کرناٹک سرکار نے اردو، تیلگو، تامل، ملیالم ، مراٹھی ، کوکنی، گجراتی وغیرہ زبانوں کو اپنی حد میں اقلیتی زبانوں کے طور پر درج کیا ہے۔ وزارت برائے اقلیتی امور نے اشونی اپادھیائے کے اس دعوے کو غلط قرار دیا ہے کہ نو، دس ریاستوں میں حقیقی اقلیت کو اپنی پسند سے تعلیمی ادارے کا قیام اور انہیں چلانہیں سکتے ہیں ،مذکورہ ریاستوں میں شناخت کردہ اقلیتوں یہودی،ہندو کے لیے کوئی رکاوٹ نہیں ہے ۔ 2002ءمیں سپریم کورٹ نے بھی ٹی ایم اے پائی فاؤنڈیشن کے معاملے میں فیصلہ دیا تھا کہ ریاست کو اپنی حد میں اقلیتی اداروں کو ملک کے مفاد میں اعلیٰ تعلیم مہیا کرانے کے لیے ضابطے کے تحت اختیار حاصل ہے، بی ، جے پی لیڈر کے اقلیتی کمیشن کے وجود کو حق مساوات کی خلاف ورزی قرار دینے کے الزام کو مرکزی سرکار کے جواب میں مسترد کر دیا گیا ہے ۔ اقلیتوں میں بھی صرف محروم طبقات کے طلبہ کو ہی فلاحی منصوبوں کا فائدہ دیا جاتا ہے۔

پوری کمیونٹی کو نہیں ۔ اسی طرح اقلیتوں کے لیے قومی اقلیتی کمیشن ایکٹ 1992 نہ تو من مانا ہے اور نہ بے جواز ہے اور نہ ہی آئین کی کسی دفعہ کی خلاف ورزی ہے ،اقلیتی تعلیمی ادارہ جات ایکٹ کی دفعہ 2(ایف) مرکزی سرکار کو اختیار دیتی ہے کہ وہ ملک میں اقلیتوں کی شناخت کرکے انھیں اقلیت کا درجہ دے ،مرکزی سرکار نے 29اکتوبر2004ء کو مذہبی اور لسانی اقلیتوں کے لیے قومی کمیشن کی تشکیل کا وعدہ کیا اور کمیشن کے متعلق شرطیں،مذہبی ولسانی اقلیتوں کے درمیان سماجی اور اقتصادی طور سے پس ماندہ طبقات کی پہچان کے لیے پیمانہ بتانے کے لیے تھیں، وزارت برائے اقلیتی امور کا قیام، مثبت کارروائی اور مشترکہ ترقی کے ذریعے اقلیتوں کی سماجی ،اقتصادی حالت میں بہتری کے لیے کیا گیا تھا، تاکہ ہر شہری کو جاندار وطن کی تعمیر میں سرگرم حصہ لینے کا مساوی موقع ملے، اقلیتوں کے لیے قومی کمیشن ایکٹ 1992 کو پارلیمنٹ نے آئین کی دفعہ 246 کے تحت لاگو کیا ہے۔ ان باتوں کی موجودگی میں ، ہندوؤں کے اقلیت ہونے کا شوشہ چھوڑ کر مسلم آبادی کو نشانہ بنانے کا مقصد بہت واضح ہے ، ہندوتو وادیوں کی طرف سے اٹھائے مسائل کا ملک کے مجموعی مفاد میں تجزیہ و مطالعہ بہت ضروری ہو جاتا ہے ۔

(یہ مضمون نگار کے ذاتی خیالات ہیں)

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

US Iran War Strategic Defeat News
مضامین

امریکہ – اسرائیل – ایران جنگ میں امریکہ کی اسٹریٹجک ہار پہلے سے طے

23 مارچ
Hormuz Strait Iran Speech
مضامین

ایران میں قیادت کی تبدیلی اور مجتبیٰ خامنہ ای: ایک تجزیاتی مطالعہ

12 مارچ
Modi Israel Gaza Questions Debate
مضامین

پی ایم مودی کے دورہ اسرائیل میں غزہ کے مصائب کا ذکر تک نہ ہونے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ کیا چاہتا ہے بھارت ؟

28 فروری
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
Humayun Kabir Owaisi Video Row

ہمایوں کبیر کے خفیہ ویڈیو نے اویسی پر بی جے پی کی بی ٹیم کے الزام کو تقویت دی، اتحاد ٹوٹا ، سیاسی بصیرت پر بھی سوال

اپریل 10, 2026
طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

ستمبر 19, 2021
یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

اپریل 10, 2026
DD News Anchor Controversy News

پبلک ٹیکس سے چلنے والے ‘ڈی ڈی نیوز’ کے اینکر نے کہا” ساورکر کے چپل کی دھول بھی نہیں راہل گادھی

اپریل 13, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

اپریل 21, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

اپریل 19, 2026

حالیہ خبریں

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN