اردو
हिन्दी
مئی 9, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

این آر سی کی ذلت کے بعد سی اے اے کی رسوائی

4 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ فکر ونظر, مضامین
A A
0
این آر سی کی ذلت کے بعد سی اے اے کی رسوائی
63
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

تحریر:ڈاکٹر سلیم خان

11 دسمبر 2019 کو سی اے اے (شہریت ترمیمی ایکٹ) منظور ہو اور اس کے خلاف ملک گیر تاریخی احتجاج نے حکومت کی چولیں ہلا دیں۔ شاہین باغ تحریک کی کامیابی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے این آر سی کے خلاف ملک کی گیارہ ریاستوں نے قانون سازی کی جن میں بی جے پی کی مدد سے قائم بہار اورکیجریوال کی دہلی سرکار بھی شامل تھی۔ اس وقت کرونو لوجی بتاکر مسلمانوں کو ڈرانے کی کوشش کرنے والے وزیر داخلہ جب خود ڈر گئے تو انہوں نے اپنی مدافعت میں کہنا شروع کردیا کہ اس قانون کا ہندوستان کےمسلمانوں سے کوئی تعلق ہی نہیں ہے ۔ یہ تو پڑوسی ممالک کی مظلوم اقلیتوں کوپناہ دینے کے لیے بنایا گیاہے۔ ان کی یہ بات درست ہوتی اگر پڑوسی ممالک کی فہرست سے سری لنکا ، میانمار اور چین کو خارج نہیں کیا جاتا اور اقلیتوں کے اندر سے مسلمانوں کو نکالا نہیں جاتا۔ وہ دراصل مسلم ممالک کو بدنام کرکے ہندو رائے دہندگان کو احمق بنانے کی ایک چال تھی۔ اس کے سبب میانمار ، سری لنکا اور چین کے ہندو اور بودھوں کے ساتھ بھی ناانصافی ہوئی تھی لیکن اس عدم مساوات کے خلاف آواز اٹھانے کا بیڑہ مسلمانوں نے اٹھایا اور سرکار کو اسے ٹھنڈے بستے میں ٖڈالنے مجبور کردیا لیکن راجستھان سے ہندووں کی پاکستان واپسی نے مودی سرکار کو پوری طرح برہنہ کردیا۔

سی اے اے قانون کی ترمیم کے بعد جنوری 28, 2020 کو نئی دہلی میں نیشنل کیڈٹ کور کی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا تھا کہ نہرو لیاقت معاہدہ کہتا ہے کہ اقلیتوں کو تحفظ فراہم کیا جائے اور مہاتما گاندھی کی بھی یہی خواہش تھی۔ حکومت نے شہریت ترمیمی قانون متعارف کرا کے ان وعدوں کو پورا کیا ہے۔ یہ وعدہ اگر پورا کیا گیا ہوتا تو راجستھان سے ہندو مہاجر کیوں لوٹتے؟ وزیر اعظم نے متنازع شہریت قانون کا دفاع کرتے ہوئے یہاں تک کہا تھا کہ حکومت نے شہریت ترمیمی ایکٹ کے ذریعے تاریخی ناانصافی کو درست کیا ہے حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ اس قانون کے بغیر جو کچھ کانگریس کی حکومت نے ان کو پناہ گزینوں کے لیے کیا تھا وہ بھی یہ منافق حکومت نے چھین لیا ۔ اس قانون کا مقصد تو صرف سیاسی فائدہ اٹھانا تھالیکن اس میں بھی وہ ناکام رہی ۔ دہلی کے ریاستی انتخاب میں لاکھ کوشش کے باوجود اسے اوندھٖے منہ گرنا پڑا۔

مودی سرکار کے اس پاکھنڈ پر اگر جزب اختلاف اعتراض کرتا تو اسے سیاسی مخاصمت کا نام دیا جاسکتا تھا لیکن بھلا ہو سبرا منیم سوامی کا کہ انہوں نے ٹویٹ پر ببانگ دہل اپنی ہی پارٹی کی حکومت کو بے نقاب کردیا۔ موصوف ایوان بالا میں بی جے پی کے رکن ہیں اور اپنے آپ کو کسی ہندو ہردیہ سمراٹ سے کم نہیں سمجھتے ۔ انہوں نے لکھا بی جے پی سرکار کے لیے یہ کتنے شرم کی بات ہے کہ پاکستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا شکار تقریباً 800 لوگوں کو جو ہندوستانی شہری بننے کی امید میں یہاں آئے تھے ،مودی سرکار کی سی اے اے پر غیر کارروائی سے دھوکہ ملا ہے ۔ وہ بے حد غمزدہ ہوکر پاکستان چلے گئے۔ ویسے اس پیغام کا آخری حصہ سوامی جی کے ذہن کی اختراع ہے کیونکہ کون خوشی یا ناراضی سے کیا کرتا ہے اس بابت وہی بتا سکتا ہے اس کا وکیل یا ایسا حامی نہیں جس کا کوئی مفاد وابستہ ہو۔ آگے چل کر واپس جانے یہ انکشاف بھی کرسکتے ہیں کہ ملک میں بڑھتی بیروزگاری اور مہنگائی نے انہیں اپنی غلطی کا احساس دلایا اور اچھے دنوں کے تئیں مویوسی انہیں واپس لے گئی ۔ خیر وجہ جو بھی جو ہونا تھا سو ہوچکا ساتھ سرکار کی بدنامی بھی ہوگئی۔

اس معاملہ نے آسام کے اندر تیار کیے جانے والے قومی شہری اندراج (این آرسی) کی یاد تازہ کردی ۔ آسام میں ہزاروں کروڑ روپے کے اخراجات سے جو این آر سی تیار کیا گیا اس کے مطابق 19 لاکھ افراد لوگوں کو اس میں جگہ نہیں ملی ۔ ایسے لوگوں کو آگے چل کر بنگلا دیش بھیجا جانا تھا لیکن اگر وہ انہیں قبول کرنے سے انکار کردے تو ان کے لیے عقوبت خانے تیار کیے جاچکے تھے لیکن اس رجسٹر کو کوڑے دان کی نذرکرنا پڑا۔ اس کی وجہ پورے ملک میں اس کے خلاف ہونے والا احتجاج نہیں تھا بلکہ یہ انکشاف تھا کہ ان 19 لاکھ بدنصیب لوگوں میں سے 13 لاکھ ہندوتھے۔ اس سے شاہ جی کے قدموں تلے سے زمین کھسک گئی ۔ وہ پروپگنڈا کے بنگلا دیشی مسلمانوں نے آسام میں دراندازی کی ہے جھوٹا ثابت ہوگیا اور سرکار کی زبردست رسوائی ہوئی ۔ مشرق کےآسام میں این آر سی کے حوالے سے ذلت ہا تھ آئی تھی اورمغربی راجستھان میں سی اے اے نے مسکنت کا شکار کیا ۔

ہندوستان میں پاکستانی اقلیتی پناہ گزینوں کے مفادات کے لیے کام کرنے والی سماجی تنظیم ’سیمانت لوک سنگھٹن‘ (ایس ایل ایس) کے صدر ہندو سنگھ سوڈھا کو خدشہ ہے کہ پاکستانی ایجنسیاں ان لوٹنے والوں کا استعمال ہندوستان کو بدنام کرنے کے لیے کریں گی۔ انہیں میڈیا کے سامنے لاکر ایسے بیانات دینے پر مجبور کیا جائے گا کہ ہندوستان کے اندر ان کے ساتھ بہت برا سلوک کیا گیا لیکن اس میں کیا غلط ہے؟ ان کے ساتھ تو وعدہ خلافی کی گئی اگر مودی سرکار اپنا عہد پورا کرتی تو وہ لوٹ کر کیوں جاتے؟ہندوستان کی وزارت داخلہ نے سن 2018ء میں شہریت کے حصول کے لیے آن لائن درخواستیں وصول کرنے کا سلسلہ شروع کیا ۔ سات ریاستوں میں 16ضلعی کلکٹروں کو پاکستان، افغانستان اور بنگلہ دیش سے آنے والے ہندوؤں، سکھوں، مسیحیوں، پارسیوں ،جین اور بدھ مت کے ماننے والوں کو بھارتی شہریت دیئے جانے کی ذمہ داری سونپی گئی ۔ مئی 2021ء میں گجرات، چھتیس گڑھ، راجستھان، ہریانہ اور پنجاب کے مزید 13 اضلا ع کے حکام کو یہ اختیارات دیئے گئے لیکن کوئی اپنی ذمہ داری کرے تو عوام کا بھلا ہو۔

آن لائن ویب پورٹل کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ درخواست دہندگان کے ایسے پاکستانی پاسپورٹ تسلیم نہیں کرتاہے جن کی مدت ختم ہو چکی ہے۔ اس وجہ سے ان ہندو پاکستانیوں کو اپنے پاسپورٹ کی تجدید کے لیے دہلی میں پاکستانی ہائی کمیشن جا کر بھاری فیس ادا کرنی پڑتی ہے۔ آن لائن درخواست دینے کے باوجود متعلقہ کلکٹر کے پاس جاکر بھی دستاویزات جمع کرانا پڑتے ہیں، جو کہ ایک اضافی بوجھ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وزارت داخلہ کو دسمبر 2021ء میں ایوانِ پارلیمان کے اندر بتانا پڑا، آن لائن طریقہ کار کے مطابق اس وزارت کے پاس 10365 درخواستیں زیر التوا ہیں۔ ان میں سے 7306درخواستیں پاکستانی درخواست دہندگان کی ہیں لیکن سوڈھا کہتے ہیں کہ بہت سارے لوگوں براہِ راست درخواست دی یا دی ہی نہیں ۔ ان کی تعداد جوڑیں تو صرف راجستھان میں ہی 25 ہزار پاکستانی ہندو شہریت کے منتظر ہیں۔ ان میں سے بعض تو گزشتہ دو دہائیوں سے انتظار میں ہیں۔

نئے قوانین کے مطابق دسمبر 2014ء یا اس سے قبل مذہب کے نام پر زیادتیوں کی وجہ سے بھارت آنے والے غیر ملکی تارکین وطن کے قیام کو قانونی کیا جاچکا ہے۔ ایسے غیر ملکیوں کو پاسپورٹ کی مدت ختم ہو نے کے باوجود ضابطوں میں رعایت دی گئی ہے لیکن واپس جانے والوں نے ان کو ٹھکرا دیا۔ ان لوگوں کی آزمائش کا سلسلہ نیا نہیں ہے ۔ ستمبر 2012 میں بھی وہ ہندوسنگھ سودھا کی قیادت میں احتجاج کرچکے ہیں ۔اس وقت راجستھان کے وزیر اعلیٰ اشوک گہلوت نے ان کے مسائل کے حل کا یقین دلایا تھا لیکن وہ وعدۂ فردا بنا رہا۔ شہریت ترمیمی قوانین کے بعد ان بیچاروں نے بڑا جشن منایا لیکن ان کے ہاتھ مایوسی ہی آئی۔ نومبر 2019 کو سندھ کے تھار پارکر سے۶ ؍ سال قبل آ کر بسنے والے تین پناہ گزینوں کو واپس جانے کا نوٹس پکڑا دیا گیا۔ اس خاندان کی ایک دوشیزہ پوجانے جس کی شادی طے ہوچکی تھی کہا کہ میں مر جاوں گی لیکن واپس نہیں جاوں گی۔ پرمیشوری نے دھمکی دی تھی کہ اگر ان کے شوہر کو بھیجا گیا تو پورا خاندان خودکشی کرلے گا۔ ان کاکہنا تھا کہ اگر ہم نے قانون کی خلاف ورزی کی ہے تو ہمیں جیل میں ڈالو مگر وپس نہ بھیجو۔ اب سوال یہ ہے کہ دو سال میں ایسا کیا ہوگیا کہ لوٹنے لگے ؟ اس سوال کا جواب مودی جی کو دینا ہوگا۔

پاکستان کے اندر پچھلے سال ایک مندر کی بے حرمتی کا معاملہ پیش آیا تھا ۔ عدالت نے اس پر سخت سرزنش کی ۔ اس موقع پر سابق وزیر فواد چودھری نے کہا تھا ’’پاکستان ، ہندوستان نہیں ہے۔ یہاں کوئی فسطائی نظریہ حکومت نہیں کرسکتا۔ہمارے لیے سفید رنگ بھی سبز کے برابر کی اہمیت کا حامل ہے۔ ہمارے پرچم میں سفید رنگ پاکستان میں بسنے والے اقلیتوں کے حقوق کی نمائندگی کرتا ہے۔ پاکستان کا مستقبل ایک ایسے ترقی یافتہ ملک کا ہے جہاں اقلیتوں کے حقوق پوری طرح محفوظ ہوں‘‘ ۔اس طرح کا دعویٰ اگر امیت شاہ کر دیں تو سننے والوں کا ہنس ہنس کر پیٹ پھول جائے۔راجستھان میں جو کچھ ہوا اس کی ابتدا منموہن سرکار کے زمانے میں ہوئی تھی ۔ سال 2011 میں کانگریس کے تحت یوپی اے حکومت نے خاموشی کے ساتھ بغیرکسی شور شرابے کے پاکستان میں مظالم کا شکار لوگوں کو طویل المدتی ویزا دینے کا فیصلہ کیا تھا ۔ اس دوران اور مابعد کثیر تعداد میں ہندو اور سکھ سماج کے لوگ ہندوستان میں نقل مکانی کرکے آن بسے ۔ ہندوستان میں پاکستانی اقلیتی پناہ گزینوں کے مفادات کے لیے کام کرنے والی سماجی تنظیم ایس ایل ایس کے مطابق شہریت کے حصول کے لیے اپنی درخواستوں پر کئی برسوں تک کوئی پیش رفت نہ ہونے کے سبب بیشتر پاکستانی ہندو واپس وطن لوٹ رہے ہیں۔ یعنی مودی سرکار نے ایک متنازع قانون بنا کر اس کا سیاسی فائدہ تو خوب اٹھایا مگر جن ہندووں کو کانگریس نے بسایا تھا انہیں اجاڑ دیا۔ یہ ہے اصل ’گھر واپسی ‘ جس کا سہرا اکھنڈ بھارت بنانے کا خواب دیکھنے والی آر یس ایس کے بغل بچہ مودی سرکار کے سر ہے۔

(یہ مضمون نگار کے ذاتی خیالات ہیں)

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

US Iran War Strategic Defeat News
مضامین

امریکہ – اسرائیل – ایران جنگ میں امریکہ کی اسٹریٹجک ہار پہلے سے طے

23 مارچ
Hormuz Strait Iran Speech
مضامین

ایران میں قیادت کی تبدیلی اور مجتبیٰ خامنہ ای: ایک تجزیاتی مطالعہ

12 مارچ
Modi Israel Gaza Questions Debate
مضامین

پی ایم مودی کے دورہ اسرائیل میں غزہ کے مصائب کا ذکر تک نہ ہونے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ کیا چاہتا ہے بھارت ؟

28 فروری
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
Humayun Kabir Owaisi Video Row

ہمایوں کبیر کے خفیہ ویڈیو نے اویسی پر بی جے پی کی بی ٹیم کے الزام کو تقویت دی، اتحاد ٹوٹا ، سیاسی بصیرت پر بھی سوال

اپریل 10, 2026
طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

ستمبر 19, 2021
یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

اپریل 10, 2026
DD News Anchor Controversy News

پبلک ٹیکس سے چلنے والے ‘ڈی ڈی نیوز’ کے اینکر نے کہا” ساورکر کے چپل کی دھول بھی نہیں راہل گادھی

اپریل 13, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

اپریل 21, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

اپریل 19, 2026

حالیہ خبریں

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN